گداگری کا پیشہ۔ مستحق افراد کی حق تلفی


ہمارے ملک گداگری ایک پیشے کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کے ذریعے کسی محنت و مشقت بغیر روزانہ اچھی آمدن ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ مجبوری کی وجہ سے بھیک مانگتے ہیں، کچھ عادت کی وجہ سے جبکہ زیادہ تر پیشہ سمجھ کر بھیک مانگتے ہیں۔ کراچی ملک کا ایک غریب پرور شہر ہے جہاں لوگ صدقہ، خیرات اور زکوۃ دل کھول کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے گداگری کا رجحان کراچی میں دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ملک کے مختلف علاقوں کے پیشہ ور گداگر ہر سال کراچی کا رخ کرتے ہیں اور اچھی آمدن کے ساتھ اپنے علاقوں کو لوٹتے ہیں۔ صدقہ اور خیرات دینا دینی اعتبار سے افضل کام ہے جو بہتر ہے کہ پیشہ ور گداگروں کے بجائے مستحق افراد کو دیا جائے۔

گداگری کا بڑھتا رجحان شہر میں بد امنی کا ایک ذریعہ ہے۔ جرائم پیشہ افراد گداگری کا روپ دھار کر چوری، ڈکیتی، دہشتگردی اور دیگر وارداتوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ گداگر ہی جرائم پیشہ افراد سے مل کر ڈکیتی اور دیگر جرائم میں مدد کرتے ہیں۔ کراچی کے ہر چوراہے پر گداگروں نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں جن کو روکنے والا کوئی نہیں۔ یہ لوگ نہ تو کہیں رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی جانتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جو بعض اوقات جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے جال میں پھنس کر عادی مجرم یا نشے کے عادی بن کر شہر کے فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹ پر لاوارث نظر آتے ہیں۔

گداگر اور خاص طور پر بھیک مانگنے والے بچے شہر بھر میں لوگوں اور فیملیز کے لیے دن بہ دن خاصی مشکل کا باعث بن رہے ہیں اور اس وقت شہریوں کی جان نہیں چھوڑتے جب تک ان کو پیسے نہ دیے جائیں۔ بچوں کو گداگری کی اجازت نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے بچوں کو پکڑ کر بچوں کے مراکز بھیج کر حکومت انہیں تعلیم فراہم کرے۔ کچھ پیشہ ور گداگر معذوری اور بچوں کے ساتھ اٹھا کر بھیک مانگتے ہیں جو زیادہ تر چوراہوں، مارکیٹوں اور ہسپتالوں پر نظر آتے ہیں۔

اس عمل کو جرم قرار دے کر ایسے گداگروں کو جیل بھیج دیا جائے۔ گداگری کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے رجسٹریشن ہونی چاہیے تاکہ ہر کوئی یہ کام نہ کر سکے جس سے اس کام کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ایسے افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مدد سے ماہانہ آمدن دی جائے تاکہ ایسے پیشہ ور گداگروں سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔ شہری صدقہ و خیرات کی رقم فلاحی اداروں کو دینے یا ایسے جاننے والوں کو دینے کو ترجیح دیں جو واقعی مستحق ہوں تاکہ پیشہ ور گداگری کے اس ناسور سے کراچی کے شہریوں کو چھٹکارا مل سکے۔

Facebook Comments HS