شہر کا وجود


شہر کیسے بنتے ہیں؟، اور کیا ہے جو اک شہر کو وجود میں لاتا ہے؟ سوال عام سا اور سادہ ہے مگر جواب زمانے کے کئی رخ چھو کر واپس آتا ہے۔

شہر دیکھنے اور محسوس کرنے کے تمام عناصر سے گندھ کر نہ وجود میں آیا ہو تو اک مجموعہ سا لگتا ہے :عمارات اور ہجوم کا۔ گویا اک بے روح جسم۔ اور شہر میں اگر محسوس اور یاد کرنے کے لیے کچھ نہیں! یا تلاش کرنا پڑے تو شہر کی زندگی کے لیے پریشان ہونا چاہیے، کہ اگر احساس نہ رہے تو شہر مرنے لگتے ہیں مگر دھیرے دھیرے۔

شہر بغیر عمارات کے کیسے وجود میں آسکتے ہیں، مگر صرف عمارات ہی شہر نہیں۔ بلکہ مگر شہر کے وجود کا ایک حصہ۔ ہاں مگر یادوں کے مختلف روپ ہوتے ہیں یا ان کے کچھ چہرے یا جسم ہوتے ہیں جس سے انہیں یا ان کے کچھ حصوں کو کسی حد تک دیکھا جانا ممکن ہو پاتا ہے۔ پارک، بازار، میوزیم، سنیما، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، دفاتر، شاہراہیں، منڈیاں، گلیاں، علاقے، ریستوران، بیکریاں، دکانیں اور ان سے جڑے ہوئے لوگ، باتیں، مصنوعات اور روایات۔

زندہ شہر اپنی یادوں، روایات اور تاریخ کو اپنے اندر سمیٹ کر محفوظ رکھتے ہیں کہ وقت کا بہاؤ اور زمانے کی رفتار اپنے جلو میں تبدیلی کی اندھی ساتھ لیے چلتی ہے۔ مگر اس کا اثر ہر اک شہر اور قصبے پر یکساں طور پر نہیں طاری ہوتا کہ شہر کے لوگ اگر تبدیلی کی رفتار، انداز اور لہجے کو قابو میں رکھیں تو ضرورت کے سوا اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

نمونے کے طور پر شہروں کے ناموں کی قطار ہے جو واضح ثبوت پیش کرتے ہیں۔

لندن، استنبول، پیرس، وینس، برلن، ٹوکیو، پراگ، لزبن، ازمیر، دمشق، میڈرڈ، رنگون، آگرہ، تبت، سری نگر، اصفہان، مشہد، تبریز، صوفیہ، ہیمبرگ، فرینکفرٹ، بون، ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، ارمچی، تاشقند اور بھی بہت سے نام ہیں۔ کسی بھی سطر پہ کوئی دعویٰ نہیں بس مشاہدہ ہے جو لفظ اور احساس کی صورت تحریر میں بدل جاتا ہے۔ شہر کو جنگ اور لاتعلقی دونوں ہی تباہ کر دیتی ہیں۔ جنگ اسے باہر سے مٹانا شروع کرتی ہے اور لاتعلقی اندر سے وار کرتی ہے مگر تباہی دونوں کے انداز میں قدر مشترک ہے۔

بہت سے سادہ لوح ترقی کو کنکریٹ کے اہرام اور اک طوفان کی طرح سے آنے والی بے روح تعمیرات کے طور پر دیکھتے ہیں مگر جن کی بینائی سطحی ہو ان کی بات تو سند نہیں مانی جا سکتی ہے۔ شہر اپنے لوگوں، روایات، تہذیب، انداز، کھانوں، میلوں اور انداز سے اپنی شناخت کا سفر طے کرتے ہیں اور ان ہی پیمانوں کو نکھار کر اپنے وجود کو زندہ رکھتے ہیں۔ صدیاں بتا کر اپنی پہچان قائم کرتے ہیں۔ شہر یادوں، احساسات، تمناؤں اور خواہشات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور اسی لیے دنیا کے بہت سے زندہ شہروں میں ہمیں یادیں کثرت سے ملتی ہیں۔ یادیں کبھی کہانی کا روپ دھارتی ہیں اور کبھی روایت، عمارت، پکوان، میوزیم، ریستوران، کیفے، ہسپتال، اسکول، کالج، یونیورسٹی، پارک، بازار، دکان، گلی، شاہراہ کی صورت میں وجود لے لیتی ہیں۔

اب اگر ان تمام پیمانوں اور معیارات کو ہی بدل دیا جائے تو پھر بے نام اور بے روح سی عمارات بچ جاتی ہیں مگر شہر اپنی سانسیں کھونے لگتے ہیں۔ شہر اگر بس اعداد سے پہچانے جانے لگیں تو شناخت کا سارا سفر رائیگاں ہوجاتا ہے۔ شہر کا نقشہ صرف شطرنج کے بورڈ کی طرح خانوں میں تقسیم کر کے ہی نہیں بنتا۔ اسے وقت کا اک طویل سفر پہاڑوں، ساحل، دریا، ندی کی طرح اک خاص انداز میں ترتیب دینے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ صدیوں کے بہاؤ سے بھی اس کے انداز میں کوئی ایسا بدلاؤ نہیں آتا کہ اس کا روپ اور وجود شناخت نہ کیا جا سکے کہ اس میں رہنے والے اپنے گیتوں، کہانیوں، پکوانوں اور روایات سے اس کو زندگی دیتے ہیں۔

اسی لیے تو لوگوں نے شہر کے نام کو اپنے ناموں سے جوڑا۔ اسی لیے کھانوں، رسموں، مصنوعات، کہانیوں کے ذریعے شہروں کو جانا جاتا ہے۔ ہمارے دیس میں میں بہت سے شہر ہیں کہ اپنا وجود کھوتے جا رہے ہیں۔ بڑے شہر ہوں یا چھوٹے شہر :اک لاتعلقی کا سلسلہ ہے کہ ان کے وجود کو جیسے مٹاتا چلا جا رہا ہے۔ روایات، مصنوعات، عمارات، کھانے ہوں یا یادیں، تباہی کا سلسلہ ہے کہ رکتا ہی نہیں۔ مگر کب تک، اور ایسا کیوں کہ کچھ شہر تو زمانے اور آفات کے ہاتھوں اب بس کتابوں اور یادوں میں وجود رکھتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ لاتعلقی اور لاپروائی کے ذریعے خود اپنے شہروں کی شناخت مٹا رہے ہیں۔

کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا یا ہم اپنے شہروں کو ان کی تاریخ کے ساتھ زندہ رکھنے کے لیے کچھ کریں گے؟

Facebook Comments HS