اب تو سب کچھ بدل چکاہے؟


وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت اپنے آخری دنوں کی طرف جیسے جیسے بڑھ رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نگران سیٹ اپ بالخصوص نگران وزیراعظم کے لئے مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کرلی ہے۔ جس میں نگران سیٹ اپ پر بات چیت ہوئی ہے۔ اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اگلی ملاقات وزیراعظم شہباز شریف سے کریں گے۔ جس میں ان کے مطابق وہ نگران وزیراعظم کے لئے تین نام بھی اپنی طرف سے پیش کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے صحافیوں سے بات چیت میں اس بات کا دعوی بھی کیا ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے سے قبل آٹھ اگست کو توڑی جائے گی جس کے نتیجہ میں الیکشن تین ماہ کے اندر ہوں گے۔ یاد رہے کہ اگر اسمبلی اپنی مقررہ مدت پر تحلیل ہوئی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ساٹھ دن میں الیکشن کرائے گا۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی دو تقریروں میں مختلف تاریخیں دے کر یوں کنفیوژن پیدا کر دی کہ پہلے تو انہوں نے کہا کہ اسمبلی اپنی مقررہ مدت پر تحلیل ہوگی اور حکومت چودہ اگست کو گھر چلی جائے گی۔ بعد میں ایک اور عوامی اجتماع میں انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلی مقررہ مدت مکمل کرنے سے پہلے توڑ دی جائے گی۔ مطلب وہ کوئی ایک تاریخ دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہے ہیں؟ شاید اس کے پیچھے حکومتی اتحادیوں کا دباؤ ہے؟

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مقررہ مدت سے قبل اسمبلی توڑنے کا بیان اس وقت دیا جب پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ان کے ساتھ ملاقات کی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بحیثیت حکومت کے اتحادی پیپلز پارٹی کی قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف کو اس بات پر قائل کیا کہ الیکشن کے لئے نوے دن کا وقت ہونا کیوں ضروری ہے؟ مطلب نوے دن میں ایک طرف نواز لیگی قائد نواز شریف کی لندن سے واپسی ہو جائے گی تو دوسری طرف وہ اپنی پارٹی مسلم لیگ نواز کی الیکشن مہم کو لیڈ بھی کرسکیں گے۔ یقیناً وزیراعظم شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی اس اہم ایشو پر بات ہوئی ہوگی۔ اور پھر اس نتیجہ پر پہنچے ہوں گے کہ اسمبلی کو مدت پوری نہ کرنے دی جائے تاکہ ساری سیاسی صورتحال اپنے حق میں رہے۔ ادھر دونوں جماعتوں کو اس بات کو ادراک ہے کہ اس وقت سیاسی صورتحال ان کو سپورٹ کر رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نو مئی کے واقعات کے بعد گرتی پڑی اور معافیاں مانگنے کے ساتھ ساتھ ٹوٹے ٹوٹے ہوتی چلی جا رہی ہے، دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین نو مئی کو ہونے والے بدترین اور مجرمانہ واقعات کے ماسٹر مائنڈ کہے جا رہے ہیں اور قانون کی گرفت میں آتے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور نوازلیگی قیادت نے نو مئی کے واقعات سے قبل یوں خوابوں میں بھی نہیں سوچا ہو گا کہ ان کا بدترین سیاسی مخالف تحریک انصاف کا چیرمین اپنے پاؤں پر یوں کلہاڑی مارے گا کہ غلطی پہ غلطی کر کے اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو بند گلی میں لے جائے گا۔ اور پھر جہانگیر خان ترین سے لے کر پرویز خٹک تک اس کو نہ صرف چھوڑ جائیں گے بلکہ اپنے چیرمین کے مقابلے میں پارٹیاں کھڑی کریں گے۔ اور خان کو سیاسی میدان میں چیلنج کریں گے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو سیاسی میدان میں چیلنج کا وہ سامنا نہیں ہے جو کہ نو مئی کے واقعات سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں تھا۔ تحریک انصاف کے چیرمین للکار رہے تھے کہ الیکشن میں میرا مقابلہ کر کے دکھاؤ اور میں تمہیں سبق سکھا دوں گا۔ اب تو سب کچھ بدل چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پی ڈی ایم بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو بہت سوچ سمجھ کر الیکشن کے میدان میں اترنا ہو گا۔ اس بات میں دو رائے نہیں ہے کہ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اس بات پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ الیکشن کے بعد وزیراعظم نواز شریف ہوں گے یا پھر بلاول بھٹو زرداری ہوں گے؟ دونوں سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ اس بات پر تکرار کر رہی ہے کہ وزیراعظم ان کا ہو گا؟ بیشک بظاہر یہ ایشو الیکشن کے بعد کا ہے کہ وزیراعظم کون ہو گا؟ لیکن پھر بھی اس کی اہمیت الیکشن کے دوران بھی رہے گی۔ یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ پیپلز پارٹی آٹھ سے تیرہ تک کے اقتدار کے بعد مطلب اب دس سال کے بعد اپنے وزیراعظم کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے جبکہ مسلم لیگ نواز تیرہ سے اٹھارہ تک کے اقتدار کو انجوائے کرنے کے بعد اب ڈیڑھ سال سے شہباز شریف کی حکومت کو بھی انجوائے کرنے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ ہمارے خیال میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مطلب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو اس بات کی طرف خاص توجہ دینی ہوگی کہ جب اپوزیشن کا وجود پاکستان تحریک کی شکل میں ہوتو تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے معاملہ فہمی ضروری ہوتی ہے وگرنہ میرا اور تمہارا وزیراعظم کی بجائے ہمارا وزیراعظم ہوتا ہے، اور جس کو قبول بھی کرنا پڑتا ہے!

Facebook Comments HS