اسلام آباد: بنیادی سہولتوں تک رسائی


عوام اور حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی بڑی وجہ شہریوں کی بنیادی سہولتوں کے متعلقہ اداروں تک رسائی کا نہ ہونا ہے۔

شہریوں کے لئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ لیکن موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو انتظامیہ نہ صرف ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام نظر آتی ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی ترجیحات ہی یکسر تبدیل ہو چکی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کی بڑھتی ہوئی بھیڑ جگہ جگہ گھنٹوں کے حساب سے رکی ہوئی ٹریفک بڑی شاہراہوں اور پلوں پر آئے دن عوامی اجتماعات سیاسی اور مذہبی جلسے اور دھرنے پانی گیس اور بجلی کی فراہمی میں بڑھتا ہوا تعطل اور طلباء کے امتحانات کا سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے منسوخ ہونا ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ کا سارا وقت اور توانائی اہم شخصیات کی آمدورفت سکیورٹی سیاسی سرگرمیوں میں حکومت وقت کی سہولت کاری میں صرف ہوتا ہے۔

اس کی چند سادہ مثالیں پچھلے تقریباً چھ سالوں سے زیر تعمیر اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے ہے۔ جس پر کام کا آغاز 2017 ء میں کیا گیا اور کچھوے کی چال سے ہوتے ہوئے کام کی وجہ سے ہزاروں شہری گھنٹوں ٹریفک کے رش میں پھنسے ہوئے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور اہم شخصیات تو ٹریفک کو وی آئی پی موومنٹ کے نام پر بند کر کے بے فکری اور بے نیازی سے اپنے معاملات جاری رکھے ہوئے ہیں اور بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی سرگرمی کے صورت میں فیض آباد جیسی اہم جگہ کو بھی بند کر کے نہ صرف ایکسپریس ہائی وے کے ارد گرد آباد ہزاروں شہریوں کو روزگار تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے لئے بھی آمدورفت کی اجازت نہیں ملتی۔ پچھلے دو سالوں سے مسلسل صرف سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اہم شاہراہوں کے بند ہونے کی وجہ سے سینکڑوں بچے اپنے سالانہ امتحانات کی ادائیگی سے محروم ہوئے ہیں۔

کچھ دن پہلے دفتر سے گھر جاتے ہوئے سینکڑوں گاڑیوں کو لوک ورثہ اور کھنہ پل کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد ایکسپریس ہائی وے پر کھڑے رہنا پڑا جس کی وجہ اسلام آباد پولیس کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق ایکسپریس ہائی وے پر جاری ایک ہڑتال تھی۔ کیا ہماری اسمبلیوں اور سرکاری دفتروں کے ٹھنڈے اور آرام دہ کمروں میں بیٹھے ہمارے سیاسی نمائندے اور سینئر سرکاری اہلکار مل کر بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کسی بھی مذہبی سیاسی اور شہری مقصد کے لئے اہم شاہراہوں کو بند کرنے پر پابندی عائد ہو اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سکول کالج اور یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے لئے آمدورفت متاثر نہ ہو۔ کسی شہری مذہبی یا سیاسی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ کسی بھی مقصد کے لئے روزگار تعلیم اور صحت کے حصول کے لئے نکلے عام شہریوں کی آمدورفت کو متاثر کریں۔

کتنا مشکل کام ہے کہ پانی گیس بجلی اور سڑکوں سے متعلق محکموں پر یہ لازم ہو کہ وہ عوام کو ان سہولیات کی فراہمی اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں اور تعطل کی صورت میں متعلقہ علاقے کے محکمے شہریوں کو یہ بتانا پسند کریں کہ موجودہ تعطل کیوں ہے اور کب تک ہے۔ سیٹیزن پورٹل پاکستان پر رابطے کی صورت میں کچھ ادارے جیسے صفائی و نکاسی آب بجلی کا محکمہ وغیرہ تو درخواست پر فوراً عمل درآمد کرتے ہیں جبکہ سڑکوں سے متعلق اداروں کو کی گئی میری درخواست پر مہینوں کسی نے رابطے یا جواب دینے کی توفیق نہیں کی۔ متعلقہ حکومتی ادارے کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ بلا تفریق تمام محکمہ جات جو سیٹیزن پورٹل پر موجود ہیں عوامی رائے پر ایک مقررہ وقت کے دوران جواب دینے کے پابند ہوں۔

پچھلے دنوں ایک سینیئر سرکاری افسر جو بہت محنتی اور ایماندار سرکاری افسر اور بہت اچھے دوست بھی ہیں سے ملاقات کے دوران جب میں نے شہری سہولیات سے متعلق شکایت کی اور پوچھا کہ تمام سرکاری ادارے عوامی آگہی اور رابطہ مہم کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے بتایا کہ اداروں کے پاس پہلے ہی وسائل کی کمی ہے اگر ہم عوامی رابطہ مہم شروع کر دیں تو تمام لوگوں کی رائے کا جواب دینا اور ان کے مسائل کا حل نا ممکن ہو جائے گا۔ اس لئے اداروں کے کام سے متعلق تشہیر اور عوامی رابطہ مہم ارادی طور پر نہیں کی جاتی۔

عوام کے حکومتی اداروں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام حکومتی ادارے جو عوام کو سہولیات کی فراہمی میں براہ راست شامل ہیں اپنے متعلقہ افسران تک عوامی رسائی کو یقینی بنائیں اور اس کے لئے مروجہ طریقہ کار کی مسلسل آگاہی کا بندوبست کریں۔ آج کے ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں عوامی آگاہی نہ صرف آسان ہو چکی ہے بلکہ بنا خطیر رقم خرچ کیے ممکن ہے۔ پوری دنیا میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولیات کے معیار کو جانچنے کے لئے تواتر سے عوام کی رائے حاصل کی جاتی ہے جس سے سہولیات کی فراہمی میں موجودہ خلاء کے بارے میں جانچنے اور اسے بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ اس سے عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔

2010 ء میں ہونے والی اٹھارہویں ترمیم کا مقصد لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانا عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور حکومتی اداروں اور نمائندوں تک عوام کی رسائی کو سہل بنانا تھا۔ یہ وہ تمام پہلو ہیں جو عوام کا اپنی حکومت اور اس کے اداروں پر اعتماد کو بحال کرنے کے لئے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ کی بنیادی سہولیات کی شہریوں کو فراہمی یقینی بنانے کے لئے حکومتی اداروں کو مضبوط اور خو مختار بنایا جائے تا کہ ملکی سطح پر سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے شہریوں کو ان بنیادی سہولیات اور آئین کے مطابق حاصل بنیادی حقوق کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔

Facebook Comments HS