مسلمان ناکام کیوں ہیں؟
مسلم دنیا آمریت، کم جی ڈی پی گروتھ ریٹ اور ترقی پزیری سے دو چار کیوں ہے۔ اس کا جواب کئی طرح سے ہوسکتا ہے۔ ہر گروہ اپنی طرز کا جواب دیگا۔ مذہبی جماعت کہے گی کہ مسلمانوں نے صراطِ مستقیم چھوڑ دی ہے۔ مسلمان اپنے معاملات میں حد سے تجاوز کرنے لگے ہیں اور اسلامی تعلیمات اور احکامات کا پالن نہیں کررہے ہیں۔ ملحد اور سیکولر کمیونٹی کہیں گی کہ اسلام اکیسویں صدی کے لئے قابل عمل نہیں ہے، جس کے ساتھ مسلمانوں نے کچھ زیادہ ہی خود کو اور سوسائٹی کو جوڑ دیا ہے۔ جدید ریاستی رہنماء کہیں گے کہ اسلام کو اجتہاد اور اصلاحات کی ضرورت ہے جو اکیسوی صدی کی چیلنجز کو پورا کرسکے۔ اور ہاں مولویوں کا طبقہ جو معاشرے کے نچلے سطح پر زیادہ سرگرم ہوتا ہے کہ نزدیک مسلمان نماز نہیں پڑھتے یا پھر روزہ زکوٰۃ جیسے فرائض ادا نہیں کرتے۔ اس طرح ہر جماعت کے نزدیک مسلم دنیا کے زوال کے اسباب مختلف ہوں گے۔
ایک مشہور مصنف کوران کہتا ہے کہ اسلامی قوانین ہی جدیدیت اور سیاسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ چند دوسرے مغربی مصنفین کے نزدیک مسلم دنیا کی زوال کا سبب مسلمانوں کا مردوں میں برابر وراثت کی تقسیم ہے جس سے زمین تقسیم در تقسیم ہو کر کاشت کاری کے لائق نہیں رہتی یا زیادہ پیداوار نہیں دیتی، اور خواتین کو لیبر فورس سے باہر رکھتی ہے جس کا اثر قومی خزانے پر پڑتا ہے۔
آج مسلم دنیا میں 28 میں سے 22 مسلم ریاستیں اپنا نصف سے زیادہ ریوینیو تیل بیج کر اخذ کرتی ہے۔ اس طرح قومی خزانے کو ٹیکسس بہت کم جاتے ہیں۔ سعودی عرب 2020 میں ٹیکسس کا حصہ قومی بجٹ میں صرف 20 فیصد رہا۔ کویت کا 40 فیصد رہا۔ مسلم ممالک کے برعکس ناروے نے تیل پر انحصار پچھلے کچھ سالوں میں بہت کم کردیا ہے۔ ناروے نے دوبارہ بننے والی توانائی کے ذخائر اور ٹیکنالوجی میں خرچ کیا ہے۔ مسلم اکیڈیمیا کے نزدیک "ریینٹریزم” یا تیل پر انحصار نے آمریت کو بڑے حد تک فروغ دیا ہے۔ ریینٹریزم سیاسی ویکیوم پیدا کرتی ہے جو آمریت کے لئے راہیں کھولتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں جمہوریت زیادہ بحران میں ہے۔ یہی وجہ معروف مصنف محمد عمر چاپڑا بھی بتاتے ہیں کہ مسلم دنیا میں جمہوری اقدار اور روایات ہی اس کو زوال کی طرف دھکیلتی ہے۔
اکثر عرب ممالک میں عوام زیادہ ٹیکسس نہیں دیتے اس لیے ان ممالک میں آمریت ہیں جس میں رہنما عوام الناس کو سیاسی عمل میں شامل نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی سوشل موبلائزیشن ہوتی ہے۔ عوام اور حکومت کے درمیان ایک بہت بڑا گیپ ہوتا ہے۔
پروفیسر اور مصنف احمد ٹی کورو اپنی کتاب "اسلام، امریت اور پسماندگی” میں لکھتے ہیں ہے کہ مسلمانوں کی زوال گیارھویں صدی سے شروع ہوئی ہے۔ منگولوں کی حملوں کی وجہ سے مسلمان اپنی تہذیب کو بچانے کے درپے تھے۔ اس لیے جو سائنس اور فلسفہ میں کام ہو رہا تھا اس کو یکسر بلیک لسٹ کیا گیا۔ علماء کی مدد سے مسلمان فلسفیوں کو کافر اور مرتد قرار دیا گیا اور ہر قسم کی جدت کو خیر باد کہا گیا۔ اجتہاد کے دروازے بند کر دیے گیے اور اسلام کی حفاظت کے لیے مدرسوں کے قلعے تعمیر کیے گئے ۔ سلجوقی حکمران نظام الملک طوسی نے پہلی بار نظامیہ مدرسہ کا بنیاد گیارھویں صدی کے وسط میں رکھا تھا جس کو بعد میں حکومت اور ریاست کنٹرول کرنے لگی اور سنی مسلک کے پرچار کا ذریعہ بنایا۔ یہاں تک کہ علماء جو ان مدرسوں میں پڑھاتے تھے بھی وقف سے وظیفہ لینے لگے۔
اس سے پہلے امام ابو حنیفہ کو وظیفے کے کئی پیشکش ہوئے تھے لیکن امام نے لینے سے انکار کردیا تھا۔ یہاں تک کے حکمرانوں کے گھر جاکر ان کے اولاد کو پڑھانے سے بھی انکار کردیا تھا۔ گیارویں صدی سے پہلے علماء، سائنسدان اور فلسفی آزادانہ کام کررہے تھے لیکن مدرسہ نظامیہ کے بننے کے بعد علماء ریاست اتحاد شروع ہوا جس نے ہر قسم کے جدت اور علمی کام کو فل سٹاپ لگا دیا۔ احمد لکھتے ہیں کہ آج بھی پوری مسلم دنیا میں وہی علماء ریاست اتحاد ہے جس کی وجہ سے ترقی نہیں ہوپا رہی۔
خلافت عثمانیہ میں یہ اتحاد اتنا مضبوط تھا کہ پرنٹنگ پریس کو عثمانیہ سلطنت آنے میں 290 سال لگے۔ اٹھارویں صدی میں خواندگی کی شرح یورپ میں 35 فیصد تھی جبکہ خلافت عثمانیہ میں صرف 1 فیصد تک رہی۔ اگلے صدی میں جب مغربی دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں چھپی خلافت عثمانیہ میں اس کی تعداد صرف 142 تک رہی۔
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق ہر مسلمان سالانہ ایک کتاب سے کم پڑھتا ہے جبکہ ایک یوروپی اوسطاً 35 کتابیں پڑھتا ہے۔ عرب ٹھاٹ فاؤنڈیشن کے مطابق ہر عرب سالانہ صرف چھ گھنٹے پڑھتا ہے۔ جتنی کتابیں سالانہ پوری عرب دنیا چھاپتی ہیں اتنے کتابیں صرف فرانس اور انڈیا سال بھر میں پیدا کرتے ہیں۔ شاید آج کے مسلمانوں کی زوال کی بڑی وجہ کتاب، تحقیق اور علم سے دوری ہے۔


