جو "ڈی کپلنگ "سے حاصل نہ ہو سکا وہ "ڈی رسکنگ "سے حاصل ہو گا
بین الاقوامی تجارتی و سفارتی دنیا میں آج کل ڈی رسکنگ کی اصطلاح کا کافی تذکرہ ہے اور دنیا بھر کے معاشی ماہرین اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ تحفظ کی اس صورت میں بین الممالک تجارتی معاملات کس حد تک متاثر ہوں گے۔ اس طرح کی کسی بھی نئی اصطلاح کے آنے سے قبل ماضی میں اپنائی گئیں حکمت عملیوں اور اصطلاحات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔
دیکھا جائے تو ڈی رسکنگ سے پہلے ڈی کپلنگ کی اصطلاح نے بھی عملاً چین کی معیشت کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین کی معیشت نے نہ صرف ملکی سطح پر استحکام حاصل کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دنیا کا کوئی معاشی خطہ خؤد کو چین سے الگ نہیں کر سکا۔ اس سلسلے میں یورپی یونین ہو، بر اعظم افریقہ ہو، جاپان سمیت ایشیائی خطہ ہو یا پھر امریکہ ہی کیوں نہ ہو۔ سب کے ساتھ چین کی تجارتی شراکت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس تجارتی حجم میں اضافہ بھی ہوا۔
کچھ عرصہ قبل کروشیا کے ایک سیاسی تجزیہ کار میکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین سے علیحدگی یورپ کے لئے نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی مطلوب ہے، جو چین کا قریبی اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہے۔ میکن نے یورپی پارلیمنٹ میں یورپی کمیشن (ای سی) کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن کے اس بیان کی تائید کی، جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ”علیحدگی واضح طور پر یورپ کے لئے قابل عمل، مطلوب یا عملی نہیں ہے۔ اپنی ایک تقریر کے دوران یورپی یونین کی صدر نے کہا تھا کہ چین کی بین الاقوامی اور اقتصادی حیثیت کے ساتھ ساتھ یورپ کے اپنے مفادات یورپ کے لئے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کو مزید اہم بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو اپنا علیحدہ یورپی نقطہ نظر وضع کرنا چاہیے جو یورپ کے لیے دوسرے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کی گنجائش بھی چھوڑ دے۔
بین الاقوامی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ چونکہ یورپ اور چین قریبی اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہیں لہذا اس طرح کا موقف اختیار کرنا یورپ کے مفاد میں ہے کیوں کہ یورپ اور چین دونوں کو معاشی و تجارتی اور بین الاقوامی امور میں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ یورو سٹیٹ کے مطابق چین یورپی یونین کی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ اور 2022 میں یورپی یونین کی مصنوعات کا تیسرا سب سے بڑا خریدار تھا، جس کی مجموعی دوطرفہ درآمدات اور برآمدات 856.3 بلین یورو ( 959.96 بلین امریکی ڈالر) تک تھیں جو یورپ کے لئے چین کی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ سال فروری میں شروع ہونے والے تنازع اور کووڈ 19 کی وبا نے چین کو یورپی یونین کا زیادہ اہم تجارتی شراکت دار بنا دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے اپنی ایک میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ چین اور یورپی یونین کے تعاون کی جڑیں رائے عامہ، وسیع مشترکہ مفادات اور یکساں اسٹریٹجک تقاضوں کی مضبوط بنیاد پر ہیں۔ ان میں مضبوط لچک ہے اور مستقبل روشن ہے۔ کچھ عرصہ قبل جرمن چانسلر شولز نے عالمگیریت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ڈی کپلنگ“ بالکل غلط راستہ ہے، اور جرمنی کو چین سمیت کئی ممالک کے ساتھ تجارت کرنا چاہیے۔ یورپی کمیشن کے اقتصادی امور کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈومبرو سکائیز کا بھی یہ خیال ہے کہ چین کے ساتھ ”ڈی کپلنگ“ یورپی یونین کی کمپنیوں کے لیے آپشن نہیں ہے اور یورپی یونین کو چین کے ساتھ عملی انداز میں رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔ رواں سال جنوری سے اگست تک چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کی مجموعی مالیت 575.22 بلین امریکی ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس میں سال بہ سال 8.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون، دو طرفہ ترقی کو فروغ دینے میں مفید ثابت ہوا ہے۔
امریکہ کی بات کی جائے تو کچھ عرصہ قبل امریکی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں امریکا۔ چین تجارتی مالیت نے 2018 کے 661.5 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر کے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔
اس حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک مضمون میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ”ڈی کپلنگ“ یعنی ”مختلف شعبوں میں چین پر انحصار میں کمی“ کا نظریہ، حقیقی تجارت کی بجائے زیادہ تر پالیسی بحث میں موجود ہے اور بین الاقوامی کمپنیز اور صارفین، بدستور چینی اشیا کو پسند کرتے ہیں۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ، پہلے سے کہیں زیادہ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر مانیٹر، موبائل فون، ویڈیو گیم کنسولز اور کھلونے، چین سے درآمد کر تا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یو ایس چائنا بزنس کونسل کے مطابق امریکہ کی تمام 50 ریاستیں، مصنوعات اور سروسز چین کو برآمد کرتی ہیں جس سے تقریباً ایک ملین امریکی ملازمین مستفید ہو رہے ہیں۔
ایک اہم تجارت ملک ہونے کے ناتے جاپان کی بات کی جائے تو جاپان کے پاس بھی چین کے متبادل کوئی شراکت دار نہیں ہے۔ جاپانی ماہرین کے مطابق ڈی کپلنگ کے نظریے کی مکمل عملداری جاپانی کمپنیوں کی بقا کو خطرے میں ڈالے گی۔ جاپان کی الیکٹرانکس کمپنی ٹی ڈی نے مالی سال 22۔ 2021 کے دوران اپنی کل آمدنی کا نصف چین سے کمایا، اسی طرح کی ایک اور کمپنی مراتا مینوفیکچرنگ کی زیادہ تر آمدنی چینی تجارت سے ہوئی، چین کے ساتھ تجارت معطل کرنے کی صورت دونوں کمپنیوں کی تباہی کا خدشہ ہے۔ جاپان کی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں جاپان نے چین سے 2.4 ٹریلین ین ( 17.2 ارب امریکی ڈالر) مالیت کے ٹیلی فون اور متعلقہ آلات درآمد کیے جو جاپان کی کل درآمدات کا 11.8 فیصد ہے، 1.7 ٹریلین ین ( 12.2 ارب امریکی ڈالر) مالیت کی الیکٹرانک آٹومیٹک ڈیٹا پروسیسنگ مشینیں خریدیں جو کہ 8.1 فیصد بنتی ہیں، 361.1 بلین ین ( 2.6 ارب امریکی ڈالر) کے پروجیکٹر اور رسیونگ آلات کی مالیت 1.8 فیصد ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے مطابق، چین اور افریقہ کے درمیان کل تجارتی حجم 2 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اور چین افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی افریقہ میں براہ راست سرمایہ کاری کا فلو 30 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جس سے چین افریقہ میں سرمایہ کاری کا چوتھا ذریعہ بن گیا ہے۔ چین مسلسل 14 سال سے افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ 2022 ء میں چین اور افریقہ کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 282 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر چین کی افریقہ کو برآمدات 11.2 فیصد اضافے کے ساتھ 164.5 ارب ڈالر رہیں جبکہ افریقہ سے درآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 117.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
یہ ایک مختصر خاکہ ہے جس کا اظہار یہاں کیا گیا لیکن یہ بھی ڈی کپلنگ کی اصطلاح اور نظریے کے مقابلے میں کافی حد تک توانا نظر آتا ہے۔ یعنی ایک مجموعی صورت میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ڈی کٌپلنگ کا تصور اپنی موت مر چکا ہے اور مستقبل کے حالات بھی ایسے ہی ہیں کہ اس میں دنیا چین سے کٹ کر اور چین کے ساتھ معاشی و تجارتی ڈی کپلنگ اور ڈی رسکنگ جیسے نظریوں کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی۔


