بندگیِ مطلق سے مقامِ قبولیت تک


جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتی،اسی طرح ایک دل میں دو محبتیں نہیں سما سکتیں اور جہاں دُنیا کی محبت ہو وہاں رب تعالیٰ کیسے سما سکے گا اس لیے کہ دُنیا رب تعالیٰ کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے پیٹ بھرے کے لیے بچا ہوا کھانا کہ جسے فقط آنکھیں دیکھ تو سکتی ہیں لیکن اسے نگلنے کے لیے گنجائش نہیں ہوتی۔جہاں گنجائش نہیں رہتی وہاں خلا کیسے پیدا ہو سکتا ہے اور جہاں خلا نہیں ہوتا وہاں گنجائش کا ہونا ممکن نہیں۔اس خلا اور گنجائش کے درمیان کچھ نہیں ہے اگر کوئی اس میں کسی کے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
اگرہم اپنے اندر یہ یقین پیدا کر لیں کہ رب تعالیٰ ہماری والدہ سے ستّر گُنا زیادہ محبت کرتا ہے،وہ میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اورسب سے بڑھ کر سخی ہے توپھر ہمیں کسی تعویذ،جادو اور دُعا کرنے والے کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ پھر یہ یقین پیدا ہوچکا ہوگا کہ میرا رب سے بڑا رحیم و کریم ہے۔سب سے زیادہ بہتر پالنے والا اور اس سے بڑھ کر وعدے کا پابند اور ایفادار کوئی نہیں۔ایسی لاشریک صٖفات والا رب کیسے میرا خیال نہیں رکھے گا !!!
ہم رب تعالیٰ کو اپنی مادری زبان میں جس محبت سے پکار سکتے ہیں،اُس کے حضور گِڑ گڑا سکتے ہیں۔رٹی رٹائی دُعاؤں کے ذریعے اس کو ویسے نہیں پکار سکتے کیونکہ مادی زبان میں رب سے مانگتے ہوئے ہمارا دل بھی ہماری زبان کی گواہی دے گا جبکہ رٹی رٹائی دُعاؤں کے وقت عموماً ہم محض لفظ بولتے چلے جاتے ہیں،ان کی روح کو سمجھے بغیر۔لہذا دُعا کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا دل،زبان اور ذہن تینوں ایک ہی وقت میں ایک ہی جذبے کے ساتھ یکسو ہو کر رب تعالیٰ کے حضور دُعا کریں تا کہ دُعا مقبول ہو جائے۔
رب تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا ایک مخصوص عمل رکھا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے کہ انسان زمین پر اکڑ کر چلتے ہوئے یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے؟اس کا مطلب یہ نہیں کہ رب تعالیٰ انسان کو کوئی طعنہ دے رہا ہے۔رب تعالیٰ ایسا نہیں کرتا۔رب تو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس کو تم بھول رہے ہو اور جس کی زمین پر تم اکڑ کر چلتے اور سر کشی کرتے ہو۔دیکھو اور غور کرو کہ وہ رب کتنا بڑا ہے۔ خالق تو ہے تمھارا لیکن ہے کتنا عظیم کہ تمھارے سب کرتوت اور اعمال سے خوب واقف ہونے کے باجود تم سے کتنا پیار کرتا ہے اور یہ اُمید لگائے رہتا ہے کہ میرا بندہ کب مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار کا جواب دو ں،میرا بندہ مجھ سے ایک بار معافی طلب کرے میں فوراً معاف کردوں گا۔ مجھ سے ایک دفعہ کچھ مانگ کر تو دیکھے،میں اُسی لمحے عطا کردوں گا۔ اب یہ انسان کو سوچنا اور غور کرنا ہے کہ وہ رب تعالیٰ کی طرف کی طرف کب رُخ کرتا ہے۔
رب تعالیٰ سے انسان کچھ بھی مانگ سکتا ہے۔ انسان کی شرست میں داخل ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے ہمیشہ وہی مانگتا ہے جو اسے سب سے زیادہ ناپسند ہے رب یہ نہیں چاہتا کہ میرا بندہ مجھ سے ایسی چیز کی طلب کرے جو مجھے سخت ناپسند ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انسان نے رب تعالیٰ سے دُنیا اور متعلقات ِ دُنیا کی خواہش ہمیشہ کی ہے۔ دُنیا کی فانی اور چند روزہ زندگی میں اس نے دولت اور اقتدار کی خواہش کی ہے۔ نمرود ہو،فرعون ہو یا قیصر و کسرٰی کے بادشاہ۔سبھی نے دولت و اختیار کو رب تعالیٰ کے مقابلے میں افضل و برتر جانا۔ رب تعالیٰ نے انسان کی تقدیر میں دُنیا کی آسائشوں اور نعمتوں کا وافر ذخیرہ ودیعت کر رکھا ہے جو وقت کی تقسیم کے مطابق اس کی دسترس میں آتا رہتا ہے۔ انسان دُنیاوی جاوہ جلال کی خواہش کے پیشِ نظر بعض حالات میں رب تعالیٰ کے مد مقابل کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی تخلیق کا جواز اور اصلیت کیا ہے؟ رب تعالیٰ انسان یہ خواہش کرتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے وہ مانگیں جو مجھے دیتے ہوئے اچھا لگے۔ انسان رب تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگ سکتا ہے۔ رب تعالیٰ کو اپنے بندے کے گناہ معاف کرنے میں یقینا بہت خوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان رب تعالیٰ سے یہ توفیق مانگ سکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنا آپ اسے عطا کر دے۔ یہ مانگنا ہی تو ہے۔یہ جو ہم کہتے ہیں کہ رب مانگنے سے خوش ہوتا ہے تو ہم رب کو یوں بھی تو خو ش کر سکتے ہیں کہ ہم رب تعالیٰ سے دولت و اختیار و اقتدار مانگنے کی بجائے اس کی اپنی ذات اس سے مانگ لے۔کیا پتہ رب تعالیٰ کو ہمارے مانگنے کا انداز اتنا پسند آجائے کہ وہ اپنا آپ عطا کر دے۔ یا درکھئیے کہ رب تعالیٰ جسے اپنا آپ ہمیں عطا کر دیتا ہے اُسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔
رب تعالیٰ نے یہ احساس ہر شخص پر عیاں کر دیا ہے کہ دُنیا کی کامیابی اور کامرانی کا انحصار صرف اور صرف کوشش پر ہے۔دُعا کامیابی کی کلید ہے لیکن کسی کام کی تکمیل کوشش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دُعا کی اہمیت اپنی جگہ ضرور ہے لیکن کوشش کے بغیر کئی گئی دُعائیں قبول ہو جاتی ہیں لیکن پوری نہیں ہو تی۔ رب تعالیٰ اپنے بندوں کی سبھی دُعائیں ضرور سنتا ہے اور انھیں قبول بھی کر لیتا ہے لیکن وہی دُعا پوری کرتا ہے جس کے ساتھ کوشش وابستہ ہوتی ہے۔ جہاں دُنیا نے سیاسی، سماجی اور معاشرتی نظام میں بدلاؤ کو قبول کر لیا ہے وہاں ہمارے مزاج میں بھی بدلاؤ کا یہ عمل در آیا ہے۔
ہم میں مغربی اقوام کی نسبت سُستی اور کاہلی کا عُنصر قدرے زیادہ ہے۔ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہم دُعا کرتے ہیں اوردُعا والوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ پہلے ہم دُعا کرنے والے عامل کی تلاش کرتے ہیں اس کے بعد عملی کوشش شروع کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں اور گلہ شکوہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ شاید ہم پر کسی نے جادو،ٹونہ اور تعویذ کر دیے ہیں۔ ایک طرف ہم زبان سے یہ کہتے ہیں کہ رب تعالیٰ قادر مطلق ہے،اپنی مرضی کا خود مالک ہے،کسی آدمی کی مجال نہیں کہ جو چیز رب تعالیٰ دینا چاہے وہ اُسے روک لے اور جو شے رب نہ دینا چاہیے وہ ہمیں زبردستی لا دے۔اگر ہماری زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ سچ ہیں تو پھر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ کسی نے یہ رشتہ باندھ دیا ہے، ہمارا رزق باندھ دیا ہے، ہم پر جادو،ٹونہ اور تعویذ کر دیے ہیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ ایسا سمجھنا اور کہنا بلواسطہ شرک ہے۔ رب تعالیٰ نے واضح کہا ہے کہ کوئی شخص کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا،اگر میں نہ چاہوں اور کوئی شخص کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا گر میں نہ چاہوں۔رب تعالیٰ کے بارے میں اس طرح کے تصورات منسوب کرنے سے گریز کریں اور اپنے روئیے کی اصلاح کریں۔ رب تعالیٰ نے دُنیا کی کامیابی کو جب کوشش اور محنت سے مشروط کر دیا ہے تو ہمیں محنت اور کوشش سے ملنے والی کامیابیوں اور نعمتوں کو دُعا کے ذریعے حاصل کرنے کی ضد سے خود کو باز رکھنا ہوگا۔ دُعا بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دُعا سے بعض حالات میں تقدیر بدل جاتی ہے لیکن دُعا ہر مرض کا علاج نہیں ہے۔ کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کام کی تکمیل کی توفیق کے لیے دُعا کریں اور جب اس کام کی تکمیل ہو جائے تو اس کی قبولیت کی دُعا کریں۔ دُعا کا اصل مقصد یہی ہے۔
رب تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔وہ ازل سے ابد تک کی تما م ظاہرا ور پوشیدہ باتوں سے واقف ہے۔رب تعالیٰ صرف ہماری دُنیا کے معاملات نہیں چلا رہا بلکہ پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ پر چیز اپنے مقررہ وقت پر ہوتی ہے۔ اس کائنات کا ہر ذرہ خوا کتنا ہی حقیر کیو ں نہ ہو؛اس کا ایک فنکشن ہے اور ذمہ واری ہے جو اسے اپنے حصہ کا پورا کرنا ہے۔گویا کائنات کا ہر ذرہ اہم ہے۔ اگر ہر انسان کی ہر خواہش اور اُمید پوری ہو جائے تو کائنات کا یہ خودکار نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
انسان جب تک رب تعالیٰ کو اپنا خالق و مالک اور حقیقی رازق نہیں جانتا تب تک اس کے قلب میں محبت الہی کا نزول ممکن نہیں ہوتا۔انسان نے جب یہ جان لیا کہ میں کچھ نہیں ہوں،وہی سب کچھ ہے،میرے پاس میرا اپناآپ بھی نہیں ہے بلکہ میرا وجود اور میرے ہونے کا جواز بھی در اصل اُس کے ہونے سے مشروط ہے۔ ایمان کا درجہ جب اس حد کو چھو لیتا ہے تو انسان رب تعالیٰ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ یہ محبت جب عشق میں بدلتی ہے تو انسان کو دُنیاوی اغراض و مقاصد سے بے نیاز کر دیتی ہے۔رب تعالیٰ کو بڑا مان لینے والا پھر کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتا اور بس سر کو جھکا کر اُس کا ہر حکم بخوشی بجا لا تا ہے۔ جب انسان رب کو یقینَِ محکم کی اس بلندی پر بٹھا لیتا ہے تو پیچھے ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے۔ تب وہ سامانِ زیست سے جان چھڑانے لگتا ہے۔اسے کسی کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ چلّو میں پانی لے لیتا ہے،سالن کو روٹی پر رکھ کر کھا لیتا ہے؛سونے کے لیے زمین پر گھاس پھونس کو بچھونا بنا کر بازو کو تکیہ بنا لیتا ہے۔ بندگیِ مطلق کا یہ مقام بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا ہے۔

Facebook Comments HS