چندریان اور امتحان
ہماری عمر تو اتنی نہیں ہوئی کہ یاداشتیں لکھنے بیٹھ جائیں لیکن عمر کے اس حصے میں بہرحال ضرور آن براجے ہیں جہاں اگے دیکھنے کے لیے پیچھے مشاہدات و تجربات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔بلکہ یوں سمجھیے کہ ہر چیز جذبات و نظریات کی بجائے حقائق اور تجربات کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔
یہی کوئی دو دہائیاں گزری ہیں جب ہم نوجوان تھے۔ کالج کی جان تھے اور اساتذہ کا ارمان تھے۔ گورنمنٹ ایف سی کالج کی کیمسٹری لیب کی مخصوص بو سے معطر ماحول میں مختلف کیمیکل سے سجی بوتلوں والے مانوس ریک کے سامنے جہاں ہمارے دو سال تجربات کرتے گزرے تھے آج پریکٹیکل امتحان کا دن تھا اور ہم سب بطور مسلمان طلباء امتحان کو میرٹ کے پل صراط کی بجائے ایگزامینر کی شفقت سے منسلک کیے بیٹھے تھے۔
ہم نے تو سرکاری کالج میں داخلہ لیا تھا مگر اسے قسمت کا چکر کہیے کہ ایک سال کے بعد کالج پرائیویٹائز ہو کر کرسچن انتظامیہ کے حوالے ہو گیا اور ہمارے دوسرے سال میں ایک امریکی شہری جارج پیٹر نے بطور پرنسپل کالج کا چارج سنبھال لیا اور یوں زیادہ تر نئے اساتذہ عیسائی کمیونٹی سے مقرر ہوئے۔ ممکن ہے اس بارے تخصیص نہ رکھی گئی ہو مگر عملاً زیادہ تر اساتذہ اسی کمیونٹی سے تھے۔ اس تبدیلی سے ہمارے لئے چاہتے نا چاہتے ہوئے ایک لاشعوری طور پر پہلے اور بعد والے اساتذہ اور نظام تعلیم کے درمیان موازنے کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
لیب میں ہم رول نمبر کے لحاظ سے اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تو سرکاری کالج سے آئے رحم دل ممتحن نے ہمیں بلیک بورڈ کے قریب اکٹھے ہونے کا کہا اور بورڈ پر سوالات کے جوابات لکھوانے شروع کر دئیے جسے ہم نے نوٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس عمومی پاکستانی خوش قسمتی کو ابھی آدھا وقت نہیں گزرا ہو گا کہ اچانک غیر ملک سے آئی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ میڈم سلویا بینجمن لیب میں داخل ہوئیں اور امتحان دینے والے محمود اور ایاز کو اپنی اپنی صفوں کے بجائے ایک ہی کہکشاں کی صورت بورڈ کے سامنے ممتحن کی امامت میں جواب لکھتے پایا تو کچھ کنفیوز سی ہوئیں۔ دو چار بار ادھر ادھر دیکھا، سر کھجایا، چشمہ اوپر نیچے کیا مگر سمجھ نہ پائیں۔ پھر دفعتاً منظر نامے کی مختلف کڑیوں نے مل کر ان پر انکشاف کا بم پھوڑ دیا اور وہ اس صورتحال کی تاب نہ لا سکیں۔
شاید انہوں نے ایسی صورتحال کبھی گمان بھی نہ کی ہو تبھی تو ایسا غیر متوقع ری ایکشن آیا کہ ان کی زبان اور الفاظ کا ربط نہ رہا، دماغ اور دل نے بھی راستے جدا کر لیے۔ ان کا احتجاج اتنا بلند، اس قدر شدید اور ہسٹیریائی تھا کہ محض "ایسے۔۔ امتحان۔۔ یوں۔۔ امتحان۔۔ یہ۔۔ امتحان” جیسے الفاظ تو ہماری سمجھ میں آ رہے تھے مگر لیب میں موجود ممتحن سمیت کسی کو بھی اس احتجاج اور اس کی شدت وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال بڑی ہی مشکل سے میڈم کو خواتین اساتذہ نے ہینڈل کر کے دفتر پہنچایا اور نارملائز کرنے کی کوشش میں لگ گئیں اور ادھرممتحن صاحب کی شفقت کے فلڈ گیٹ دوبارہ کھل گئے۔
یہ واقعہ گزر گیا اور برسوں ممتحن کی شفقت اور میڈیم کے ظالمانہ رویے اور ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کی ناکام کوشش کے قصے ہماری محفل دوستاں کی زینت بنے رہے۔
میڈیم کی کوشش ناکام ہو چکی، ہمارا مستقبل سنور چکا اور ہم ترقی کرتے کرتے پروفیسر بنے ہائیر ایجوکیشن میں براجمان ہیں۔ ہر طرف پرائیویٹ کالجز کا جنگل اگ آیا ہے۔ لیبارٹریوں کو تالے لگ گئے ہیں لائبریریاں بند ہو چکی ہیں۔ ٹیکسٹ بکس حفظ کر کے گیارہ سو میں سے پورے گیارہ سو نمبر لینے والے طالبعلم ہزاروں کی تعداد میں سامنے آ چکے ہیں اور یونیورسٹیاں اس صورتحال میں میرٹ بنانے سے عاجز آ چکی ہیں۔
میں آج دو عشروں بعد میں خود بطور پریکٹیکل ممتحن بائیو لیب میں داخل ہوا ہوں۔ میرے سامنے ہونقوں کی طرح بچے میرا منہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ بائیو اور کیمسٹری لیب میں فرق نہیں کر سکتے اور نہ انہوں نے کبھی پریکٹیکلز کیے۔ نہیں جانتے کہ ڈائسیکشن باکس کس کو کہتے ہیں، ایک مائکروسکوپ کے کتنے لینز ہیں۔ لاکھوں میں فیسیں ادا کر کے پرائیویٹ کالجز میں پڑھنے والے یہ بجے پریکٹیکل کی بنی بنائی کاپیاں خریدتو لائے ہیں اور اب اکٹھی پڑی ہوئی نوٹ بکس میں سے اپنی ہی کاپی نہیں ہچان پا رہے۔ یہ پھول سے نوجوان جو پھول کے بنیادی حصوں اور پریکٹیکل کے پیٹرن تک سے بھی ناآشنا ہیں میری طرف ملتجی نگاہوں سے دیکھ کر میرے اندر سے ایک شفیق ممتحن تلاش کر رہے ہیں۔
عین اسی وقت میرے اندر ایک سرکاری ممتحن کی "شفقت” اور سلویا بینجمن کا "ظلم” آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ میرا دل پکار رہا ہے کہ اے خدا تو مجھے شفیق ممتحن بننے کی توفیق عطا فرما۔ دماغ چیخ چیخ کر آوازیں دے رہا ہے کہ کاش اس وقت کوئی سلویا امتحان گاہ میں داخل ہو اور اتنی شدت سے چیخ و پکار کرے اور دہائی دے کہ اس کی آواز خلاؤں میں پہنچے "بھارتی چندریان” تک بھی سنائی دے کہ جو قومیں امتحان گاہ کو شفقت کا گہوارہ بنا لیتی ہیں ان پر تحقیق، دریافت اور ایجاد اپنے دروازے بند کر لیتی ہیں ۔ان پر شعور اور جمہور کی بجائے صرف بندوق حکومت کرتی ہے۔


