پسندیدہ شخصیت کیسے بنیں؟


ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے پسندیدہ شخصیت بنا جائے خواہ ہم کسی کی آستین کا سانپ ہوں یا آدمیت ہی اٹھ چکی ہو، ہر کوئی بغیر اچھا بنے اچھا کہلانا چاہتا ہے۔ اچھا انسان کون ہوتا ہے، اس پر گفتگو کر لیتے ہیں۔ اچھا انسان وہ ہے جو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھے، جس کا اخلاق اچھا ہو، ہر کسی کو اس کا حق دے اور زیادتی نہ کرے۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، حسد، کینہ، رشوت اور بے ایمانی سے مکمل پرہیز کرے۔ ایک اچھا انسان دوسروں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے، تکلیف کا سبب نہیں بنتا ہے اور نہ کسی کی دل آزاری کرتا ہے، وہ عارضی دنیا سے زیادہ مستقل زندگی کی فکر کرتا ہے۔ فرشتہ تو نہیں ہوتا ہے لیکن فرشتہ صفت ہونے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور فرمان کے مطابق عقلمند شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے، اس کی تربیت کرے، اگلے جہاں کی فکر کرے اور آنے والی زندگی کی بہتری کے لئے کوشش کرے۔ بے وقوف وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی اطاعت کرتا ہے اور اس کو مقصد بنا کر صرف دنیاوی خواہشات کی تکمیل کا طلب گار رہتا ہے۔ نیک بننا اور خود کو نیک دکھانے کی خواہش رکھتے ہوئے اداکاری کرنا دو الگ باتیں ہیں، ریاکاری سے پرہیز کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ اللہ تمہارے کاموں سے با خبر ہے۔ الحشر 18

عیش و عشرت کی زندگی اور مال و دولت جمع کرنے کی خواہش عقلمند آدمی کی پہچان نہیں ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو چیزیں ہماری خوشی میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ مال و دولت نہیں بلکہ ہمارے سماجی تعلقات اور ذہنی و جسمانی صحت ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لندن سکول آف اکنامکس کی ایک تحقیق میں دو لاکھ افراد کی زندگی پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا اور پتا چلا کہ ڈیپریشن کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، جب کہ اچھے شریک حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق آمدنی دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانہ پر خوشی صرف 0.2 درجہ کے قریب بلند ہوئی جبکہ اچھا شریک حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجہ اضافہ ہوا۔ پروفیسر رچرڈ لیئرڈ کا اس تحقیق کے حوالے سے کہنا تھا کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔

دنیا پرستی ایک ایسی مصیبت ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہیں۔ حلال اور حرام میں تمیز نہیں رہی ہے، بہت سے افراد دوسرے ملکوں میں جا کر حرام غذا سے انکار کرکے حلال کھانا ڈھونڈتے ہیں تاکہ حرام آمدنی کو استعمال کر سکیں، اس کو بے حسی کہیں یا پھر مردہ ضمیر کہہ لیں۔

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب خرچ ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔ سورہ نحل 96

انسان کی فطرت ہے کہ جس کو پسند کرتا ہے اس کی طرف مائل بھی ہوتا ہے اور اس کی محفل میں بیٹھنے سے خوشی محسوس کرتا ہے۔ بعض گھرانوں کے کچھ بزرگوں کو یہ دکھ رہتا ہے کہ بچے ان سے دور بھاگتے ہیں یا ان کے ساتھ وقت کم گزارتے ہیں۔ ہر بچہ معصوم اور غیر سیاسی ہوتا ہے، بچوں سے ان کا بچپن کبھی نہیں چھیننا چاہئے اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کا بچہ بڑوں اور بزرگوں کے زمانے کا بچہ نہیں ہے اس لئے نہ عمر میں برابری ہو سکتی ہے اور نہ طرز زندگی میں، وہ کسی بزرگ کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے دور کے بچوں جیسا ہی رہے گا۔ بچوں کی دوری اکثر اس وقت ہوتی ہے جب بڑوں کی عادات، شخصیت اور باتیں بچوں کے لئے پر کشش اور متاثر کن نہیں ہوتی ہیں۔ کسی بچے کو اپنے قریب کرنے کے لئے شخصیت میں اچھی یا مثبت وائبز کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی بچے کے سامنے جھوٹ بولیں، غیبت کریں یا اس کے کسی پیارے رشتے کی بار بار برائی کریں تو ایک حد تک برداشت کرنے کے بعد بچہ آپ سے دور بھاگنے لگے گا بلکہ ممکن ہے کہ وہ سب باتیں ماں اور باپ کے ساتھ ساتھ اس کو بھی بتا دے جس کی برائی آپ انتہائی بھروسہ کر کے بچے کے سامنے کرتے ہیں۔ ایسے میں اللہ سے توبہ کرنے سے پہلے انسانوں سے معافی اور تلافی ضروری ہیں۔

بعض والدین کو شکوہ ہوتا ہے کہ بچے ان کو وقت نہیں دیتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آج تک کوئی ایسا سوئچ نہیں بنا ہے کہ جس کے ذریعے بچے کی عادات، شخصیت اور کردار کو اپنی مرضی کے مطابق بنا لیا جائے۔ جب ابتدائی عمر میں ماں باپ بچوں کے ہاتھ میں بغیر کسی رہنمائی اور شرائط مقرر کیے موبائل فون تھما دیں گے تو بعد میں شکوہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ اکثر والدین صرف اس لئے بچوں کو موبائل فون دیتے ہیں کہ وہ خود موبائل پر وقت گزار سکیں اور بچے انہیں ڈسٹرب نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ سب ہماری تفریح میں خلل نہیں ہے بلکہ بچوں کی تربیت کا وہ موقع ہے جسے ہم ضائع کر رہے ہیں، بچوں کو جیسا دیکھنا چاہیں ماں باپ کو ویسا بننا چاہئے، یہ اچھی تربیت کے لئے والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ ماحول کا شخصیت بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر ماں باپ خود کتاب پڑھیں گے تو بچوں میں بھی یہ شوق پیدا ہو گا۔ یاد رکھیں، جو آج بو رہے ہیں کل وہی کاٹنا ہو گا۔

کسی انسان کی منفی شخصیت نہ صرف اس کے لئے نقصان دہ اور گناہ کا باعث ہے بلکہ آس پاس رہنے والوں پر بھی منفی اثرات چھوڑتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر کوئی اپنا تجزیہ کرکے خود کو سنوارنے کی کوشش کرے تاکہ آخرت کی بھلائی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی لوگوں کے لئے پسندیدہ شخصیت بن سکے۔ اگر ہم اپنی سوچ اور ہر عمل کو قرآن کے احکامات کے مطابق بنا لیں تو یقین کریں ہماری سانس بھی عبادت بن جائے۔ قرآن ہمیں دنیا کو نبھانے یا دنیا داری سے نہیں روکتا ہے بلکہ یہ بتاتا ہے کہ آنے والی زندگی موجودہ زندگی سے بہت بہتر ہے اور اس کی تیاری کرنے کے لئے دنیا اور مادیت پرستی سے خود کو بچانا ضروری ہے۔

Facebook Comments HS