تاریخی مغالطے اور مذہب


تین ماہ سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر کچھ لکھوں۔ دل کہتا تھا کہ لکھو، دماغ کہتا تھا کہ کیا ضرورت ہے؟ کیوں اپنے اپ کو کسی ممکنہ مصیبت میں ڈالتے ہو؟ سوچا دوستوں سے مشورہ کروں لیکن پھر اس خیال کو خود ہی رد کر دیا کہ دوست یقیناً اس معاملے میں اجتناب کا ہی مشورہ دیں گے۔ معاملہ بھی کوئی ایسا سنگین نہیں نہ ہی تحقیق میری اپنی۔ پھر کیوں لکھتے ہو؟ بس دل چاہتا ہے کہ اتنی عمدہ تحقیق کے بارے میں بات کی جائے۔ کتاب تو میں نے اپریل 2023 میں ہی پڑھ لی تھی لیکن تین ماہ تذبذب میں گزر گئے بالاخر آج دل دماغ سے جیت گیا۔

تو آئیے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی صاحب نے عربی میں ایک کتاب لکھی جس کا ترجمہ برہان احمد ندوی صاحب نے اردو زبان میں کیا اور کتاب کا نام رکھا ‘قران کی تدوین، غلط فہمیوں کا ازالہ’۔ ہمارے ہاں یہ بات بطور ایک متفق علیہ مانی جاتی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو قرآن مجید ایک مدون کتابی شکل میں موجود نہیں تھا۔ یہ کھجور کے پتوں، جانوروں کی ہڈیوں اور بکری کی کھالوں وغیرہ پر لکھا ہوا تو ضرور تھا لیکن امت کے پاس ایک منتشر حالت میں موجود تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے جمع کرنا شروع کیا اور پھر یہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی کاوشوں سے مکمل ہوا۔ اسی اعتبار سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر غلام احمد پرویز بھی اپنی کتاب ‘مذاہب عالم کی آسمانی کتابیں’ میں لکھ چکے تھے کہ یہ امر واقع نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ہی قرآن مجید کی کتابت، جمع اور تدوین کا کام مکمل کر چکے تھے۔پرویز نے اپنے مختصر مضمون میں متعدد قرآنی آیات کا حوالہ دے کر اس موضوع پر استدلال کیا اور یہ کہا کہ اس ضمن میں جو اختلافی روایات پیش کی جاتی ہیں وہ وضعی اور ضعیف ہیں۔

لیکن مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی صاحب کی کتاب اس موضوع پر ایک نہایت جامع تحریر ہے۔ انہوں نے قرآن مجید، روایات اور تاریخی حوالوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اس تاریخی مغالطے کو نہایت منطقی انداز میں دور کیا کہ قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے مدون نہیں ہوا۔

مولانا عنایت اللہ صاحب نے اپنی کتاب میں قرآن مجید کی متعدد آیات کو ترجمے اور، جہاں ضروری محسوس کیا، تفسیر کے ساتھ پیش کیا۔ جو روایات ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتی تھیں انہیں تفصیل سے مذکور کیا اور جو روایات ان کے نزدیک وضعی ہیں ان میں سے ہر ایک کو وضعی سمجھنے کی وجہ اور اپنے فہم کی شہادت میں جید علماء کی سند مہیا کی۔ اس کتاب میں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عرب معاشرے کے بارے میں بھی بہت سی ایسی معلومات درج ہیں جو کم از کم میرے لیے بالکل نئی تھیں اور کئی ایسے مغالطے دور کئے گئے جن کو ہمارے ہاں تاریخی مسلمات کا درجہ حاصل ہے۔

اپنی کتاب میں مولانا عنایت اللہ صاحب نے ایک اور تاریخی مفروضےکو بھی بڑی شدت سے رد کیا ہے کہ قرآن مجید پر اعراب اور نقاط حجاج بن یوسف کے دور میں اس کی زیر نگرانی لگائے گئے اور حجاج کو ایسا کرنے کے لیے اموی بادشاہ عبدالملک بن مروان نے کہا تھا۔ انہوں نے اس بارے ایک پورا باب تحریر کیا ہے اور اس ضمن میں بیان کی جانے والی ایک ایک روایت کو نہایت باریک بینی سے کھنگالا ہے اور متعدد منطقی دلائل اور تاریخی حوالوں سے اسے رد کیا ہے۔

کتاب کی پشت پر تحریر مختصر تعارف کے مطابق مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی صاحب ایک عالم دین ہیں۔ ان کا شمار قرآنیات، فقہ، سیرت نبوی اور فکر اسلامی کے حوالے سے معتبر ناموں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے عربی اور اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ سیرت نبوی پر تحریر کردہ ان کی تصنیف ‘محمد عربی’ انگریزی، ہندی، بنگلہ اور متعدد دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔ فقہ اسلامی کے حوالے سے ان کی دو معروف کتابیں رجم اور ارتداد کے موضوع پر ہیں۔

مولانا صاحب اور ان جیسے متعدد دوسرے مصنفین کی تحریریں ہمارے لیے پیغام ہیں کہ اگر ہم اسلام کے بارے میں مغرب کے الزامات کا جواب دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تاریخی لٹریچر کو خالصتاً تحقیقی نقطہ نگاہ سے پرکھنا ہوگا اور اس میں سے صحیح اور غلط کو الگ الگ کرنا ہوگا۔

مولانا صاحب کا تعلق حمید الدین فراہی صاحب ( 1930-1863) کے مکتبہ فکر سے ہے اور وہ ان کے قائم کردہ مدرسہ الاصلاح کے فارغ التحصیل ہیں۔ مولانا صاحب ہندوستان میں مقیم ہیں اور وہیں سے ان کی تصنیفات شائع کی جاتی ہیں جبکہ حمید الدین فراہی صاحب ہی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے جاوید احمد غامدی صاحب اب سان فرانسسکو سے اپنا سینٹر چلا رہے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں کسی ایسے فکری نقطہ نظر کی کوئی گنجائش نہیں جو کسی متشدد جتھے کے نقطہ نظر سے مختلف ہو۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر مولانا مودودی نے آج کے دور میں ‘خلافت و ملوکیت’ لکھی ہوتی تو کیا وہ پاکستان میں رہ پاتے؟

Facebook Comments HS