عوامی کڑوا سچ
پاکستان خطے کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اپوزیشن کرنا حکومت کرنے سے زیادہ فائدے مند اور آسان عمل ہے۔ ہمارے اس پیارے ملک میں حکمرانوں کی نا اہلی کے سبب عوامی مسائل کے انبار لگے ہیں حکومت کرنے والوں کے پاس وسائل کی کمی کا رونا ان کی بقا کا ضامن رہا ہے مگر اپوزیشن کا منجن خوب بکتا ہے۔ اس ملک کی عوام کئی دہائیوں سے سکون کے متلاشی کسی بھی انقلاب سے عاری اپنے بنیادی حقوق سے نابلد ہیں جو جمہوریت کو ووٹ دینے سے زیادہ نہیں جانتے نہ جاننے کی خواہش رکھتے ہیں انہیں کوئی بھی چابی کے کھلونے کی طرح گھما لیتا ہے اور یہ ناچتے رہتے ہیں۔
کئی سالوں سے آئی ایم ایف کا پیٹ بھرتے یہ بظاہر زندہ عوام صرف موجودہ اور پچھلی حکومتوں کی عیاشیوں اور آئی ایم ایف سمیت دیگر دینداروں کا قرض چکانے کی ذمہ داری انتہائی احسن طریقے انجام دے رہی ہے۔ اور ہمارے معصوم سیاستدان اقتدار کے حصول کے لئے اپنی بے بس عوام کا خون پیتے پیتے ڈریکولا ہوچکے ہیں جو خون کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس ملک میں کوئی مستقل ہے تو وہ مہنگائی ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتی ہر چیز ریاستی توجہ کی منتظر ہے مگر حکومتوں کو عوامی مسائل، عوامی پریشانیوں کے سوا سب یاد رہتا ہے عوام کے لئے اچھے دنوں کا لالی پاپ ہر وقت تیار رہتا ہے ملک میں تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جنہیں عوام شیر، بلے اور تیر کے نشان سے آزماتی رہتی ہیں شیر نواز شریف ہیں جو کئی سالوں سے عوام کا درد لئے لندن میں مقیم ہیں وہاں سے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے ووٹرز ان کی واپسی کی امید میں روزانہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں میاں صاحب لندن میں پاکستانیوں کو خوار ہوتا دیکھ رہے ہیں نہ جانے کب آئیں گے کیونکہ چھوٹے شیر، شہباز شریف نے کرسی تو حاصل کی مگر عوام کو مہنگائی کی چکی میں ایسا پیسا جس کی مثال نہیں ملتی چھوٹے میاں صاحب کی پھرتیاں اور دعوے سب کے سب مہنگا چینی، آٹا، دال، گوشت، بجلی، پٹرول بہا کر لے گیا۔
پھر پیپلز پارٹی کا تیر ہے جو سیاسی چالوں میں تو فٹ بیٹھتا ہے مگر سیدھا عوام کی پیٹ میں پیوست ہو چکا ہے لاقانونیت، ہوشربا مہنگائی اقربا پروری اور سندھ کی عوام کی نہ ختم ہونے والی محرومیوں کا قصہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور تیسرے نمبر پر ٹکڑے ٹکڑے ہوتا بلا جس کے چاہنے والے پی ٹی آئی چیئرمین کی اقتدار کی شدید خواہش کی نظر ہوچکے ہیں ان کے چاہنے والوں کو بھی سوائے کھوکھلے وعدوں دعووں اور خوابوں کے سوا کچھ نہ ملا۔
سچ واقعی کڑوا ہوتا ہے اور آج کا سچ یہ ہے کہ عوام روزانہ کی بنیاد ہر بڑھتی ہوئی بجلی، گیس پیٹرول، اشیائے خورونوش، پیدا ہونے سے مرنے تک کے بیش بہا نہ رکنے والی مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں انہیں کسی پر بھروسا نہیں اب تو لوگ ڈکٹیٹرز کے مارشل لاء کو اس نکمی جمہوریت سے زیادہ عزت دینے لگے ہیں۔ عوام کو اپنے بچوں کی تعلیم سے غرض ہے جو بے تحاشا مہنگی ہو چکی ہے دو وقت کی روٹی چاہیے جو اب ایک وقت کی بھی مشکل ہو چکی ہے، امن و امان چاہیے اپنے جان مال کا تحفظ چاہیے جسے فراہم کرنا اس جمہوریت کے بس میں دکھائی دیتا۔
عوام اب چاہتے ہیں کہ ان کے سیاستدان، حکمران، اسمبلیوں میں بیٹھے موجیں کرتے نمائندے عوام کے ٹیکس سے مزے کرنے والے قربانیاں دیں اپنے اخراجات کو محدود کریں بلکہ ختم کریں واقعی عوامی خدمت کریں عوام کا بوجھ کم کریں عوام کو زندہ رہنے کے مواقع دیں نہ کہ ان کی باقی ماندہ کھال بھی نوچ ڈالیں۔ عوام میں برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے ان کا غصہ اب ظاہر ہونا بھی شروع ہو چکا ہے عوام کو اس سے سروکار نہیں کہ کون کس کے تعاون سے حکومت بناتا ہے کون کس ادارے کا سہارا لیتا ہے وام کو تو ماننا ہی ہے مگر اب عوام کو جوابدہ چاہیے ہیں جو اقتدار سنبھالے وہ ذمہ داری لے اپنی کوتاہیاں نالائقیاں اداروں پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر موجیں کرے اب یہ سچ شدید کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ عوام کو اس سے کیا سروکار کہ کون حکمرانی کر رہا ہے اسے اپنے مسائل سے نجات دلانے والا چاہیے وہ کوئی سویلین شیر، بلا، تیر ہو یا پھر وردی میں ملبوس جوان، اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے عوام کو مسیحا چاہیے جو ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ان کا مستقل علاج کرے۔ کھوکھلے نعرے جھوٹے وعدے، دعوے اب عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتے


