فِٹ رہنے کی ادھوری خواہش

میرے خیال سے شاید ہی کوئی پاکستانی ایسا ہو جس نے جِم جا کر خود کو فِٹ رکھنے کا نہ سوچا ہو۔ سال میں ہردفعہ ایک مہینہ ایسا آتا ہے جس میں ہمیں لگتا ہے کہ یار زندگی کے باقی معاملات کی طرح اپنی صحت کا بھی خیال رکھاجانا چاہیے۔ پھر جب ہفتہ مشق ہوتی ہے تو ہڈیوں سے کڑ کڑ کی آواز نمودار ہوتی ہے اور جسم کا ہر اِک جوڑ درد پکڑتاہے تو بندہ سوچتا ہے یار فِٹ رہنے سے زیادہ ضروری زندہ رہنا ہے۔ اگر زندہ بچ گئے تو فِٹ بھی ہو ہی جائیں گے۔ پھربندہ جِم کو ایسا خیرباد کہتا ہے کہ اِس کی یاد ٹھیک ایک سال بعد پنپتی ہے اور ٹھیک ایک ہفتے بعد اپنی طبعی موت مرجاتی ہے۔
یہی کچھ میری زندگی میں بھی کئی بار ہو چکا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب ہم دوسرے یا غالباً تیسرے سمسٹر میںتھے،ہاسٹل میں محوِ گفتگو تھے کہ بات اکشے کُمار کی چِھڑ گئی۔ پھر بات جب اُس کی فٹس کی آئی تو ہمیں بھیخیال آیا کہ کم ازکم اتنے باڈی تو ہونی چاہیے، جتنی اکشے کُمار کی ہے۔ اس پر شہزاد سعید نے کہا کہ کل سے جِمجوائن کرتے ہیں اور خوراک بھی ٹائٹ رکھتے ہیں۔ باڈی ایسی ہو گی کہ لڑکیاں عش عش کر اُٹھے گی۔ یہ بات جاری ہیتھی کہ اِتنے میں ناصر صدیقی کمرے میں داخل ہوا اور جب دیکھا کہ ہم جِم جانے کے ارادے پختہ کر چکے ہیں تو کہنےلگا کہ ابھی ساون ہے۔ سیانے لوگ کہتے ہیں کہ ساون میں کوئی زور والا کام نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا درد نکلتا ہے کہبندہ ساری زندگی نہیں بھول پاتا۔
جیسے ہی یہ بات ہمارے گوش گزار ہوئی تو کانوں کو بھلی لگی۔ ہم نے کہا بندہ بات تو سو آنے درست کر رہا ہے۔انشااللّٰہ تعالٰی اگر زندگی رہی تو اگلے مہینے سے باقاعدہ جِم شروع کریں گے۔ آخر کار مہینہ بھی گزر ہی گیا۔ لیکنکیوں کہ ہمارے ارادے پختہ تھے اس لئے ہم پھر ایک مہینے بعد پھر تیار ہو گئے۔ اگلے دِن صبح 6 بجے جم جانے کا طےہوا۔ اور ساتھ ہی شہزاد نے حامی بھر لی کہ میں تمھیں صبح ٹھیک 6 بجے جگا دوں گا۔ میں نے اپنے کمرے میں جا کراحتیاطاً سوا چھے کا آلارم لگا دیا۔ اگلے دِن ساڑھے 6 بجے میں شہزاد کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں اور شہزاد صاحباندر لمبے لمبے خراٹیں لے رہے ہیں۔ میں دروازہ کھٹکھٹاتا رہا اور شہزاد صاحب اندر خراٹوں پر خراٹیں لے رہے ہیں۔ جباتنی شدت سے کھٹکھٹانا شروع کردیا کہ دروازہ ٹوٹنے کا خدشہ ہونے لگا تو آخر کار شہزاد صاحب نے ایک آنکھ بنداور ایک آدھ کھلی آنکھ سے دروازہ کھول ہی دیا۔
جب چلنے کا کہا تو جم کے لئے تیار ہونے کا جناب نے کم از کم آدھا گھنٹہ طلب کیا۔ ہم کیا کر سکتے تھے۔ موصوف کےساتھ پلان جو بنا بیٹھے تھے۔ جب نکلنے لگے تو ہاسٹل گارڈ نے ہمیں کافی حیرانگی سے دیکھا کہ جب بندہ کالج جانےسے قبل بیس تیس منٹ پہلے اُٹھتے ہیں، آج وہ اتنی جلدی کہاں سے اٹھ گئے۔ شکر ہے جم کالج کے ساتھ ہی تھا۔ جلدہی جم پہنچے اور دھڑا دھڑ مختلف زاویوں سے ایکسرسائز کرنے لگے۔ دو تین دِن تک صبح والا پلان نشب و فراز کےساتھ چلتا رہا۔ مگر پھر ہم نے ایک ریسرچ میں پڑھا کہ اگر مرد حضرات شام کو واک یا ایکسرسائز کریں تو اُن کےٹیسٹی سٹیرون میں خاصہ فائدہ ہے۔ پھر ہم نے اپنا پلان شام پر شفٹ کر لیا۔
پھر اللّٰہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایک دفعہ جم لگا کر باہر نکل ہی رہے تھے کہ دیکھا سر بہاول شیر کھڑے ہیں۔ کیوں کہوہ ہاسٹل وارڈن بھی تھے۔ اس لئے دیکھتے ہی ہمیں پہچان گئے اور ہمیں بلا لیا۔ کہنے لگے کہ یہ آپ لگا ابھی کیا کر کےآئے ہیں۔ ہم نے فخریہ انداز میں کہا کہ سر جم لگا کر آئے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ صرف واک کیا کرو۔ جم لگانے وہ چھوٹیہو جاتی ہے، جس پر نسل کا انحصار ہوتا ہے۔ جب اُنھیں لگا کہ ہم صحیح طرح قائل نہیں ہوئیں تو مثالیں دے کرسمجھانے لگے۔ اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ایک دفعہ جم ٹرینر سے پوچھ لینا کہ اُس کے کتنے بچے ہیں؟ اگلے دنباتوں باتوں میں جم ٹرینر سے اس بارے جانکاری حاصل کرنی چاہی تو اُس نے صاف کہہ دیا کہ کاش میرے بھی بچےہوتے۔
پھر تو ہمیں پکا یقین ہو گیا کہ بھائی کچھ تو گڑبڑ ہے۔ پھر ہم نے ہاسٹل کے کمرے میں ہی قالین بچھا کر کچھ مشقیں کرنا چاہیں۔ مگر کچھ مشقیں شرعی اعتبار سے بھلی معلوم نہ ہوئیں۔ پھر یوں ایک ہفتے کے اندر اندر یہ فٹ ہونے والاخیال جاتا رہا۔ اور ہاں ہمیں ایک ماہ بعد پتا چلا کہ جم ٹرینر کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ تو بچے کہاں سے ہوتے۔ سر نے بھی شادی والی بات کو چھوڑ کر سیدھے بچوں پر پہنچ گئے۔ اگر بنا شادی کے ہی اُس کے بچے ہوتے تو اسلامی جمہوریۂ پاکستان خطرے میں پڑ جاتا۔

