میثاق جمہوریت کی روح شرمندہ دکھائی دے رہی ہے


 

میثاق جمہوریت محترمہ بے نظیر اور نواز شریف کے درمیاں ہوا تھا اور لگتا یوں ہے کہ اس کی اہمیت اور اس کو سمجھنے کی صلاحیت بھی صرف ان دو شخصیات کے پاس ہی تھی جن میں سے ایک لقمہ اجل بن گئیں اور دوسرا اقتدار سے زبردستی نکال دیا گیا۔ لیکن اب لگتا یوں ہے کہ نواز شریف بھی کچھ کچھ بھولتے جارہے ہیں۔ شائد بے نظیر زندہ ہوتیں تو ایک دوسرے کو یاد دہانی کرواتے رہتے مگر اب وہ سہولت بھی نہیں رہی۔اب یہ سہولت صحافیوں کے پاس ہی رہ گئی ہے دیکھتے ہیں کہ سیاستدان اس کو اہمیت دیتے ہیں یا نہیں۔

خیرعرض یہ کرنا تھا کہ یہ میثاق جمہوریت پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں کے لئے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ جمہوریت کی لئے لکھا گیا تھا اور اب اس پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کی ضرورت ہے بلکہ عوام کو بھی اور خاص کر اس یوتھ کو جو جلالی تقریروں کے عادی ہوچکے ہیں۔ جن کو بات سمجھانا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ حکومت نے اداروں کے ساتھ مل کر اس جنون کے غبارے کو پرک کرکے مقبولیت کے تخت کو تو وقتی طور پر زمین بوس کر دیا ہے مگر کب تک؟

نواز شریف بھی "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کو بھولے بھولے لگ رہے ہیں ۔ شائد ان کو یہ محسوس ہورہا ہو کہ اب وہ اس پیج پر آگئے ہیں جہاں اس نعرے کی ضرورت نہیں رہی مگر ایسا تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور یہ ہم آہنگی کوئی پائیدار نہیں کیونکہ اس کی آئین کے ساتھ ہم آہنگی نہیں ۔ اس لئے کسی بھی وقت شخصیات کے بدل جانے یا سوچوں کے بدل جانے سے یہ ایک پیج والی ہم آہنگی خطرے میں پڑجاتی ہے اور پھر "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کی ضرورت یکدم ابھر آتی ہے ۔ اس کا اگر ان کو ابھی بھی تجربہ نہیں ہوا تو پھر کب ہوگا؟

اگر تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے زمینی حقائق اس قابل نہیں کہ ان کے منشور کو سپورٹ کر سکیں اور وہ کسی موضوع وقت کی تلاش میں ہیں تو حکمت عملی درست ہے لیکن کم از کم سمت کو تو درست رکھنے کی ضرورت ہے۔ جتنے حالات میسر ہیں اتنا تو عمل ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے ان کی سیاست سے ابھرنے والا تاثر تو میثاق جمہوریت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اگر انہوں نے اکیلے قربانیاں دی ہیں تو ایک قربانی سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بھی دینے کی کوشش کر لینی چاہیے اور میثاق جمہوریت پر ان سیاسی جماعتوں کو بھی فریق بنانے کی کوشش کر لینی چاہیے جو 2014 میں آمادہ نہیں تھے ۔ اب تو اس غیرآئینی اور غیر فطری ہم آہنگی کے سب شوق پورے ہوچکے ہیں اور جمہوریت کا بیج بونے کے لئے مٹی زرخیز لگ رہی ہے لیکن لگ یوں رہا ہے کہ اب اس کو بیجنے والے دہقاں سوچ میں پڑ گئے ہیں اور ان کی سیاست سے ابھرنے والا تاثر یوں دکھائی دے رہا ہے جیسے آئین سے ہم آہنگی موافقت سے مشروط ہوتی جارہی ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ ان کے میثاق جمہوریت کے سبب پاکستان میں 2008 سے لے کر 2018 تک اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی اور اب تیسری اسمبلی جارہی ہے جس کو پورا کرنے کا وقت بھی ان دو جماعتوں کو مل گیا ہے بلکہ اپوزیشن بھی ان سے ہم آہنگ ہے جو علامتی طور پرتحریک انصاف کا حصہ ہے مگر وہ تحریک انصاف سے کم اور اتحادی جماعتوں کی حکومت سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ اب اتنی ہم آہنگی کے باوجود اگر اتحادی حکومت جس میں میثاق جمہوریت کی خالق جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دو اہم جماعتیں ہیں یہ سوچ رہی ہیں کہ کسی طرح سے اسمبلیوں کو اپنی آئینی مدت سے ایک دو دن پہلے معطل کردیا جائے اور پوری کی پوری توجہ اس بات پر مرکوز ہے ۔ جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ساٹھ دنوں کی بجائے نوے دن نئے الیکشن کروانے میں مل جائیں گے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب ان کو وہ بات بھول گئی ہے کہ ان کے میثاق جمہوریت کے سبب پاکستان میں اسمبلیوں نے مدت پوری کی ۔ ایک دو دن بھی پہلے اگر وہ اسمبلیوں کو تحلیل کرتے ہیں تو اس سے علامتی طور پر یا آئینی طور پر تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی جس سے ان کے میثاق جمہوریت پر ایک داغ ضرور لگے گا۔ جس کی قیمت محض 30 دن کا دورانیہ ہے۔ حالانکہ ان کی نیتوں سے ابھرے والا تاثر یہ بھی ہے کہ شائد 90 دنوں میں بھی الیکشن نہ ہوسکیں جس پر اتحادی حکومت خود بھی فکر مند ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کہ کوئی سیاسی آدمی نگران وزیر اعظم بنے ۔ تو پھر اس طرح کے ہتھکنڈے وہ کیوں استعمال کر رہے ہیں جس سے ابھرنے والے تاثرات ان کی سیاست کو داغ دار کر رہے ہیں ۔ اس سے جو سب سے بڑا داغ میثاق جموریت پر لگ رہا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر جہاں آئین سے موافقت نہیں ہوتی وہاں ڈنڈی مار جاتے ہیں بلکہ اپنے متوقع وسیع تر مفادات میں آئین میں ترمیم کرنے کے لئے بھی اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتی ہیں جیسے کہ جمہوریت کی روح رواں طاقت کی توسیع کے لئے اپنے تمام سیاسی و جمہوری نعروں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک پیج پر اکھٹے ہوگئے تھے۔

ان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ 30 دنوں کے تعطل کے بندوبست کرتے ہوئے مزید تعطل کی نیت کو واضح کر رہے ہیں تو یہ تعطل جیسے کہ ان کے لئے تشویش بھی ہے ایک غیر معینہ مدت کا بھی شکار ہوسکتا ہے اور پھر ان کے پاس اس وقت شائد آئینی جواز تو ہو جس کے لئے ان کو اپنے مخالفین کے ساتھ ایک پیج پر ہونا پڑے مگر ان کے پاس اخلاقی جواز کھو چکا ہوگا۔ جن حالات میں الیکشن کروائے جارہے ہیں ان کو شفافیت اور غیر جانبداری کی سند ملنا تو مشکل ہی لگ رہا ہے کیونکہ جب عبوری حکومت پر اتنے زیادہ مشورے اور حربے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں اور وہ بھی ایک دوستانہ اپوزیشن کے ہوتے ہوئے تو پھر معاملات تو تشویش اور کشمکش کا شکار ہونگے ۔ ویسے بھی پاکستان کی سیاسی ثقافت اس بارے کوئی اچھی تاریخ اور تجربات نہیں رکھتی۔

اگر سب جماعتوں نے سیاست کے اصولوں کو قربان کرتے ہوئے اقتدار کے حصول کے لئے ہی سیاست کر نی ہے تو پھر اس سے عوامی خدمت اور جمہوری رائے کا عنصر مفقود ہوجائے گا اور پھر سیاست اور فرنگیت میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا شائد انہی رویوں کی وجہ سے عوام کا جمہوریت سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے ۔ سیاست اور جمہوریت حکومت کا نام نہیں بلکہ اپوزیشن کا نام بھی ہے اور اصولی سیاست کا تو یہ تقاضہ ہے کہ اگر اپوزیشن حقیقی نہ بھی ہو تو اس کی آئینی ، سیاسی اور جمہوری اساسیت کو کسی بھی صورت قربان نہیں ہونا چاہیے اور شفافیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کو ہر صورت برقراررہتا ہوا دکھائی دینا چاہیے۔

Facebook Comments HS