فیثا غورث ان نارووال
سقراط کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور سنا تو تھا لیکن ہماری سقراط سے پہلی ملاقات وحید احمد کی نظم "مرمت کون کرتا ہے” میں ہوئی ۔ پھر میں نے فیثا غورث کو خط لکھا اور ملاقات کی درخواست کی۔ سیموس سے فیثا غورث کی آمد ہوئی ۔ سیموس ایک خوبصورت جزیرہ تھا۔ ہرے بھرے درختوں اور رنگ برنگی پھل دار بیلوں سے بھرا سیموس جس کی جادوئی فضا میں فیثا غورث نے ایک درس گاہ کی بنیاد رکھی تھی۔ سیاسی چپقلش کی وجہ سے فیثا غورث کو سیموس چھوڑ کر اٹلی کے شہر کروٹون جانا پڑا۔ اس کے بعد انھوں نے نئی اور حیرت انگیز دنیا میں ایک لمبی عمر گزاری۔ فیثا غورث نے بابل میں بھی قیام کیا۔ دجلہ و فرات کی سمیابی آب و ہوا نے نت نئے افکار کو جنم دیا۔ سفر کی مشکات اور گہرے مشاہدے نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اور نکھارا۔ اس کے بعد بر صغیر کے شہر بہار نے انھیں اس روحانی تجربے سے گزارا جس کا اثر ان کی بعد کی زندگی میں مسلسل نظر آتا ہے ۔صدیوں بعد فیثا غورث کو علم ہوا کہ مسئلہ فیثا غورث دنیا کے طول و عرض میں قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے۔ یہ اٹلی کے سمندروں پر سفر کرتا ہوا بیروت، سمر قند، شیراز، بلخ اور نارووال تک پھیل چکا ہے ۔
فیثا غورث نے سفر کے لیے ہمارے نارووال کا انتخاب گیا۔
پنجاب کے مضافات میں سورج کا چمکیلا گولہ اتنی شفافیت سے مہکتا ہے کہ اگر آپ نارووال کے کسی گاؤں میں سڑک کنارے کسی ڈھابے پر چائے پینے بیٹھ جاتے ہیں تو دھوپ چائے کی رنگت میں اتر آتی ہے اور آپ خود کو زمین و آسمان کی مشترکہ نگہبانی میں محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ ہم نے تو رات کے سکوت میں بھی ٹھنڈے چاند کو یہاں ایسے سفیدی برساتے دیکھا ہے کہ اس کی کھنک تناور درختوں کے پتوں سے ہوتی ہوئی زمیں پر سماعت کے پردے سے ٹکراتی ہے ۔
چھوٹے سائز کے لکڑی سے روشن ہونے والے چولہے، سرخ انگاروں سے دہکتے اور گرمائش پیدا کرتے، ہلکا ہلکا دھواں اٹھاتے ہوئے ؛ اور کیتلی کی جھنکار پر تھرکتی ہوئی بھاپ منظر کو ایسا رنگ دیتی جیسے مصوری کے شاہکار میں بڑی فرصت سے سوچی گئی کئی کیفیتوں کو ایک ساتھ ملا کر سامنے رکھ دیا گیا ہو۔ چائے والا مسکراتے ہوئے معصومانہ ہچکولے کھاتے لہجے میں چائے پیش کرے گا ” صاب جی، شکر والی چا لو”۔
نارووال ویسا ہی رہا ہے جیسے پنجاب کا سارا مضافات۔ مضافات میں کہانیاں رہ جاتی ہیں، لوگ چلے جاتے ہیں ۔ بڑے شہروں کی طرف۔ بڑی نیلی ، پیلی، ہری عمارتوں اور بڑی بڑی سڑکوں والے شہروں میں۔ جہاں شراٹے بھرتی گاڑیوں کے شور سے ہر روز مروت کے نقوش مٹتے جاتے ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں مضافات کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو سانسوں میں بھر کر جاگتی آنکھوں سے دیکھیے گئے خوابوں کی تعبیر لینے بڑے شہر آتے ہیں۔ مضافات میں بوڑھے رہ جاتے ہیں یا وہ جن کے پاس خواب نہیں ہوتے۔
پھر مضافات کی گلیوں میں "ن۔م راشد” کا "اندھا کباڑی” خواب فروخت کرنے نکلتا ہے تو کوئی خواب نہیں خریدتا۔ 2014 میں نارووال نے کچھ خواب خرید لیے اور ان سے فکری خانقاہیں تعمیر کرنا شروع کر دیں۔ اب فیثا غورث کو انھی فکری خانقاہوں کی سیر کے لیے خط لکھا۔ ان کا یہ پہلا دورہ تھا۔
فیثا غورث روایت میں پہلا عظیم ریاضی دان ہے۔اس قدیم یونانی فلسفی نے زندگی کا ایک انتہائی منظم طریقہ تجویز کیا۔ اس کے پیروکاروں میں بہت سے فلسفی شامل ہیں۔ فیلولس کا شمار بھی اسی دبستان میں ہوتا ہے۔ اس نے حد اور لامحدود کو پہلے اصولوں کے طور پر رکھ کر کائنات کو سمجھنے میں تعداد کے کردار پر زور دیا۔ مظاہر فطرت کو ریاضی کے اصولوں سے سمجھنے کی طرح بھی اسی نے ڈالی۔ اس کے شاگردوں میں اریٹس نے خاصا نام کمایا۔ اس نے ایک خاص طریقے سے کنکروں کو ترتیب دیا تا کہ وہ تعداد ظاہر کر سکے جو دنیا میں چیزوں کی وضاحت کرتی ہے جیسے گھوڑا، آدمی وغیرہ ارسطو کے مطابق اریٹس نے قدرتی دنیا میں چیزوں کی شکلوں کو کنکروں سے تشبیہ دی اور اس طرح ہر چیز کی تعداد کا تعین کنکروں کی تعداد سے کیا۔ ارسٹوکینس نے فیلولس اور اریٹس کو پتھاگوریئنز کی آخری نسل کے اساتذہ کے طور پر پیش کیا ہے۔
فیثا غورث کی جدید تصویر ایک ماہر ریاضی دان اور سائنسدان کی ہے فیثا غورث کو بڑے پیمانے پر غیر تاریخی انداز میں ایک نیم الہی شخصیت کے طور پر پیش کرنا فیشن بن گیاتھا، جس نے یونانی فلسفیانہ روایت میں ان تمام چیزوں کی ابتدا کی، جن میں افلاطون اور ارسطو کے بہت سے پختہ خیالات شامل ہیں۔
نارووال داخل ہوتے ہی پہلی خانقاہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نظر آئی جس کی بنیاد یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے فارغ التحصیل پروفیسر احسن اقبال نے رکھی تھی۔ 570 قبل مسیح میں اسی طرز کے ایک ادارے کی بنیاد سیموس میں رکھی گئی تھی۔ اسی اسکول میں بیٹھ کر فیثا غورث نے چاند گرہن کے دوران، چاند پر پر زمین کا سایہ گول بنتا دیکھ کر کہا تھا کہ زمین گول ہے۔ اسی ادارے سے جیومیٹری کے علم کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی۔ جدید دنیا میں انجینئرنگ نے جو معجزات بپا کئے ہیں وہ یونانیوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ جدید انفرااسٹرکچر سے لے کر، مصنوعی ذہانت کو تشکیل دیتی اور انسانوں کے خلیوں کو بدلتی تجربہ گاہوں کی سہولت رکھنے والے اس ادارے نے مستقبل کی بنیاد رکھنی ہے۔ فیثا غورث نے صدیوں کی دانش کو آنکھوں میں اتارے ایک نظر اس یونیورسٹی پر ڈالی اور گویا ہوئے ۔” علمِ ریاضی کی تدریس فلسفے کی ہمراہی میں مفید ثابت ہوتی ہے اور ہر مضمون کی حکمت حاصل کرنا تدریس کا اصل مقصد ہونا چاہیے”۔یہ ادارہ اس خطے کے خال و خد بدل دے گا۔ یہیں سے دو رویہ سڑک نارووال شہر کی طرف جاتی ہے۔ چھوٹے شہر کی مختصر آبادی میں پہلے این۔پی۔ایس کا دروازہ کھلتا ہے۔ گیٹ پر کھڑے بابا جی، پروفیسر محفوظ الرحمن مسکرا کر ہر طالب علم کی طرح ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ یہ رستہ یونیورسٹی آف نارووال کی جانب مڑ جاتا ہے۔ سوا سو ایکڑ پر قائم کی جانے والی یونیورسٹی قرطبہ کی سطوت سجائے آنے والوں کا استقبال کرتی ہے۔ پانچ سال بطور خود مختار یونیورسٹی مکمل کرنے کے بعد اس پورے علاقے کا نصب العین اسی ادارے نے طے کرنا ہے۔ یہاں افکارِ تازہ کی نشو نما کا کام کیا جانا ہے ۔ اس یونیورسٹی میں پانچ ہزار طلبا زینوفن اور افلاطون سے آگے کی باتیں کرنا سیکھ رہے ہیں لیکن ان کی علمی تشنگی اس نارسائی کا نوحہ ہے جو ایک ذہنی طور پر مفلوج، مجرئی آدمی کے درس گاہوں پر حاکم لگا دینے سے پیدا ہوتی ہے۔ (ایسی ہی کفیت میں جون ایلیا، اکرگس اور افلاطون کو یاد کر کے نوحہ کرتا ہے)۔ نارووال میڈیکل کالج کی امنگوں سے قائم کردہ فکری خانقاہ بھی اسی جوار میں واقع ہے ۔ اس نے میڈیسن اور سرجری میں بقراط اور جالینوس سے کئی صدیوں بعد کا سفر طے کرنا ہے۔ قریب ہی یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کا کیمپس بھی پروفیسر ڈاکٹر یونس کی میزبانی میں پھلتا پھولتا نظر آتا ہے۔ ماڈرن کلاس رومز، کشادہ تجربہ گاہوں تعمیری سرگرمیوں میں برق رفتار کیمپس ۔ اپسرٹو نے ایسے ادارے کا خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر جدید نارووال میں حاصل کی گئی ہے ۔ ہم نے بتایا کہ ایسے اداروں کی بدولت انسان مخلوقاتِ متحدہ کا ترجمان بن گیا ہے۔ یہ ادارے حیوانات کی دیکھ بھال اور بہتری کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے کے لیے ان کی افادیت پر کام کر رہے ہیں۔
فیثا غورث نے کچھ دیر سکوت اختیار کیا۔ پھر ایک پوٹلی سے بقراط کی دی ہوئی جڑی بوٹی نکال کر گرم پانی میں شامل کی۔ خاص طرح کا قہوہ تیار کیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے بولے۔ میں اعداد کو اس دنیا کی اساس سمجھتا ہوں۔ یہ کائنات ایک خاص تناسب سے بنائی گئی ہے اور اس کو مکمل اعداد کی آپس میں نسبت سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھو علم اور حکمت کی تجدید کسی میکانکی عمل کا نام نہیں ۔ در اصل تمہارے ہاں علم کی پرکھ درست نہیں ۔ اسے جس کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے وہ درست نہیں ۔ اسے درست کرو! اور ہاں ان پر شِکُوہ عمارتوں میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کا کردار اور ان کے معمولات بھی اسی حکمت سے تعمیر کرو جس کی انھیں تعلیم دیتے ہو۔ علم کا گہرا تعلق ہوتا ہے انسانی رویوں سے!! علم جب ذات کا حصہ بن جائے تو اس میں وہ تولیدی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ خیال سے خیال پیدا ہو اور بات سے بات بڑھتی رہے۔ خیال و احساس کے اسی سنجوگ سے تخلیقیت زور پکڑتی ہے۔
انسان کا صاحب الرائے ہونا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل ہے۔ جو شخص کسی مؤقف کی خاطر قیام نہ کر سکے وہ کہاں کا تعلیم یافتہ؟ ذرا سوچو اگر سقراط کہیں معذرت کر لیتا تو؟ آج تاریخ کا دھتکارا ہوا ہر کردار تمہارا ہیرو ہوتا۔
سقراط سے یاد آیا ہماری ملاقات ہوئی تھی وحید احمد کی نظم میں۔ جو آخری بات سقراط نے کہی تھی وہ ہم نے فیثا غورث کے گوش گزار کی
"ہماری بات لمبی ہو رہی ہے مختصر یوں ہے
کہ کوئی ملک دھرتی کے خزانوں میں نہائی کوکھ سے غربت لیے پیدا نہیں ہوتا
غریب اس کو وہاں کے لوگ کرتے ہیں
اگر دانش کے دھارے زہر سے لبریز ہو جائیں تو ان کی تہہ میں اجلی مچھلیاں رنگت بدلتی ہیں
پروفیسر! کسی بھی ملک کے دانشوروں کی سوچ میں اک بار جب غربت اتر آئے
تو صدیاں چاہییں اس ملک کے ماتھے پہ چپکی مفلسی کی رات دھونے کو
اگر سورج نچوڑو گے
تو اک قطرے سے آگے کچھ نہیں ہو گا”



Good job