خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ
خیبر پختونخوا کی سیاست کا درجہ حرارت اور یہاں کا سیاسی کلچر چونکہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت ہمیشہ سے کافی متلون واقع ہوا ہے اس لئے یہاں کی سیاست کے مستقبل اور خاص کر یہاں کے ووٹرز کے مزاج کے بارے میں کبھی بھی کچھ بھی یقین سے کہنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے حوالے سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ یہاں کبھی بھی کسی بھی جماعت کو تن تنہا کوئی بڑی سیاسی پذیرائی نصیب نہیں ہوئی ہے بلکہ اگر یہاں کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس بات کو واضح ہونے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں ہر انتخاب کے نتیجے میں منتشر اور ملاجلا مینڈیٹ سامنے آتا رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پنجاب اور سندھ کے برعکس کبھی بھی کسی ایک سیاسی جماعت یا خاندان کی سیاسی اجارہ داری نہیں رہی ہے۔
اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں اور خاص کر انتخابی سیاست کا دور بر صغیر پاک و ہند کے دیگر صوبوں کے بہت بعد میں شروع ہوا تھا حالانکہ موجودہ خیبرپختونخوا کو صوبے کا درجہ برطانوی دور حکومت میں بیسویں صدی کے اوائل یعنی 1901ء ہی میں دے دیا گیا تھا لیکن 1932ء تک اس کی یہ حیثیت برائے نام صوبے کی تھی اور اسے چیف کمشنر کا صوبہ کہا جاتا تھا جو چھ اضلاع ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، پشاور اور مردان پر مشتمل تھا البتہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت جب 1937ء میں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں انتخابات کر وائے گئے تو ان گیارہ صوبوں میں خیبرپختونخوا جسے اس زمانے میں شمال مغربی سرحدی صوبہ کہا جاتا تھا بھی شامل تھا۔
یہاں یہ بتانا بھی خالی از دلچسپی نہیں ہو گا کہ اس صوبے نے قیام پاکستان تک ہونے والے 1937ء اور 1946ء کے دونوں انتخابات میں یہاں مسلمانوں کو واضح اکثریت کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ کے برعکس آل انڈیا نیشنل کانگریس کو کامیابی سے ہمکنار کر کے خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبد الغفار خان (باچا خان) کے بھائی خان عبد الجبار خان المعروف ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت اعلیٰ کی راہ ہموار کی تھی حالانکہ نہ تو کانگریس کے نہرو رپورٹ 1928 میں اس صوبے میں سیاسی اصلاحات کی بات کی گئی تھی اور نہ ہی کبھی کانگریس کے ہندو نواز راہنماؤں نے کبھی اس صوبے کو دیگر ہندو اکثریتی صوبوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت دینا گوارا کی تھی جس کا اندازہ کانگریس کے راہنماؤں مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کا اپنے سارے سیاسی کیرئیر میں یہاں کا محض ایک ایک مرتبہ دورہ کرنے سے لگایا جا سکتا ہے جبکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی زندگی میں یہاں کا نہ صرف تین مرتبہ دورہ کیا بلکہ ان کے تاریخی چودہ نکات 1929 میں بھی ایک اہم نکتہ شمال مغربی سرحدی صوبے میں سیاسی اصلاحات کے مطالبے سے متعلق تھا۔
اسی طرح جب قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے اثاثہ جات مسلمانوں کے تین تاریخی تعلیمی اداروں کے نام وقف کرنے کا اعلان کیا تو ان میں ایم اے او کالج علی گڑھ اور سندھ مدرستہ الاسلام کراچی کے علاوہ ایک ادارے اسلامیہ کالج پشاور کا تعلق بھی خیبرپختونخوا سے تھا۔ خیبرپختونخوا کی اسی انفرادیت نے انگریزوں کو قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں شامل ہونے والے دیگر صوبوں کے برعکس یہاں ریفرنڈم کروانے پر مجبور کیا تھا جس کی وجہ ڈیڑھ سال پہلے ہونے والے 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے قیام پاکستان کے مطالبے کے باوجود خیبرپختونخوا سے کانگریس جو متحدہ ہندوستان کی داعی تھی کا کامیاب ہونا تھا جس پر انگریزوں کو یہاں فریش مینڈیٹ کے تحت اس صوبے کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کروانا پڑا تھا۔
1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور موجودہ چار صوبوں کو بحال کر کے 1973ء کے آئین کے تحت خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی قائم کی گئی تو مرکز، پنجاب اور سندھ کے برعکس یہاں پیپلز پارٹی کی بجائے جمعیت العلماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) نے مولانا مفتی محمود کی سربراہی میں مخلوط حکومت تشکیل دی تھی جس کو بعد ازاں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کر کے یہاں گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔ 1988 ء، 1990ء اور 1996ء کے استثناء کے بعد خیبرپختونخوا میں بالترتیب وفاق میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کا موقع ملا تھا البتہ 2002 ء، 2008ء اور 2013ء کے نتائج مرکزی انتخابات کے برعکس آئے تا آنکہ 2018ء میں پی ٹی آئی کو مرکز کے ساتھ ساتھ یہاں سے بھی کامیابی نصیب ہوئی جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو مرکز سمیت خیبر پختونخوا میں بھی دوبارہ حکومت سازی کا موقع ملا حالانکہ ماضی میں یہاں کے نتائج اکثر مرکز کے نتائج کے برعکس ہی آتے رہے ہیں جس سے اس صوبے کی منفرد اور دلچسپ سیاسی تاریخ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔


