اگر انتحابات مقررہ وقت پر ہوئے تو؟


اگلے ماہ 12 اگست سے موجودہ اسمبلیوں اور حکومت کی مدت ختم ہونے پر آئینی لحاظ سے مقررہ مدت کے اندر نئے انتحابات کرانے پڑیں گے

کیا انتحابات مقررہ وقت پر ہوں گے؟ اس حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے ہونے والے خدشات کے باعث یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم اگر کسی وجہ سے یہ التوا کا شکار نہ ہوئے تو موجود سیاسی صورت حال کی روشنی میں یہ کافی یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں کوئی جماعت قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔ اس لیے انتحابات کے بعد جو حکومت بھی بنی گی وہ مخلوط ہوگی۔

ظاہر ہے کہ اسی طرح کی مخلوط حکومت میں قومی سطح کم ازکم کسی ایک پارٹی کا ہونا ضروری ہو گا۔ ایسے میں سوال یہ ہو سکتا ہے کہ قومی سطح کی موجود تین جماعتوں ( پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف ) میں زیادہ چانسز کس جماعت کے یو سکتے ہیں

اس سلسلے میں تو اصولاً بنیادی اہمیت تو اس جماعت کو دینی ہو گی جو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل کریں۔

ان جماعتوں کی ممکنہ نشستوں کے بارے میں انتخابی ماحول بننے سے پہلے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم بعض عوامل کی روشنی میں کسی حد تک ممکن صورت حال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

قومی سطح کی تین جماعتوں میں تحریک انصاف اگرچہ بلا شبہ ووٹ بنک کے لحاظ سے بہت مضبوط جماعت ہے مگر 9 مئی کے بعد اس کے لیے حالات کافی مخدوش ہیں اس کا مستقبل کیا ہو گا اس کے بارے فی الحال صورت حال واضح نہیں۔ تاہم موجود حالات کے بنا اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ مستقبل قریب میں عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف کا اقتدار میں آنا شاید بہت مشکل ہو۔ اس کی بڑی وجہ مقتدر حلقوں اور عمران خان کے درمیان موجود تناؤ ہے۔ اور حکومت سازی میں مقتدر حلقوں کے رول اور ترجیحات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔

اگرچہ بعض حلقوں کی خواہش یہی ہوگی کہ تحریک انصاف پر پابندی کسی طرح لگ کر انتحابات میں حصہ لینے سے روکا جائے مگر ایسا کرنا نہ تو آئینی اور قانونی لحاظ سے اتنا آسان عمل رہے گا اور نہ یہ جمہوری لحاظ سے درست اقدام ہو گا۔ اسی بنا پر پیپلز پارٹی کا تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی مخالفت کرنا ایک مثبت، خوش آئند اور جمہوری طرز فکر ہے۔ البتہ عمران خان کو بوجوہ نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے

عمران خان کو اگر شفاف قانونی بنیادوں پر نا اہل کیا جائے تو انتحابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی یقیناً متاثر ہو گی۔ تاہم اس کے باوجود بھی اس کا خاصی نشستیں نکالنا بعید از قیاس نہیں ہو سکتا ہے مگر اس کی کسی بڑی کامیابی کا امکان کافی کم ہو گا۔ البتہ اگر عمران خان کو بذات خود میدان میں بغیر کسی پابندی کے موجود رہنے دیا گیا اور انتحابات بالکل شفاف کرائے گئے تو تمام تر مشکلات اور معاندانہ حالات کے باوجود تحریک انصاف ایک بہت چیلنج ثابت ہو سکتی ہے

جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو اپنی ترقی پسند طرز سیاست اور ماضی میں اپنی قربانیوں کی تاریخ کے باعث دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں یہ ایک خاص انفرادیت اور اہمیت رکھتی ہے تاہم 2013 کے بعد سے انتخابی کارگردگی کا گراف نیچے گیا ہے۔ ایک زمانہ میں صوبہ پنجاب میں یہ ایک مضبوط سیاسی حیثیت رکھتی تھی مگر بعد میں پنجاب میں اپنا اثر برقرار نہ رکھ سکی۔ اگرچہ سندھ اور بالخصوص اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے اور تاحال کوئی جماعت وہاں اس کا زور نہیں توڑ سکی ہے۔ آئندہ انتحابات میں یہ گزشتہ کے مقابلے میں شاید شہری سندھ میں بھی کئی نشستوں کا اضافہ کر لے۔ اسی طرح بلوچستان اور خیر پختونخوا میں بھی کئی نشستیں زیادہ حاصل کرنا کا امکان ہے۔ مگر اصل اہمیت چونکہ صوبہ پنجاب کی نشستوں کی ہوتی ہے تو یہاں پر پیپلز پارٹی کی تاحال پوزیشن زیادہ مستحکم نہیں۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی کا قیام عمل میں نہ آتا تو زیادہ امکان یہ ہو سکتا تھا کہ تحریک انصاف سے نکلنے والے الیکٹیبلز کو پیپلز پارٹی شامل کرتی یوں پنجاب سے شاید 45 / 40 تک قومی اسمبلی کی سیٹیں نکال لیتی تو پھر سندھ، بلوچستان اور خیر پختونخوا میں اس کی نشستوں کی مجموعی تعداد دوسری جماعتوں سے تھوڑا زیادہ ہونے کے بنا قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہوتی مگر چونکہ بادی النظر میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کا مطلوبہ نشستیں لینے کا

فی الحال امکان قدرے کم ہے۔ اس لیے اس کا اکثریت حاصل کر کے پہلی پوزیشن لینا بھی مشکل ہے۔ ( ہاں یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر حالات بدل گئے تو پیپلز پارٹی کا اکثریتی جماعت بننا خارج از امکان بھی نہیں۔ اگر قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد نون لیگ سے بہت زیادہ کم نہ رہے تو پہلی اکثریتی پارٹی نہ ہونے کے باوجود اس کا حکومت بنانا ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں مختلف جماعتوں اور گروپوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت ہے۔ اس لیے اگر حالات کا تقاضا ہوا تو تحریک انصاف (بشرطیکہ عمران خان اس کا قائد نہ رہا ہو) کے منتخب ارکان کو شریک اقتدار کر سکتی ہے

اب جہاں تک قومی سطح کی تین جماعتوں میں مسلم لیگ نون کا تعلق ہے تو مذکورہ حالات کے تناظر میں اس کی اکثریتی جماعت بننے کا امکان نسبتاً زیادہ لگتا ہے۔ نون لیگ کا ممکنہ اکثریتی جماعت بننے کی ایک وجہ تو صوبہ پنجاب میں اس کا کافی ووٹ بینک ہے۔ اگرچہ پچھلے انتحابات میں اس کے لیے تحریک انصاف ایک بڑا چیلنج بن گئی تھی اور اگر 9 مئی کے سانحہ کی وجہ سے تحریک انصاف مشکل میں نہ پڑتی تو اس بار مسلم لیگ نون کو زیادہ بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا۔ خراب معاشی کارکردگی کے باعث اس کی انتخابی پوزیشن انتہائی خراب ہونے کا قوی خدشہ تھا

اس لیے اس کو مسلم لیگ نون کی خوش قسمتی کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف شاید اب زیادہ جارحیت اور مزاحمت کا مظاہرہ نہ کر سکے اور یوں نون لیگ اپنی خراب معاشی کارکردگی کے باوجود صوبہ پنجاب میں عوامی غصے کا کم شکار رہ کر دوسری جماعتوں کے مقابلے زیادہ سیٹیں لے سکی۔ دوسری وجہ نواز شریف کی واپسی ہو سکتی ہے۔

اگر انتحابات سے قبل نواز شریف کے خلاف مقدمات اور سزائیں ختم ہو گئیں تو وہ ایک مظلوم اور بے گناہ کی حیثیت میں واپس آ کر مسلم لیگی کارکنوں میں نئے جوش اور ولولے کا باعث بن کر نون لیگ کی پوزیشن ازسر بہتر بنانے میں اہم رول ادا کرے گا۔

تیسرا اور غالباً اہم سبب اسٹیبلشمنٹ کی ممکنہ آشیرباد ہو سکتا ہے۔ بعض قرائن اور آثار سے کسی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے کچھ اہم حلقے بوجوہ شہباز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ نون کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

بعض ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف کے تحت حکومت پر تحفظات ہیں اور اس کی جگہ وہ شہباز شریف کو ترجیح دیتے ہیں

مذکورہ حالات اور وجوہات کے بنا اس کا بات کا امکان زیادہ ہے کہ انتحابات میں دوسری جماعتوں کے مقابلے پنجاب میں نون لیگ کی پوزیشن تو شاید بہتر ہو تاہم یہ قطعی اکثریت بھی نہیں لے سکتی ہے یوں زیادہ سیٹیں رکھنے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے اس کو دوسری جماعتوں یا گروہوں پر انحصار کرنا ہو گا، ۔

ایسے میں اگلا سوال یہ رہے گا کہ کن جماعتوں کے ساتھ مل کر اس کا حکومت بنانے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے؟

اس ضمن میں ایک تو ”جے یو آئی“ کے بارے کہا جا سکتا ہے کہ نون لیگ کا ساتھ دے گی۔ مگر چونکہ جے یو آئی کا حلقہ اثر خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک ہے اور یہاں سے اس کی حاصل کردہ نشستوں کی تعداد شاید اتنی نہ ہو جس کے ملنے سے مطلوبہ کمی پوری ہو سکے۔

اس صورت میں اس کو کسی اور جماعت یا گروپ کو ساتھ ملانا ضروری ہو گا۔ اس حوالے سے ممکنہ آپشن پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی ہو سکتے ہیں

پنجاب کی سطح پر اگرچہ ”ق لیگ“ بھی موجود ہے جو شاید چند نشستوں سے زیادہ حاصل نہ کر سکے تاہم اگر ان کی تعداد اتفاقا کچھ زیادہ بھی ہو جائے تو نون لیگ کا اس کو اپنے ساتھ حکومت میں شریک کرنے کا امکان بوجوہ نہیں ہو سکتا ہے۔

ویسے تو مسلم لیگ نون کے ساتھ دوسری اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی ہوگی اور اس کے تعاون سے نون لیگ کا حکومت بنانا زیادہ یقینی ہو سکتا ہے۔

مگر اس ضمن میں کئی دوسرے ممکنہ عوامل ہونے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا فیکٹر بھی اہم رہے گا کیونکہ پاکستانی سیاست اور حکومت سازی میں غیر جانبداری کے تمام تر دعووں کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی منشاء کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا، ہے۔

یوں اس بات کی بہت اہمیت ہوگی کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت زیادہ قبول ہوگی۔ یا۔ اس کی خواہش اور کوشش یہ ہوگی کہ وفاقی سطح پر نون لیگ کا اہم اتحادی استحکام پاکستان پارٹی رہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کیا ہے۔ اس بارے فی الحال یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

زیادہ یقین سے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ مقررہ وقت پر انتحابات ہونے کی صورت موجود حالات میں کسی جماعت کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہو سکتی ہے اس لیے ان کے نتیجے میں جو حکومت (خواہ پیپلز پارٹی کی سربراہی میں ہو یا مسلم لیگ نون کی قیادت میں ) بنے گی بہرحال یہ مخلوط ہوگی۔

Facebook Comments HS