ڈی رسکنگ کے دنیا کے مستقبل پر خطرات

دنیا کی ترقی میں باہمی مشاورت اور تجربات کا اشتراک نہ ہو تو دنیا کے آگے بڑھنے کے امکانات کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں یونی پولر اور ڈائی پولر کی اصطلاحات نے دنیا کو بعد میں حقیقی طور پر تقسیم کیا اور پھر سرد جنگ نے اس حقیقت کو آشکار بھی کیا۔ دنیا، یونی پولر ہوئی اور پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون سر چڑھ کر بولتا رہا۔ اس عرصے میں دنیا نے کئی جنگیں دیکھیں۔ بد امنی کا دور دورہ رہا۔ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں خلیج گہری ہوتی گئی۔ امیر، امیر سے امیر تر ہو تا گیا اور غریب، غریب سے غریب تر۔ ترقی یافتہ اور امیر ممالک نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیران کن ایجادات دیکھیں اور ترقی پذیر غریب ممالک نے بھوک، افلاس اور غربت۔ وقت کے ساتھ ساتھ یونی پولر سے ملٹی پولر دنیا کے نظریے اور رجحان نے تقویت پائی اور اب وہ وقت آ گیا ہے جب دنیا پر کسی ایک ملک کی حکمرانی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس راستے میں کئی رکاوٹیں بھی آئیں اور ابھی تک آ رہی ہیں۔ کبھی کسی سائنسی اصطلاح کا استعمال اور کبھی کسی معاشی اصطلاح کا سہارا۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ترقی پذیر ممالک کی ترقی کو روکنے کے لیے ”ڈی کپلنگ“ کی اصطلاح کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور اس حوالے سے ہر طرح کی بلاک سیاست اور دھڑے بازیوں کو پروان چڑھا گیا لیکن جب یہ سب کرنے کے باوجود ترقی کا راستہ نہیں رکا تو اب ایک اور اصطلاح ”ڈی رسکنگ“ کا چرچا ہے۔
طاقتور معاشی طاقتوں اور ان کے آلۂ کار بننے والوں کی جانب سے ’ڈی رسکنگ‘ کا تصور اسی پرانی منطق پر مبنی ہے جس میں عالمی طاقتیں چین کی ترقی کو روکنے کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ طاقتیں نہیں جانتیں کہ ’ڈی رسکنگ‘ سے معاشی کشمکش میں اضافہ ہو گا اور عالمی معیشت کی بحالی سست روی کا شکار ہوگی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے چیف اکانومسٹ پیئر اولیور گورنچاس نے کہا ہے کہ ’ڈی رسکنگ‘ سے ممالک عالمی ترقی کی قیمت ادا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے عمل کو روک سکتے ہیں اور عالمی معیشت کے بلاکس میں تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔
دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی حیثیت سے، چین کی مجموعی سامان کی تجارت 2022 میں لگاتار چھ سالوں تک دنیا میں سرفہرست رہی، جس نے انتہائی ضروری عالمی معاشی بحالی کو فروغ دینے میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا۔
معاشی اور تجارتی معاملات کو سیاسی رنگ دینے کا وتیرہ عالمی تجارتی تنظیم کے عدم امتیاز اور آزاد تجارت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ کثیر الجہتی تجارتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور معاشیات کے قوانین کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ عمل دنیا کے معاشی نظام کے لیے قطعاً بہتر نہیں۔ مثال کے طور پر سپلائی چین کو لیجیے۔ یہ بات خود بخود واضح ہے کہ فرینڈ شورنگ اور سپلائی چینز کی تنظیم نو عالمی تجارتی بہاؤ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ کاروباری اداروں کے لئے، نئی اور غیر مرکزی سپلائی چین تیار کرنے سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گا اور ان کی زندگی اور بقا کو خطرہ ہو گا۔
آئی ایم ایف کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف تجارتی تقسیم کی طویل مدتی لاگت محدود تقسیم کے منظرنامے میں عالمی پیداوار کے 0.2 فیصد سے لے کر سنگین صورتحال میں تقریباً 7 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ”ڈی رسکنگ“ سائنسی اور تکنیکی ترقی میں تاخیر کرے گی، عالمی ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی نظام میں خلل ڈالے گی اور تحقیق اور ترقی میں بین الاقوامی تعاون کو توڑے گی۔
آج کل، دنیا بھر کے ممالک ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور بنیادی اور اطلاقی سائنس میں ٹیکنالوجیوں کو بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
’ڈی رسکنگ‘ عالمی گورننس میں بھی خلل ڈالے گی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور غربت کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں رکاوٹ بنے گی۔ دنیا بھر میں دور اندیش پالیسی ساز، کئی دہائیوں سے تجارتی رکاوٹوں کو توڑنے اور نظریاتی اختلافات کو دور کرنے کے لئے وقف رہے ہیں۔ اس کے باوجود ’ڈی رسکنگ‘ مصنوعی رکاوٹیں پیدا کرے گی اور کئی دہائیوں سے ممالک کے درمیان قائم باہمی اعتماد کی بنیاد کو تباہ کرتے ہوئے بالآخر دنیا کو دوبارہ سرد جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ڈی رسکنگ ”کا خطرہ اتنا واضح ہے کہ بہت سے امریکی اتحادی بھی اس سے محتاط ہیں۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی جانب سے 11 یورپی ممالک میں کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 16 ہزار سے زائد جواب دہندگان کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کے ملک کو چین اور امریکا کے درمیان غیر جانبدار رہنا چاہیے اور وہ اس ایشیائی ملک سے ’ڈی رسک‘ کرنے سے گریزاں ہیں۔
دنیا بھر کے ممالک کو ایک نئی سرد جنگ کے امکان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اختلافات کو کم کرتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنا، تعاون کو فروغ دینا اور پوری انسانیت کے لئے پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ہے۔

