امتحانات میں نقل، ایک کینسر یا لازمی برائی


انفراسٹرکچر کی زبوں حالی، ناقص نصاب تعلیم، غیر موثر تدریسی طریقہ کار، صنفی عدم مساوات، تربیت یافتہ سٹاف کی کمی، مانیٹرنگ کا ناقص نظام، اور ایسے کئی مسائل کے انبار سے دوچار ہمارے تعلیمی نظام میں ایک اور ایسا مسئلہ ہے جس ہم شاید بحیثیت مجموعی آنکھیں چرانا ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری اجتماعی یاداشت سے بسا اوقات اوجھل ہی رہتا ہے۔ ہم اس مسئلے کو نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں، کیوں اس سے نبٹنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ امتحانات میں نقل ہے، جو ہمارے تعلیمی نظام کے حقیقی مقاصد کو تباہ کر رہا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم بتدریج اس مرض کے عادی بن چکے ہیں۔ اب یہ برائی ایک معمول، زیادہ تر تعلیمی اداروں کے کلچر کا ایک حصہ اور طلباء کی زندگی کے ایڈونچرز میں سے ایک بن گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

ہمارے معاشرے اور تعلیمی مثلث (طلباء، اساتذہ، اور والدین) کا طرز عمل بطور مجموعی اگر نقل کا حامی نہیں تو بے نیاذانہ ضرور ہے۔ اساتذہ، طلباء، والدین اور تعلیمی منتظمین میں سے ہر ایک کی اپنی وجوہات یا مجبوریاں ہیں کہ انہوں نے امتحانات میں نقل کو ایک لازمی برائی کے طور پر شاید قبول کر لیا ہے۔

ان میں ہر ایک طبقے کی اپنی وجوہات اور نام نہاد مجبوریوں ہیں۔ آئیے اس المیہ ڈرامے کے تینوں بڑے کرداروں کی مجبوریوں کا ایک مختصر جائزہ لیں۔

طلباء کی کہانی: طلباء جب نقل کرتے ہیں تو یہ ان کا صرف آخری چارہ کار نہیں ہوتا بلکہ اچھے مارکس حاصل کرنے کا ایک قابل قبول اور آسان حل ہے طلبہ کی عظیم اکثریت امتحانات میں نقل کو اپنا حق سمجھتی ہے دوستوں کی مدد کرنا اور دوستوں سے مدد حاصل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں، طلباء کی نفسیات میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ اگر آپ کا دوست امتحانات میں اپ کی تھوڑی بہت بھی مدد نہیں کرتا تو وہ کمینہ اور بزدل ہے۔ سخت ترین حالات میں اگر آپ اپنے دوست کے کان میں کوئی فل ان دی بلینک، یا کسی کثیر انتخابی سوال کے درست جواب کی سرگوشی نہیں کرتے تو آپ کے دوستوں کو آپ کی کمینگی اور خودغرضی میں کوئی شک نہیں رہے گا۔

ناکامی کا خوف، خاندان کا دباؤ اور توقعات، شدید مسابقت، غیر مساوی مواقع ایسے عوامل ہیں جو طلبہ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ نقل کو بطور رویہ اختیار کر لیں۔ اکثر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ آرٹس کے آسان اور ”فضول“ مضامین پڑھنے کی بجائے سائنس اور ریاضی پڑھ کر ڈاکٹر، انجینیئر یا بزنس ایگزیکٹو بنے تاکہ ان کا سر فخر سے بلند ہو سکے۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ بچے کا فطری میلان کیا ہے یا آئی کیو کی سطح کیا ہے۔ طلبہ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں، ایکسٹرا ٹیوشن لیتے ہیں اپنی زندگی عذاب بنانے کے بعد اگر ان کو کیمسٹری، میتھ اور فزکس نہیں سمجھ میں آتے تو دوسرے ذرائع جن میں سر فہرست نقل ہے، اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اساتذہ کا کردار: اب ہم اگر اساتذہ کرام کی رویے پر نظر ڈالیں تو ہمیں ان اساتذہ کی اپنی ”مجبوریاں“ نظر آتی ہیں ان نام نہاد مجبوریوں کی وجہ سے وہ نقل سے نظریں چراتے ہیں، اس کو برداشت کرتے ہیں یا پھر سیدھا سیدھا اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس عمل میں شریک ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ معمولی تنخواہوں پر کام کرنے والے اساتذہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر سال سالانہ امتحان امتحانات کا 100 فیصد رزلٹ دیں استاد نے 100 فیصد رزلٹ دینا ہے چاہے طلبہ کا کوئی بھی آئی کیو لیول ہو طلباء کا انفرادی نفسیاتی تنوع جتنا بھی ہو سب کے ایک جیسے اعلیٰ نتائج لانا استاد کی ذمہ داری ہے۔

سب طلبہ نے سائنس پڑھنی ہے اساتذہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان طلبہ جن کا سماجی اور خاندانی پس منظر مختلف ہے، سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں مختلف ہیں ان سب کو سائنس پڑھانا اور بورڈ کی امتحانات میں پاس کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ طلبہ کی ناکامی کے ذمہ دار کئی اور عوامل ہیں جو اساتذہ کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

ہر سال ہزاروں طلبہ فیل ہوتے ہیں کیونکہ ان کو اس مضمون میں کوئی دلچسپی نہیں جو ان کو پڑھایا جا رہا ہے یہ طلبہ مضمون کی طرف فطری میلان نہ ہونے کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات طلبہ کی خاندان اور والدین کی طرف سے مثبت اور حوصلہ افزائی نہ ہونا بھی ناکامی کا موجب بنتا ہے۔ نفسیاتی وجوہات بھی ناکامی کا موجب بن سکتی ہیں۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بسا اوقات اساتذہ کی پیشہ ورانہ نا اہلی اور غفلت طلبہ کی ناکامی کا باعث بن جاتی ہے۔ حکومتی شعبہ میں طلبہ کے داخلے کا کوئی معیار نہیں داخلہ ہر طالب علم کا حق ہے اور اساتذہ نے طلبہ کو پاس کرانا ہے۔ اب اساتذہ اپنی تنخواہوں سے انکریمنٹس اور نوکریاں بچانے کے لیے بچوں کو مصنوعی طور پر پاس کرانے کے لیے نقل کا سہارا لیتے ہیں۔

نجی شعبہ اور سرکاری اداروں کا کردار: جہاں تک نجی شعبے کا سوال ہے تو تعلیمی ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ منافع کی بے رحمانہ ہوس پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نقل کے آغاز اور پھیلاؤ کی ذمہ دار ہے۔ اچھے رزلٹ اور مارکس بعض پرائیویٹ سکولوں کی مارکیٹنگ کا ہتھیار ہیں، بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے اچھے رزلٹ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے امتحانی عملے کو رشوتیں دی جاتی ہیں، دباؤ ڈالا جاتا ہے اور بعض اوقات امتحانی ہال نقل کے لیے بک کرائے جاتے ہیں۔

بعض دولت مند پرائیویٹ اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تعلیمی بورڈز سے ٹاپ پوزیشن خرید لیتے ہیں۔ اکثر پرائیویٹ سکولوں کا واحد مقصد اپنے منافع کو ہر صورت میں بڑھانا ہے چاہے بچوں، والدین اور معاشرے کو اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اب سوال یہ ہے کہ امتحانی بورڈز اور ممتحن اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ تعلیمی بورڈز کے سیکریسی رازداری کے محکمہ جات امتحان کی شفاف انعقاد کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور کافی سرمایہ خرچ کرتے ہیں مگر ان کی صلاحیتیں اور وسائل محدود ہیں امتحانی عملے کے لیے شہروں میں فرائض کی بجا آوری آسان ہے مگر دور دراز علاقوں میں حالات پر خطر اور غیر یقینی ہوتے ہیں علاوہ ازیں دور دراز علاقوں میں امتحانی عملہ کی ٹرانسپورٹ رہائش اور دیگر مسائل بھی ہوتے ہیں ایسے علاقوں میں امتحانی عملہ زیادہ رعایتیں دینے پر مجبور ہو جاتا ہے دور دراز علاقوں میں نقل ہونے کی وجہ سے شہروں میں جو بچے پاس بھی نہیں ہو سکتے وہ بھی اچھے مارکس لے لیتے ہیں۔

امتحانات کا اصل مقصد طلبہ کی سیکھنے کے عمل کی پیمائش ہے اس سے تعلیمی عمل کے موثر یا غیر موثر ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے مگر امتحانات میں نقل سے مقصد فوت ہو جاتا ہے، ہمارے اس عالمی پالیسی سازوں کو اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینا ہو گا تاکہ ملک کے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے

 

Facebook Comments HS

One thought on “امتحانات میں نقل، ایک کینسر یا لازمی برائی

  • 23/07/2023 at 10:42 صبح
    Permalink

    Outstanding Mr. Shoaib.
    This is a harsh truth of our society and education system

Comments are closed.