پاکستان ملٹری لینڈ ریفارمز اور "اراضی کے مالکانہ حقوق یا موت” کا نعرہ
پچھلے دنوں ایک خبر آنکھوں سے گزری مگر گزرنے کی بجائے نقش ہو گئی۔ ویسے تو حافظ صاحب نے قرآن کا حوالہ دیا ہے کہ مایوسی کفر ہے مگر ہم حافظ صاحب کی رعایا ہیں کہ مایوس ہوئے ہی چلے جاتے ہیں۔ خبر تھی کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان ملٹری پنجاب کی لینڈ ریفارمز پہ کام کرے گی اور کروڑوں ڈالر سرمایہ کاری پاکستان لائی جائے گی۔ جب سے یہ خبر سنی ہے دل ہے کہ ڈوبا جاتا ہے، نیند ہے کہ اڑی جاتی ہے۔ اس خبر کو ذہن میں رکھیں میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں!
پرانے وقتوں میں کسی گاؤں میں ایک بڑے زمیندار یعنی گاؤں کے چوہدری نے گاؤں کے لوگوں کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے اعلان کیا کہ آج سے کسی بھی دیہاتی کے مال مویشی چارے کی کمی سے نہیں مریں گے (اگرچہ چارے کی کمی کا باعث بھی خود چوہدری صاحب تھے ) اور نہ ہی کسی بیماری کی وجہ سے مریں گے، چوہدری صاحب نے اپنے وسیع تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے گاؤں میں ایک ڈیری فارم بنایا، سارے دیہاتیوں کو حکم دیا گیا کہ گاؤں کے وسیع تر مفاد میں اپنا سارا مال مویشی لا کر اس ڈیری فارم میں جمع کروا دیں۔ پیشکش کے مطابق چوہدری صاحب سارے اخراجات برداشت کریں گے اور آمدنی میں سے وہ اخراجات نکال کر مال مویشیوں کی ہیئت کے مطابق متعلقہ دیہاتیوں کو حصہ دیا جائے گا اور اس دیے گئے حصے میں سے دیہاتی سود بھی ادا کریں گے اور اس متعلقہ مفادات کے لیے بنائے گئے ڈیری فارم کی توسیع کے لئے فنڈ بھی دیا کریں گے۔ ظاہر ہے دیہاتی اور ان کے مال مویشی پہلے ہی چارے کی کمی کا شکار تھے اور مزید بھوک مری، افلاس اور وبائیں ویسے ہی ان کا مقدر بن ہی چکے تھے لہٰذا سب دیہاتیوں نے ذوق شوق اور مجبوری میں چوہدری صاحب کے ہاتھ پہ بیعت کی اور گاؤں کو فلاح کی نئی جہتوں سے روشناس کروانے کا عمل جاری کر دیا گیا۔ کچھ ہی عرصہ میں گاؤں کے سارے دیہاتی بطور ملازم چوہدری صاحب کے ڈیری فارم پہ بھرتی ہونا شروع ہو گے کیونکہ ان کا سارا مال مویشی سود کی مد میں چوہدری صاحب کی ملکیت بن چکا تھا اور ملازمت کے عوض بھی ملنے والی تنخواہ سود کی مد میں چوہدری صاحب کے پاس ہی رہتی اور یوں دیکھتے دیکھتے سارا گاؤں قرض کے بوجھ تلے دبا چلا گیا اور چوہدری صاحب کی زمینوں اور ڈیری فارم میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں موجودہ وسطی پنجاب یعنی (سرگودھا، فیصل آباد، حافظ آباد، بھیرہ شیخوپورہ کے ملحقہ علاقے، گوجرانوالہ کے مضافاتی علاقے) اور جنوب مشرقی پنجاب (یعنی ساہیوال، اوکاڑہ، حجرہ شاہ مقیم سے متصل علاقوں وغیرہ) کی بے آب و گیا اور بنجر زمین کو سیراب کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے ایک وسیع نہری نظام کے تحت زرعی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھی۔ اس وقت پنجاب کے یہ علاقے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یا تو بنجر تھے یا پھر خودرو جنگلات اور جڑی بوٹیوں کی آماجگاہ تھے۔ برطانوی حکومت نے اس زمانے میں اس کام پہ بے شمار توانائیاں خرچ کرنے اور ریسرچ کرنے کے بعد دریاؤں کے رخ موڑے اور دنیا کا پہلا منظم اور بہترین نہری نظام تشکیل دیا گیا۔ اس نہری نظام کے قیام کا مقصد اس بنجر زمین کو سیراب کر کے زرعی شعبے کو ترقی دینا تھا۔ اسی نہری نظام کے تحت پنجاب کے پہلے سے آباد علاقوں سے لوگوں کو ہجرت کروا کر کینال کالونیوں میں آباد کیا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کینال کالونیاں آباد سے آباد تر ہوتی چلی گئی اور لائل پور یعنی فیصل آباد، منٹگمری یعنی ساہیوال، اوکاڑہ، اور اس جیسے کئی مصنوعی شہر قائم ہوئے۔ ان کینال کالونیوں کی آبادکاری سے پنجاب کا لاکھوں ایکڑ کا بنجر رقبہ نہ صرف زرخیز زمین کی صورت میں گندم، چاول اور گنا جیسی زرعی اجناس پیدا کرنے لگ گیا بلکہ بہت سے فاقہ کش اور بھوکے پیٹ باغیوں کو روزگار اور گھر مل گیا اور یوں انگریز نے ایک تیر سے کئی شکار کیے۔ خیر اس کینال کالونی سسٹم کے تحت سیراب ہوئی زرعی اراضی کا استعمال 1887 میں آئے ٹینینسی ایکٹ کے تحت کینال کالونیوں میں آباد کسانوں کے ہاتھ دے دیا گیا۔ اس ایکٹ میں مزارعین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ایک وہ جو زرعی اراضی استعمال کریں گے، برطانوی حکومت کو آمدن میں سے حصہ دیتے رہیں گے اور بعد میں کسی مدت کے بعد وہ زمین انھی کے حوالے کر دی جائے گی، دوسرے وہ جو زرعی اراضی پہ صرف کام کریں گے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ انھیں دیا جاتا رہے گا لیکن اس زمین کی ملکیت کبھی بھی انھیں تفویض نہیں کی جائے گی۔
وقت گزرا پاکستان بنا ایک کمپنی کے ہاتھوں دوسری کمپنی نے کنٹرول سنبھالا اور کینال کالونیوں پہ کام کرنے والے مزارعین کے معاملات جوں کے توں برقرار رہے یا زیادہ تر مزارعین نے ان زمینوں پہ اپنی ملکیت قائم کر لی۔ لیکن اوکاڑہ کے بدقسمت مزارعین پاکستان بننے کے بعد بھی 1887 ایکٹ کے تحت ہی اپنی زمینوں کی آمدن کا ایک حصہ جو پہلے برطانوی حکومت کو دیا کرتے تھے، پاکستان آرمی کے شعبہ ملٹری لینڈ کو دیتے رہے جو کہ اپنے آپ میں ایک ظلم کے مترادف عمل تھا۔ وقت کا پہیہ مزید آگے بڑھا اور ملٹری لینڈز نے مزارعین کو بٹائی سسٹم کے تحت زرعی اراضی استعمال کرنے کا حکم جاری کیا جس کے مطابق مزارعین کی استعمال شدہ زمین پہ کوئی مالکانہ حقوق نہیں رہیں گے اور وہ آمدن میں سے حصہ دینے کی بجائے ایک مخصوص رقم ادا کیا کریں گے۔ جو انکار کرے گا اسے اراضی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ یہ حکم اپنے آپ میں ایک غیر آئینی تھا اور برطانوی دور کے کالے قانون سے زیادہ بدتر ظلم تھا جسے بلا شبہ کوئی بھی کسان کیسے مان سکتا تھا لہذا کسانوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے انجمن مزارعین پنجاب کی بنیاد رکھی اور جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقی داستان تاریخ کا حصہ ہے اور پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کی شاہد ہیں کہ انجمن مزارعین پنجاب پہ پھر کس کس طرح کے ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور طاقت کے نشے میں چور رینجرز مزارعین کے اغوا قتل، ڈرانے دھمکانے کے کئی واقعات میں رپورٹ ہوئے اور بے شمار واقعات رپورٹ کا درجہ بھی حاصل نہیں کر سکے۔ یہ کیس پچھلے کئی سالوں سے ہائیکورٹ لاہور میں چل رہا ہے جس کے فیصلوں پہ عملدرآمد کروانے میں محکمہ مال پنجاب قاصر ہے اور مزارعین مسلسل زمین کی حفاظت میں زمیں برد ہو رہے ہیں۔ ان مزارعین کا کہنا ہے ”اراضی کے مالکانہ حقوق یا موت“ ۔ پاکستان کیا دنیا کے کسی بھی قانون کے مطابق مزارعین کا یہ مطالبہ حق پہ مبنی ہے لیکن حق تو صرف کمپنی کا ہی ہے کہ وہ کسی بھی حق سے ان زرخیز زمینوں پہ قابض ہو جائے۔ وفاقی حکومت کا ملٹری کے ساتھ مل کر لینڈ ریفارمز کا موجودہ منصوبہ کارپوریٹ فارمنگ کی ایک نئی شکل سے زیادہ کچھ نہیں۔ کمپنی ازل سے زمین کی بھوکی ہے اور اس بھوک کو مٹانے کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گی۔ اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو پورا پنجاب انجمن مزارعین پنجاب کی طرح اپنی ہی زمین کے مالکانہ حقوق کی دہائی دیتا پھرے گا۔


