عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا
بجلی 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی، ذرائع
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔
ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے کی تجویز ہے جس کے تحت 100 یونٹ والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی 3 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ101 سے 200 یونٹ والے صارفین کے لیے بجلی 5 روپے مہنگی کرنے کی تجویز ہے جبکہ201 سے 300 یونٹ والے صارفین کے لیے بجلی 5 روپے مہنگی کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق 301 سے 400 یونٹ والے صارفین کے لیے 6 روپے 50 پیسے اور 400 سے 700 یونٹ والوں کے لیے ساڑھے 7 روپے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
عوام دشمن اس خبر پرکیا تبصرہ کیا جائے ظالم حکومت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ عوام کو بجلی کا کرنٹ لگا رہی ہے۔ عوام کو بجلی کے کرنٹ سے مارا جا رہا ہے۔ بجلی کی قیمتیں غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ عوام کو قطعی طور پر ریلیف نہیں دیا جا رہا عوام کے لیے ہر گزرنے والا دن کسی اذیت سے کم نہیں ہے۔ حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے اور غریب عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے مگر اس حکومت سے ایسی کوئی توقع رکھنا بے وقوفی ہوگی۔
ہمارے ملک میں جو حکومت بھی اتی ہے وہ غریب عوام کا خون چوسنے کی کوشش کرتی ہے۔ غریب عوام کے لیے اپنے بچوں کو پالنے کے لیے تین وقت کی روٹی میسر نہیں ہے جب کہ عوام پر بجلی کا بم گرا کر عوام کے لیے اور مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ عوام صبح و شام یہ سوچ سوچ کر پریشان حال ہیں اس ماہ کا بل وہ کیسے ادا کریں گے 22 کروڑ عوام کو ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے پاکستان میں کوئی حکومت ایسی نہیں اتی جو خالصتاً عوام کے بارے میں سوچیں یہاں جو بھی اتا ہے اپنے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرنے کے لیے اتا ہے۔
سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے لیکن پاکستان میں سیاست کا مطلب مال بناؤ وہ بھی اپنے لیے پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جو سیاست دان بھی پارلیمنٹ میں پہنچا پارلیمنٹ سے پہلے اس کے حالات کیا تھے اور پارلیمنٹ میں جانے کے بعد اس کے بینک بیلنس میں کتنا اضافہ ہوا کاش پاکستان میں کوئی ایسا انصاف کرنے والا آ جائے جو صرف پارلیمنٹیرینز کا احتساب کر سکے اپ کو اندازہ ہو جائے گا اس ملک کے عوام کے ساتھ کتنا ظلم ہوا ہمارے ملک میں عجب نظام ہے جو اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے تندور سے روٹی چوری کرتا ہے اس کی جان بخشی نہیں ہوتی جو سارے سارے بینک لوٹ کر لے گئے وہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس ملک کا عجب نظام ہے یہاں غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے غریب کے لیے ہر طرف ذلت اور خواری موجود ہے جبکہ اربوں اور کھربوں اس ملک کا لوٹنے والوں کے لیے ہر طرف آسانیاں موجود ہیں۔ اس ملک کا عجب نظام ہے جس کی تنخواہ لاکھوں میں ہے اسی کو تمام مفت سہولیات بھی میسر ہیں اور وہ تمام مفت سہولیات غریب عوام کی جیب سے ادا کی جا رہی ہیں۔ کاش اس ملک کے اندر کوئی ایسا حکمران آ جائے جو غریب عوام کے بارے میں سوچنا شروع کر دے مٹھی بھر الیٹ کلاس کو لگام ڈالے اور تمام مفت سہولیات کی مد میں جو بجٹ ان پر خرچ ہوتا ہے وہ عوام کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے کاش اس ملک کے اندر عدل کا نظام قائم ہو جائے کاش اس ملک کے اندر خالص جمہوریت قائم ہو جائے ایسی جمہوریت جس میں غریب انسان پارلیمنٹ کا حصہ بن جائے وہ پارلیمنٹ میں پہنچ کر غریب عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچنا شروع کرے ورنہ دوسری صورت میں یہ مٹھی بھر الیٹ کلاس بچا کچھا پاکستان بھی کھا جائیں گے۔
غریب پاکستانی عوام کی حالت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مائیں اپنے بچوں کو زہر دے رہی ہیں۔ خود کشیاں کر رہی ہیں کیا یہ خبریں ظالم حکمرانوں تک نہیں پہنچتی۔ کیا ایسے حالات میں ان کو اقتدار میں رہنا چاہیے لیکن ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان سب کے بچے ملک سے باہر ہیں ان سب کے اثاثے ملک سے باہر ہیں۔ ان سب کے پاس ترقی یافتہ ممالک کے ملٹیپل ویزے موجود ہیں۔ ان کے لیے پاکستان صرف ایک وطن نہیں ہے پاکستان ان کے لیے سونے کی چڑیا کا نام ہے یہ پاکستان آتے ہیں پاکستان کو لوٹتے ہیں اپنے اثاثے بناتے ہیں اور پھر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔
ان کا غریب عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگر ان کا غریب عوام کے ساتھ تعلق ہوتا دنیا کے اندر مثالیں موجود ہیں 20 20 سال کے اندر کئی ممالک نے حیرت انگیز ترقی کی سنگاپور کتنا بڑا ملک ہے لیکن اس کے جی ڈی پی کا اندازہ لگا لیجیے ایسے کئی ممالک موجود ہیں لیکن ان کے پاس با صلاحیت اور وطن کے ساتھ مخلص لیڈرشپ تھی لیکن یہاں پر سب ٹوپی ڈرامہ ہے سب الفاظ کا ہیر پھیر ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 76 سال ہو چکے ہیں پاکستان کوئی چھوٹا سا ملک نہیں ہے یہاں بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ لیکن یہ وسائل صرف اور صرف مٹھی بھر لوگوں کے لیے عوام کے لیے صرف زہر کھانے والی گولیاں موجود ہیں جو اب آسانی سے وہ بھی نہیں ملتی مشکل تو یہ ہے گھٹن زدہ ماحول میں اس سے زیادہ کھل کر سچ لکھ بھی نہیں سکتے۔


