جب صوفی محمد ججوں کا چیف سیلیکٹر تھا


پختون اپنی بدقسمتی کی وجہ سے باقی لوگوں سے کئی لحاظ سے مختلف ہیں۔ جو جو تجربات اور آزمائشیں ان پر گزری ہیں جدید دنیا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پختون معاشرے کا اپنا واضح سٹرکچر ہے لیکن اس کو کبھی حالات تو کبھی منصوبہ ساز بائی پاس کر کے امتحان گاہ میں تختہ مشق بناتے ہیں۔ ماضی بعید میں ہڈی ملا، سر توڑ ملا، ملاں شور بازار اور آج کل سارے ملا، جبکہ ماضی قریب میں ملا صوفی محمد اس قسم کا انوکھا کردار تھا جو خود بھی نہیں جانتا تھا کہ جو کہہ رہا ہے اس کی ماہیت کیا ہے؟ اور کسی دوسرے سے مشورہ کرنے کا روادار بھی نہیں تھا۔ ملا نے نماز کے علاوہ جب بھی پختونوں کو پیچھے لگایا ہے انہیں لہولہان کر کے چھوڑا ہے۔

نوے کی دہائی میں مالاکنڈ ڈویژن میں کالی پگڑیاں پہنے کچھ مولویوں اور ان کے حامیوں نے نفاذ شریعت کے نام سے ایک تحریک شروع کی، جو موجودہ نظام پر عوام کی بد اعتمادی تھی یا شریعت کی رومانٹسزم لیکن یہ تحریک بہت تیزی سے ہر طرف پھیل گئی۔ اور جلد امن و امان کا مسئلہ بن گئی۔

پختونخوا میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے۔ موقع کی نزاکت جانتے ہوئے انہوں نے صوبائی اسمبلی سے شریعت ریگلولیشن بل منظور کرایا۔ یوں مالاکنڈ ڈویژن میں کچھ نئے بنائے اور کچھ موجودہ قوانین میں رد و بدل کر کے شرعی قوانین کا نفاذ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کا نام بدل کر ضلع قاضی، اسسٹنٹ کمشنر کا معاون قاضی اور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کا اضافی قاضی رکھا گیا۔ جبکہ جوڈیشری کی سطح پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اعلیٰ ضلع قاضی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اضافی ضلع قاضی اور سول جج قاضی کے نام سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

اس پر تحریک نفاذ شریعت والوں نے موقف اختیار کیا کہ یہی افسران تو پہلے بھی یہی سے کام کر رہے تھے، ہمیں خالص اور مخصوص قاضی دیے جائیں۔ اس مطالبے پر قاضیوں کی نئی آسامیاں مشتہر کردی گئیں۔ جن کے لیے تعلیمی اہلیت قانون کی ڈگری قرار پائی لیکن پبلک سروس کمیشن کی بجائے، مروجہ قوانین کے بر عکس ان کی تعیناتی براہ راست لا ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کی گئی۔ مشتہر اسامیوں کے لئے مجھ سمیت کئی نوجوان وکلاء نے تحریری امتحان دے دیا۔

نوابزادہ خواجہ محمد خان پیپلز پارٹی کی طرف سے صوبائی وزیر تعلیم تھے۔ ان کے ساتھ خاندانی رشتہ داری کے علاوہ بھی میرے اچھے اور دوستانہ تعلقات تھے اور رات کو فارغ ہوتے تو اکثر دوسرے قریبی دوستوں کے ہمراہ رات گئے تک ان کے ساتھ گپیں لگاتے رہتے۔ ایک رات میں اور چند دوست پشاور میں ان کے بنگلے پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ اس دوران دیر سے تعلق رکھنے والے احمد حسن صاحب کسی کام کے سلسلے میں آئے اور نواب صاحب کے ساتھ علیحدہ کمرے میں دیر تک کسی بحث میں مصروف رہے۔

وہ رخصت ہوئے تو نواب صاحب نے مجھے مصنوعی غصے میں کہا کہ اعجاز خان تم نے تو بتایا ہی نہیں ورنہ میں ابھی لاء منسٹر (احمد حسن) کو کہہ دیتا کہ تم نے قاضی کے عہدے کے لئے جو ٹسٹ دیا ہے تمہیں اس میں پاس کرا دیتا۔ میں نے جواب میں کہا کہ نواب صاحب ٹسٹ کی فکر نہ کریں وہ میں پاس کر لوں گا، اور اگر پاس نہ کر سکا تو پھر میں اس عہدے کے لیے اہل ہی نہیں۔ یہ سن کر وہ مسکرائے اور بولے تم پاگل ہو۔

دو تین دن کے بعد کچہری میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ پوسٹ مین ایک ٹیلیگراف لے آیا، جو لاء ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مقررہ تاریخ پر سول سیکریٹریٹ پشاور کے کانفرنس ہال میں انٹر ویو کا بلاوا تھا۔ میں تحریری امتحان میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اور بعد میں پتہ چلا کہ ضلع مردان میں تحریری امتحان میں پاس ہونے والا میں واحد امیدوار تھا۔

تاریخ مقررہ پر انٹرویو کے لیے پہنچا تو کافی دیر کے بعد حکم سنایا گیا کہ آپ سب لوگ پشاور میوزیم کے قریب آر کیو اینڈ لائبریریز ڈیپارٹمنٹ کے ہال میں انٹرویو کے لئے چلے جائیں۔ وہاں کچھ دیر انتظار کے کچھ دیر بعد اس وقت کے سیکریٹری قانون سلیم خان آئے اور سیدھے ڈائس پر چلے گئے۔ ابتدائی کلمات کے بعد بتایا کہ ابھی ہمارے کچھ مہمان آئیں گے، آپ نے انہیں عزت اور احترام دینا ہے۔ ان کی باتیں جاری تھیں کہ اچانک ہال کے باہر سے نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، تحریک نفاذ شریعت زندہ باد اور اس قسم کے دیگر نعرے اونچی آواز میں سنائی دینے لگے۔

پھر یک دم تیس چالیس بندوں کا ایک جلوس ہال میں داخل ہوا، جس کے اکثر شرکاء انتہائی ضعیف العمر اور جسمانی طور پر کمزور تھے۔ اکثریت کالے یا گہرے سبز رنگ کے لباس میں ملبوس تھی، جبکہ ان کے کاندھوں کے ساتھ پستولیں لٹکی ہوئیں تھیں۔ اور باقی کسی مزاحیہ کاسٹیوم ڈرامے کی طرح ہاتھوں میں لکڑی کی بنی ہوئی مختلف اشیاء یعنی عصاء، لمبی بیرل والی بندوقیں، تلواریں، اور پتہ نہیں کیا کیا پکڑا ہوا تھا جن کو کالا رنگ دیا گیا تھا۔ وہ دیر تک نعرہ بازی کرتے رہے۔ ہم حیران اور پریشان ان کا تماشا دیکھتے رہیں۔ لیکن ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ان کی تحریک کسٹم چور گاڑیوں کی طرح صرف مالاکنڈ ڈویژن تک ہی محدود تھی۔

ہلا گلا ختم ہوا تو سیکریٹری قانون نے ان کو خوش آمدید کہنے کے بعد سب کو سٹیج پر بٹھایا اور ہمیں اپنی سیٹوں سے اٹھوا کر ان کو تعظیم دلوائی۔ حالات نارمل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی ادھوری تقریر پوری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مولانا صوفی محمد ہیں، جن کے مطالبے پر حکومت نے شریعہ ریگولیشن بل پاس کی ہے اور ان کے ساتھ آئے ہوئے علماء ہیں جو آپ کا انٹرویو کریں گے۔ یہ سنتے ہی میں اٹھ کر ہال سے باہر جانے لگا۔ سیکریٹری صاحب سے نے آواز دے کر پاس بلا نا چاہا تو میں نے وہی سے صاف بتا دیا کہ آپ لاء سیکریٹری ہیں، آپ یا دوسرا کوئی لاء سے متعلق افسر انٹرویو لیں تو ٹھیک ہے، ان کو انٹرویو دینا عجیب سا لگتا ہے اور اس پراسس کی شفافیت سے بھی میرا یقین اٹھ گیا۔ انہوں نے سمجھا بجھا کر واپس بلا لیا۔

آئے ہوئے کچھ لوگ لکڑی کے اسلحے سنبھالے سیکورٹی پر مامور ہو گئے اور باقیوں نے دو دو بندوں (علماء) کے چار پانچ گروپ میں انٹرویو لینے شروع کیے۔ ایک وکیل صاحب، جو حلیہ سے مولوی ہی لگ رہے تھے، انٹرویو سے فارغ ہوئے، تو بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ بھئی میں تو سلیکٹ ہو گیا کیونکہ میں ان کی تحریک کے فلاں ضلع (نام اس وقت یاد نہیں ) کا ضلعی جنرل سیکریٹری ہوں۔ میری گستاخی اور ان کی اقربا پروری سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں سیلیکٹ ہونے والوں میں ویسے بھی نہیں اس لیے دوسروں کو اگے کرتے کرتے اس گروپ کو انٹرویو دینے چلا گیا جس میں صوفی محمد صاحب بذات خود جج منتخب کر رہے تھے۔ انٹرویو کے دوران مجھ پر آشکار ہوا کہ شریعت مانگنے والوں کا قانون کے بارے میں کل علم اور شریعت کے بارے میں فہم صرف زنا، رجم، کوڑے، قصاص، دیت، نکاح اور طلاق کے سوالات تک محدود تھی۔

انٹرویو کے بعد معلوم ہوا کہ تقریباً ہر ایک امیدوار سے ایسے ہی سوالات پوچھے گئے تھے اور یہی انٹرویو کرنے والوں کی علمیت کی معراج تھی۔ انگریزی کے ایک قول کا ترجمہ ہے کہ بندہ اپنے سوالات سے پہچانا جاتا ہے۔ سیلیکشن کے بعد اس مولوی نما وکیل صاحب کا تو کچھ پتہ نہیں چلا البتہ یہ بات مشہور ہوئی تھی کہ مردان سے ایک ایسا بندہ قاضی تعینات ہوا جو تحریری امتحان میں بھی شامل بھی نہیں ہوا تھا۔

Facebook Comments HS