دو ہی سیاسی نظریات ہیں.
ہم اکثر ٹاک شوز اور ٹی وی پروگراموں میں سنتے ہیں یا اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا نظریاتی تھا. انھوں نے کبھی نظریات پر سمجھتا نہیں کیا. ساری عمر نظریات کے لیے قربانیاں دی وغیرہ وغیرہ.
ہم ریاست جموں کشمیر میں پائے جانے والے مختلف سیاسی نظریات پر نظر ڈالتے ہیں. ان میں ایک نظر یہ خودمختار کشمیر ہے اس کی روح سے84471مربع میل پر مشتمل ریاست جموں کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ دے دیا جائے. وہاں معاشی نظام جاگیردار نہ ہو گا یاسرمایہ دارانہ یا سوشلسٹ, اس پر مکمل خاموشی ہے. اگر اس ریاست میں جاگیردارانہ یا سرمایہ دارانہ جمہوریت قائم کر دی جاتی ہے تو پھر یہاں کے عوام کو کسی قسم کی معاشی, سیاسی اور سماجی آزادیاں حاصل نہ ہو گی. وہ اجرتی غلام ہی رہے گے. ان کے معاشی, سیاسی اور سماجی حالات زندگی میں کوئی بہت بڑی تبدیلی رونما نہیں ہو گی. بلکہ ریاست کے عوام جو پانچ قومیتوں ( جموں, وادی, گلگت, بلتستاں اور لداح) پر مشتمل ہیں. ان کے قومی تضاد مزید شدت اختیار کریں گے. اس لیے ہم اس نظریہ کو کوئی مستقل حل نہیں سمجھ سکتے.
دوسرا نظریہ الحاق کا ہے. اس نظریہ کے پیروکار پاکستان یا بھارت کے جاگیرداروں, سرمایہ داروں, حکمران طبقات اور مقتدر حلقوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں. نام نہاد آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں الحاق کا نعرہ لگا تے ہیں. اور یہ نعرہ لگانے کا پورا پورا معاوضہ وصول کرتے ہیں. اس کا اندازہ پچھل 75سالوں میں ان کے معیار زندگی میں واضح تبدیلی سے لگایا جا سکتا ہے. اسطرح بھارتی مقبوضہ کشمیر (جموں,وادی,لداح)میں الحاق نواز بھارتی مقتدر حلقوں سے اپنی وفاداری کی قیمت وصول کرتے ہیں. ان کا نظریہ صرف اور صرف غاصبوں اور وطن دشمنوں کے لیے خدمات اور ہموطنوں کو بےوقوف بنا کر ریاست جموں کشمیر سے ہر سال کھربوں روپے پاکستان اور بھارت کے مقتدر حلقوں کو لوٹنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہوتا ہے. اس لوٹ مار سے کچھ حصہ ان کو بھی مل جاتا ہے. نظریہ الحاق کے پیروکار ریاست جموں کشمیر کی موجودہ تقسیم کے ذمہ دار ہیں. یہاں کے عوام کے تمام مصائب اور مشکلات کو قائم رکھنے کے لیے ان کا بھرپور رول ہے. یہاں غربت, ننگ, افلاس, بیروزگاری, غلامی, صحت کی سہولیات کا فقدان, بوسیدہ نظام تعلیم, سمیت تمام سماجی بیماریاں انھیں کے دم سے قائم ہیں. پچھلے 75سالوں میں دونوں اطراف ان کی نظریاتی جدوجہد صرف اور صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ غداری ہے. اسکے سوا کچھ نہیں, اور ریاست میں سیاسی پراکسی ہے.جس کے ریاستی عوام کو سیاسی طور پر ابہام میں مبتلا کرنا اور تقسیم کرنا ہے. پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہی رول ادا کرتی ہیں. اسی طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انڈین سیاسی پارٹیاں لوٹ مار کے لئے عوام ابہام پھیلاتی ہیں اور تقسیم کرتی ہیں.
اسکے علاوہ متعدد مذہبی, جہادی اور ہندوتوا کے نظریات بھی موجود ہیں. یہ بھی غاصب ممالک کے بالائی طبقات کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں. عسکری پراکسی انھیں کی وجہ سے قائم دائم ہے. ابھی تک تقریباً پانچ لاکھ بے گناہ اور معصوم شہریوں کا قتل عام کیا جا چکا ہے اور یہ وحشت اور درندگی مسلسل جاری ہے.
یہاں کچھ سیاسی گروپ غیر طبقاتی سماج کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں. جس کی روح سے ریاست کی کچلی ہوئی, پسی ہوئی, محکوم و محروم, سیاسی ,معاشی اور سماجی طور پر غلام عوام کے لیے ایسے سماج کا قیام,جس میں سماج کی مجموعی دولت پورے سماج کے مفادات کے لئے استعمال ہو گی. جس میں ہر طرح کے طبقات کے درمیان فاصلہ کم سے کم کر کے اس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا. ریاست پر یہاں کی محنت کشوں اور عوام کا مکمل کنٹرول ہو گا. ریاست کی دولت تمام عوام کی مشترکہ ملکیت ہو گی. تمام بنیادی شہری سہولیات ریاست مہیا کرنے کی پابند ہو گی. ریاست کی چاروں قومیتوں کو برابری کی بنیاد پر ان کی زبان, تہذیب و ثقافت کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے گی .اسکے بعد محنت کشوں کی ریاست پوری دنیا کے محنت کشوں کی تحریکوں کو سیاسی اور اخلاقی طور پر سپوٹ کرے گی. ان عظیم آدرشوں کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے لاتعداد مصائب, ریاستی جبر ہر لمحہ ان کا استقبال کرتا ہے. لیکن ان آلہ مقاصد کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے والے ان رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے لئے شعوری طور پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں. غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لئے نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پوری دنیا میں جہاں بھی جدوجہد کی گئی یاہورہی ہے. وہ پوری انسانیت کی بالا دستی کے لیے جدوجہد ہے. پوری انسانیت کو سرمایہ داری کے عذاب اور اجرتی غلامی سے آزادی کی جدوجہد ہے. پوری دنیا کے انسانوں کو ایک عظیم مستقبل دینے کی جدوجہد ہے. اسکے علاوہ جتنے بھی سیاسی نظریات موجود ہیں. وہ نہ صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام بلکہ پوری انسانیت کو جدت اور ترقی سے روکنے کی ناکام کوشش ہے. دنیا بھر میں غیرطبقاتی سماج کے قیام کے علاوہ جتنے بھی سیاسی نظریات ہیں. وہ پوری انسانیت سے غداری کے علاوہ کچھ نہیں.


