زندگی اک سفر ہے
زندگی کا سفر ہے یہ کیسا
کوئی سمجھا نہیں کوئی جانا نہیں
زندگی اک سفر ہے۔ مگر کیسا سفر ہے کہ نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم۔ ہمارے چچا غالب کا زندگی کے اس سفر کے حوالے سے کیا خوبصورت شعر ہے :
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں
سرپٹ اپنی منزل کی جانب دوڑتا ہوا عمر کا گھوڑا جس کی لگام ہمارے ہاتھ میں نہیں، نہ ہی پاؤں رکاب میں ہے۔ سرپٹ دوڑتے بھاگتے جانے کس گام رک جائے۔
ایک ایسا محاکاتی شعر جو ایسا اداس کرتا ہوا منظر تخلیق کرتا ہے کہ ایک طرف زندگی کی بے ثباتی تو دوسری طرف تیزی سے گزرتے وقت کا احساس جو لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔ وقت جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ ہم وقت کے بہتے دھارے پر رواں دواں ہیں۔ وقت کا یہی احساس ہمیں آگے بڑھنے، وقت کو صحیح استعمال کرنے کی بھی ترغیب دلاتا ہے۔
شاعر مشرق کے نزدیک چلنا چلنا مدام چلنا زندگی ہے۔ اس لئے کہ
جو ٹھہرے ذرا کچل گئے
زندگی کے سفر میں کئی اور سفر درپیش رہتے ہیں۔ تا وقت یہ کہ آخری سفر کا نقارہ بج جاتا ہے۔ اور بقول نظیر اکبر آبادی:
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا
جب لاد چلے گا بنجارا
تو یہ بنجارا زندگی کے سفر میں کئی سفر، جیسے پانی میں کنکر پھینکیں تو کئی دائرے بنتے ہیں۔ اسی طرح دائرہ در دائرہ سفر در سفر۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ کل سیرو فی الارض زمین میں چلو پھرو سیر کرو مشاہدہ کرو۔
اس لئے کہتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر
کہ سفر زندگی کا شعور، علم و آگہی بخشتا اور نئی راہیں اجاگر کرتا ہے۔
ہماری زندگی کا پہلا سفر عدم سے وجود کی طرف ہے۔ وہ عدم جہاں یوم الست ہماری روحوں نے رب کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ تو عدم سے وجود اور اس دنیا میں آنے کا ایک مقصد اپنے اس وعدے کو نبھانا بھی ہے جو ہم نے اپنے خالق کو واحد مان کر کیا ہے کہ اسے واحد جان کر زندگی کا سفر طے کریں گے۔
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
عشق اور الفت کی وادی میں قدم رکھنا اور سفر بخیر و خوبی طے کرنا آسان نہیں کہ
اک آگ کا دریا ہے
اور تیر کر جانا ہے
زندگی کے اس سفر در سفر میں ہمارے قدم غلط راہ پر نہ پڑیں اور ہر سفر ہمارے آخری سفر کی کامیابی کا ضامن ہو۔
ایک اور سفر اندر کی دنیا کا بھی ہے کہ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی۔ یہ سفر ہمیں خود شناسی سے خدا شناسی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ جس نے خود کو پا لیا۔ اس نے خدا کو پا لیا۔ من کی دنیا اور خود شناسی خدا شناسی کی پہلی سیڑھی ہے۔ تو دنیا شناسی اور مظاہر فطرت بھی ہمیں خدا شناسی اور خالق کا قرب عطا کرتے ہیں۔ اس لئے رب العالمین کائنات پر غور کرنے اور تفکر و تدبر کی تلقین کرتے ہیں۔
کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
تعمیر خودی کر اثر آہ رسا دیکھ
عدم سے وجود اور جنت سے دنیا میں آنا اور پھر اس کھوئی ہوئی جنت کو پانے کی کوشش کرنا مشکل اور دشوار ترین سفر ہے۔ اس سفر کے لاتعداد خطرات سے بچانے کے لیے قرآن ہمیں صراط مستقیم دکھاتا ہے۔ بار بار خود شناسی اور دنیا کی سیر و سیاحت کی تلقین کرتا ہے کہ دیکھو غور کرو۔ تم سے پہلے کیسی کیسی طاقت ور قومیں گزریں اور اللہ کی نافرمانی سے وہ کیسے نشانۂ عبرت بنا دی گئیں۔
اللہ کرے کہ آپ کا میرا یہ سفر سہل سپھل ہو کہ ایک بار پھر اپنی گم شدہ جنت کو پالیں۔ رب کو پالیں۔ ہمارے سفر بار آور ہوں۔ ہر لمحہ ہم سفر میں ہیں کہ زندگی اک سفر ہے۔


