نیا سیاسی منظر نامہ


بالآخر فیصلہ ہو چکا ہے کہ اگست میں اسمبلیاں تحلیل ہو جانی ہیں اور عدم اعتماد کے ذریعے وجود میں آنے والی پی ڈی ایم کی حکومت کا اختتام ہونے لگا ہے۔ پہلے اس معاملے پر غیر یقینی تھی کہ شاید ان اسمبلیوں کی میعاد میں ایمرجنسی کے ذریعے ایک سال کا اضافہ ہو گا، معیشت کو مستحکم کیا جائے گا اور پھر الیکشن ہو گا مگر نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف سے بہت سے ارکان استعفی دے چکے ہیں، پی ٹی آئی کے بطن سے دو نئی پارٹیاں تحریک استحکام پاکستان اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین پیدا ہو چکی ہیں اب اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہو چکا ہے کہ پی ٹی آئی نئے الیکشن میں اپنی عوامی مقبولیت کے باوجود قطعی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔

چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف مقدمات کی بھر مار کے بعد ان کی نا اہلی بھی تقریباً نوشتہ دیوار ہے اور ان کے سزا ہونے کا بھی امکان ہے جس سے پی ٹی آئی کو مزید بھرپور زک پہنچنے کی توقع ہے جس کے بعد مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کے اس مطالبہ کو کہ ان کو لیول پلینگ فیلڈ دیا جائے وہ بھی پورا ہوتا نظر آتا ہے مگر اس بات پر اختلاف ہے کہ دو نئی پارٹیوں کو پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نون میں ضم کرنے کی بجائے میدان میں اتار کر نون لیگ کو فائدہ پہنچے گا یا یہ پیپلز پارٹی کے لئے فائدہ مند ہو گا۔

بعض سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معلق پارلیمنٹ کی طرف ایک قدم ہے اور نون لیگ قطعی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی سے منحرف ان دو پارٹیوں کی حمایت حاصل کر کے وزارت عظمی کا تاج اپنے سر پر سجا لیا جائے۔ اس معاملہ میں پچھلے کچھ عرصے سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمان کے آپس میں اختلافات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ دوبئی مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کو نظر انداز کیے جانے پر جے یو آئی کے سربراہ اپنی ناراضگی کا اظہار برملا کر چکے ہیں۔

دوبئی مذاکرات کے ذریعے سے آئندہ کے منظر نامہ کو تشکیل دینے کی کوششیں بھی کامیاب نظر نہیں آتی ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف بھی بیانات دیے ہیں اور مسلم لیک نون نے الیکشن میں سولو فلائٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اور ابھی تک مسلم لیگ نون اس بات کا بھی فیصلہ نہیں کر پائی کہ الیکشن جیتنے کی صورتحال میں وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہوں گے یا چھوٹے بھائی شہباز شریف جو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔

اب سب کی نظریں اگست کے وسط میں قائم ہونے والی نگران حکومت پر ہیں کہ کیا یہ نگران حکومت آئینی مدت جو زیادہ سے زیادہ نوے دن ہو سکتی ہے اس میں الیکشن کروانے میں کامیاب ہو جائے گی یا یہ نگران حکومت کسی نہ کسی طرح اس الیکشن کو آگے لے جائے گی تاکہ چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف جاری مقدمات کا حتمی فیصلہ آ سکے۔ کیا مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی اس بات کو تسلیم کر لیں گی کہ الیکشن کو ایک سال کے عرصہ کے لئے معرض التوا میں رکھا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی یہ جماعتیں خود نوے دن کی آئینی مدت کے اندر پنجاب اسمبلی کے الیکشن نہ کروانے پر بضد رہیں اور اس کو مختلف وجوہات کی بنا پر التوا میں ڈالے رکھا جس میں اقتصادی بحران سر فہرست ہے۔ تو کیا اب ملک کے معاشی حالات کا عذر بنا کر عام انتخابات کو مزید التوا میں اگر ڈالا جاتا ہے تو پی ڈی ایم کی جماعتوں کے پاس اس کی مخالفت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز ہو گا؟ ایک اہم ترین آئینی مشکل اس وقت پیدا ہو سکتی ہے اگر اس سال ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کو نگران حکومت نوٹیفائی کر دیتی ہے تو یہ آئینی ضرورت سامنے آئے گی کہ عام انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق کروائے جائیں اس کے لئے تمام صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقوں کے تعداد بڑھ جائے گی اور نئی حلقہ بندیاں کروانی پڑیں گی جس پر کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور الیکشن کو التوا میں ڈالنے کی ایک آئینی مجبوری آڑے آ سکتی ہے۔

اس حوالہ سے نئی سپریم کورٹ اس کو طرح اس کو دیکھتی ہے اور الیکشن کے بارے کیا فیصلہ کرتی ہے یہ بھی بڑا اہم ہو گا۔ ایک بات البتہ طے ہے کہ اب پی ٹی آئی اس طرح اسٹیبلشمنٹ پر پریشر ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس کے خلاف نو مئی کے ردعمل میں ہونے والے کریک ڈاؤن سے اس کے رہنما یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا اس وقت زیر زمین ہیں۔ اور آئندہ کا سیاسی منظر نامہ میں پی ٹی آئی کا کردار اسٹیبلشمنٹ کے رویہ پر منحصر ہے۔

اگلی حکومت کی تشکیل کے لئے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے آپس میں اختلافات سے ابھی سے ایک غیر یقینی کی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ مگر سندھ، کراچی، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خاطر خواہ سیٹیں حاصل کر کے بلاول بھٹو مسلم لیگ نون کو بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ ویسے بھی اگر پاکستانی سیاست میں باریاں لینے کا کلچر پھر واپس آتا ہے تو یہ باری پیپلز پارٹی کی بنتی ہے۔

Facebook Comments HS