لندن مہنگا ہے لیکن ۔۔۔۔ (1)


گڈ ہوٹل دریائے ٹیمز پر بستا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ دریا کے اوپر ہے۔ اور واقعی جب گراونڈ فلور پر پیچھے کی طرف بنی بیٹھنے کے ان جگہوں میں سے کسی ایک کرسی پر بیٹھے ہوں جس کی کھڑکیاں سیدھی دریا میں کھلتی ہیں تو دو چار سیکنڈز بیٹھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ بھی پانی کی لہروں کے سنگ بہہ رہے ہیں۔ ہلکا ہلکا، سبک رو۔ سر چکراتا ہے اور پانی اپنی طرف کشش مارتا ہے۔

ہوٹل کے تین فلورز ہیں۔ اور دو سو پچاس سے زائد کمرے۔ ایک رات کا کرایہ سو پونڈز یعنی پنتیس ہزار آٹھ سو روپے سے تھوڑا زیادہ ہے۔ دس بائے دس کا کمرا یعنی کیبن۔ دیکھنے میں خوبصورت، جدید۔ جس میں ڈبل بیڈ بھی ہے اور کافی بار بھی۔ سادہ لٹکتی بلب بھی۔ الیکٹرک کیٹل بھی پڑی ہے اور منی سائز اوون بھی اور بال سکھانے کی مشین بھی۔ کپڑے لٹکانے کو داخلی دروازے کے پیچھے کھونٹی بھی لگی ہے اور واش روم کی وہ دو فٹ دیوار جس کا رخ ڈبل بیڈ کی طرف ہے۔ اس پر ایک ڈیڑھ فٹ چوڑائی اور تین فٹ لمبائی والا شیشہ بھی لگا ہے۔ اور اس کے آگے ڈبل بیڈ جو بنیادی طور پر دو سنگل بیڈ ہیں جن کو بوقت ضرورت اکٹھا یا الگ کر لیا جاتا ہے۔ اور آخری دیوار جہاں بیڈ ختم ہوتا ہے اس کی اونچائی سے اوپر پوری دیوار جتنی کھڑکی چھت تک جاتی ہے جو اگر کھولیں تو اس دریا کے بند کی طرف کھلتی ہے، جو ہوٹل نے اپنی تعمیر کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ اور جو براہ راست بذریعہ سیڑھیوں اوپر ‘اوپن ائیر’ چھت تک منسلک ہے۔ اس لئے صرف اسی ہوٹل کے مہمانوں کے زیر استعمال رہتا ہے۔

جب آپ اس مستطیل کمرے میں داخل ہوں تو ایک چھوٹی راہ داری سے واسطہ پڑتا ہے۔ جس کے داہنے ہاتھ پر کھونٹی، کافی بار کا اسٹینڈ اور ایک اسٹڈی ٹیبل ہے اور دوسری طرف ٹوائلٹ اور باتھ روم۔ درمیان میں بس اتنی جگہ بنتی ہے کہ ایک آدمی گزر سکے۔ اور اس کے آگے سونے کا بیڈ۔ جس کے تین اطراف بس اتنی گنجائش ہے کہ ایک فرد چلتا ہوا اپنی اپنی جانب چڑھ یا اتر سکے۔ کوئی الماری یا الگ سامان رکھنے کی عیاشی میسر نہیں۔

کیبن نما کمرے۔ جو لش پش ہونے اور ضروریات کے حوالے سے پورے۔ لیکن دیواریں اتنی کم موٹائی کی کہ قہقہوں، زیادہ جوشیلے جذبوں، اونچی آوازوں اور غیر معمولی آہٹوں کے بھرم ہر لمحہ ٹوٹتے ہیں۔ اور سماعتوں پر کافی گراں گزرتا ہے جب ہمسائے کمروں میں سے کسی کی فلش ٹینکی کے چلنے کی آواز آتی ہے۔ شائد ان دیسوں میں کمرے بھلے گھر کے ہوں یا مہمان خانوں کے، بس سونے اور آرام کے لئے بنائے جاتے ہیں۔

ہوٹل کے باہر، اس کے اور مرکزی شاہراہ کے درمیان اور کنارے ریستوران، اور کمرشل دکانیں ہیں۔ کھانے کے لئے سبھی کچھ دستیاب ہے۔ حلال بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ کئی لبنانی، افغانی، ترکش، پاکستانی اور دوسرے مسلم ملکوں کے ریستوران موجود ہیں۔ ورنہ ویگین کیٹیگری آنکھیں بند کر کے خریدیں اور کھائیں۔ لیکن گوشت خوروں کو اس میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خیر، کھانا کسی ٹرک/ویگن شاپ سے کھائیں اور ایک آئٹم خریدیں تو آٹھ سے دس پونڈز کا ملتا ہے جو کہ لگ بھگ انتیس سو روپے سے پنتیس سو روپے بنتا ہے۔ اور اگر کبھی کسی بہتر ماحول میں بیٹھ کر کھانے کو دل ہے تو آپ کو ایک وقت کی پیٹ پوجا پندرہ سے بیس پونڈز میں پڑتی ہے۔ اور یہ سب جمع تفریق ان لوگوں پر بہت بھاری پڑتی ہے جو تیسری دنیا کے ممالک کے باسی ہیں۔

لیکن اس جوڑ توڑ میں ایک بات جو حیران کن ہے کہ نہ کمرے میں ‘منرل واٹر’ کی بوتلیں رکھی ہوتی ہیں۔ نہ کھانے کی میزوں پر ان کا کوئی وجود ہوتا ہے۔ اگر نادانستگی میں آپ کسی بیرے کو آرڈر میں اس کا کہتے ہیں تو پہلے تو حیرانگی سے آپ کو دیکھتا ہے۔ پھر بے یقینی میں دوسری بار ‘کنفرم’ کرتا ہے۔ اور تیسری بار میں شیشے کی ایک پانی والی بوتل رکھ جاتا ہے۔ جس میں زیادہ سے زیادہ تین گلاس پانی ہوتا ہے۔ شاپنگ اسٹورز پر جائیں تو فریزر اور فریج میں پانی کی بوتلوں کا ڈھیر دیکھنے کو نہیں ملتا نہ پانی کے چھوٹے، بڑے مختلف سائز کے کین دکھتے ہیں۔
کیونکہ ٹونٹیوں میں آنے والا پانی صاف اور پینے کے قابل ہے۔ پانی چاہیے تو جھٹ ٹونٹی کھولیں اور گلاس بھریں۔ صاف ستھرا پانی پینے کو حاضر۔ نہ مقدار کو کنٹرول کرنے کی فکر نہ معیار پر شک۔ مزید اس مد میں پلاسٹک ویسٹ سے بھی بچت۔ ورنہ ملائیشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا سے ایران، تک جہاں پر بھی سفر کرو۔ پانی خرید کر ہی پینا پڑتا ہے۔ قیام، کھانے اور سیاحت کے ساتھ جو سب سے بڑا خرچا دوران سفر کرنا پڑتا ہے، وہ پینے والا پانی کا ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے جانے والے لوگوں کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو سو دفعہ شکر ادا کرتے ہیں کہ کھل کر، پیسے کی بے فکری سے جتنا چاہیں، جب چاہیں، پانی پی سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایک اندازے کے مطابق تیس فیصد لوگوں کو محفوظ اور صاف پانی تک رسائی ہے اور ایک سو بائیس ممالک کی معیاری پانی کی دستیابی کی فہرست میں ہمارا ملک اسویں نمبر ہے۔ ٹونٹیوں میں آنے والا پانی تو مدتوں ہوا قابل استعمال نہیں۔ کھارا، پیلا، آلودہ پانی۔ جس نے پہلے شہروں میں پینے کے پانی کا بزنس متعارف کروایا۔ اور اب تو گاوں، قصبے بھی بری طرح اس کی لپیٹ میں ہیں۔ جہاں پرائیویٹ کمپنیاں کھلے رکشوں، ریڑھیوں، پک اپ پر پانی بیچتی ہیں اور دودھ کی طرح لوگ پینے کے لئے پانی بھی خریدتے ہیں۔ انیس لیٹر والی بڑی بوتل ستر سے دو سو روپے میں ملتی ہے۔ جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس شہر اور علاقہ میں رہتے ہیں۔ ہر کمپنی کا اپنا ریٹ ہے۔ اس لئے اب آمدن میں ایک مستقل خرچہ پانی کا بھی شمار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے لگائے گئے پانی کے فلٹر پلانٹس بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ اور جہاں کہیں یہ سہولت موجود ہے تو وہاں بھی ابتدائی کچھ مہینوں کے بعد اس کی صفائی اور دیکھ بھال کے وہ حالات ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اور اگر اس صورت حال کے دوسرے رخ کو دیکھیں تو ‘پلاسٹک ویسٹ’ کا ایک انبار ہے جس کو ‘مینیج کرنے کو’ ہم نے بحیثیت انفرادی و اجتماعی کبھی درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ ہمیں یہ اعداد و شمار معلوم نہیں کہ ہم ملکی اور انفرادی سطح پر کتنا ‘پلاسٹک ویسٹ’ ‘منرل واٹر’ کی صورت پیدا کرتے ہیں؟ کتنے پیسے بوتل والے پانی پر خرچ ہوتے ہیں؟ کتنے پبلک فلٹر پلانٹس، کتنی پرائیویٹ کمپنیاں کما رہی ہیں لیکن پینے کا صاف پانی پھر بھی سب کے لئے نہیں ہے۔ حتی کہ ہمارے دیہاتی علاقوں میں بھی پینے کے لئے صاف پانی کا بور اڑھائی سو فٹ سے اوپر نکلنا شروع ہو گیا ہے۔

اس لئے لندن کے بارے میں جو مشہور ہے کہ ‘مہنگا’ ہے۔ اتنا سچا نہیں لگتا کیونکہ ایک ‘تھرڈ ورلڈ کنٹری’ سے جانے والے سیاح کو پانی پھونک پھونک کر نہیں پینا پڑتا اور نہ ہی اپنی جیب بار بار ٹٹولنی پڑتی ہے۔ جو کہ کافی ‘اوپرا’ اور نامانوس لگتا ہے۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS