عشق بیچارہ اور عقل عیار (5)


چالیس چراغ عشق میں آگے چل کر مولانا روم فرماتے ہیں ( 16 ) بلند و برتر اور ہر طرح کے نقص سے پاک ذات خدا، سے محبت کرنا تو بظاہر آسان سی بات ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ مشکل انسان کا اپنے ابنائے جنس سے محبت کرنا ہے، جس میں ہر طرح کی کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں، یاد رکھو، انسان اسی کو جان سکتا ہے جس سے وہ محبت کرنے پر قادر ہو۔ محبت کے بغیر کوئی معرفت، معرفت نہیں ہوتی۔ جب تک ہم اللہ کی تخلیق سے محبت کرنا نہیں سیکھتے، تب تک ہم اس قابل نہیں ہوسکتے کہ اللہ سے حقیقی محبت کرسکیں، اس کو جان پائیں ( 17 ) اصل ناپاکی اندر کی نجاست ہے۔

باقی سب کچھ آسانی سے دھل جاتا ہے۔ لیکن آلودگی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو پاکیزہ پانی سے صاف نہیں ہوتی، وہ نفرت اور تعصب کے دھبے ہیں، جو روح کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ تم ترک دنیا اور روزے رکھنے سے بدن کا تزکیہ تو کر سکتے ہو لیکن قلب کی پاکیزگی صرف محبت سے حاصل ہوگی۔ ( 18 ) پوری کائنات انسان کے اندر موجود ہے۔ تم اور تمہارے ارد گرد جو کچھ تمہیں دکھائی دیتا ہے، یہی تمام چیزیں خواہ تمہیں پسند ہوں یا ناپسند، تمام کردار خواہ تم ان کے لئے رغبت محسوس کرو یا کراہت، یہ سب تمہارے اپنے اندر کسی نہ کسی درجے میں ملیں گے۔

چنانچہ، شیطان کو باہر مت دیکھو بلکہ اپنے اندر تلاش کرو، شیطان کوئی غیر معمولی قوت نہیں جو تم پر باہر سے حملہ آور ہو بلکہ تمہارے اندر سے ابھرنے والی معمولی سی خواہش کا نام ہے۔ اگر تم محنت اور دیانت سے اپنی ذات کے روشن و تاریک گوشوں کو دیکھنے کے قابل ہو جاؤ تو تجھ پر عظیم اور برتر شعور کا دریچہ کھلے گا۔ جو شخص اپنے آپ کو جان لے، وہ اپنے رب کو بھی پہچان لیتا ہے ( 19 ) اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تجھ سے اچھا برتاؤ کریں تو اس کے لئے پہلے تمہیں اس رویے کو تبدیل کرنا ہو گا جو تم اپنے آپ کے ساتھ روا رکھتے ہو۔

جب تک تم اپنے آپ سے پورے خلوص سے محبت کرنا نہیں سیکھ لیتے، بہت مشکل ہے کہ تمہیں محبت نصیب ہو، جب یہ مرتبہ حاصل ہو جائے تو پھر ہر اس کانٹے کے لئے بھی شکر گزار رہو جو تمہارے راستے میں پھینکا جائے کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عنقریب تم پہ پھول بھی نچھاور ہوں گے ( 20 ) اس بات پر پریشان مت ہوں کہ راستہ کہاں لے کر جائے گا بلکہ توجہ اپنے پہلے قدم پر رکھو۔ یہی تمہاری ذمہ داری اور یہی سب سے مشکل کام ہے۔

جب پہلا قدم اٹھالیا، تو پھر اس کے بعد ہر شے کو اپنے قدرتی انداز میں کام کرنے دو اور تم دیکھو گے کہ راستہ خودبخود کھلتا جائے گا۔ بہاؤ کے ساتھ مت بہو بلکہ خود لہر بن جاؤ جس کا اپنا بہاؤ ہوتا ہے ( 21 ) اس نے ہم سب کو اپنی صورت پر پیدا کیا لیکن اس کے باوجود ہم سب ایک دوسرے سے مختلف اور یکتا و ممتاز ہیں۔ کوئی بھی دو انسان ایک جیسے نہیں، کوئی بھی دو دل یکساں طور پر نہیں دھڑکتے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم سب ایک جیسے ہوں، تو وہ ان کو ایک جیسا ہی بناتا۔

چنانچہ اب ان اختلافات کی توہین و تنقیص کرنا اور اپنے افکار کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرنا دراصل پروردگار عالم کی قضا و قدر اور بلند پایہ حکمت کی توہین کے مترادف ہے ( 22 ) جب اس کا سچا چاہنے والا کبھی میکدے میں جا پہنچے، تو وہ میکدہ اس کے لئے محراب و مصلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے لیکن اگر کوئی بہکا ہوا مے خوار مسجد میں بھی چلا جائے تو وہ اس کے لئے میخانہ بن جاتی ہے۔ جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں اس میں اصل کردار تو ہمارے دل کا ہے، ہمارے اندر کا ہے، ظاہر کا نہیں۔

صوفی لوگوں کو حلیے اور وضع قطع سے نہیں جانچتے۔ جب صوفی کسی پر اپنی نگاہ جماتا ہے تو وہ دراصل اپنی دونوں آنکھوں کو بند کرچکا ہوتا ہے، تیسری آنکھ سے (جو اس کے قلب میں ہے ) اس منظر کے اندر کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔ ( 23 ) زندگی تو ادھار کی مانند ناپائیدار ہے، حقیقت کا ایک دھندلا سا خاکہ اور نقل ہے۔ صرف بچے ہی اصل حقیقت کی بجائے کھلونوں سے بہلتے ہیں لیکن اس کے باوجود، لوگ کھلونوں پر فریفتہ ہیں یا بے قدری سے انہیں توڑ ڈالتے ہیں۔

اس زندگی میں ہر قسم کی انتہاؤں سے دور رہو، کیونکہ انتہاپسندی تمہارے اندرونی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ صوفی اپنے رویوں میں انتہا پسند نہیں ہوتے بلکہ متوازن اور نرم ہوتے ہیں ( 24 ) پروردگار کی سلطنت میں انسان کو خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ اللہ نے کہا ”میں نے اس کے اندر اپنی روح میں سے پھونک دیا“ ۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس قابلیت سے پیدا کیا گیا کہ وہ اس کا خلیفہ بن سکے۔ اپنے آپ سے پوچھو کہ کیا تمہارے اعمال اس کے خلیفہ جیسے ہیں؟

یاد رکھو کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس رحمانی روح کو (جو ہم میں پھونکی گئی ہے ) کو اپنے اندر دریافت کریں، پہچانیں اور اس کے ساتھ جئیں۔ ( 25 ) جنت اور دوزخ کے بارے میں فکرمند رہنا چھوڑ دو کیونکہ جنت اور دوزخ یہیں ہیں اسی لمحہ موجود میں۔ جب بھی ہم محبت محسوس کرتے ہیں، جنت کا ایک زینہ طے کرتے ہیں اور جب بھی نفرت، حسد اور جھگڑے میں پڑتے ہیں، دوزخ کی لپٹوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ کیا اس سے بھی بدتر کوئی دوزخ ہو سکتا ہے جب کوئی شخص اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ احساس پائے کہ اس سے کوئی بے حد غلط اور برا کام سرزد ہو گیا۔

اس شخص سے پوچھ کر دیکھو وہ تمہیں بتائے گا کہ دوزخ کسے کہتے ہیں (حالانکہ یہ پشیمانی ہے، جسے حضورﷺ نے توبہ کی اعلی ترین صفت کہا) (راقم) ۔ کیا اس سے بڑی بھی کوئی جنت ہو سکتی ہے جب کسی شخص پر خاص لمحات میں وہ سکینت نازل ہوتی ہے جب اس پر کائنات کے دریچے کشادہ ہوتے ہیں اور انسان اپنے رب کے قرب کی حالت میں ابدیت کے اسرار سے ہمکنار ہوتا ہے؟ پوچھو اس شخص سے، وہ تمہیں بتائے گا کہ جنت کیا ہوتی ہے۔ ( 26 ) کائنات ایک وجود واحد ہے۔

یہاں ہر کوئی اپنے واقعات کے غیر مرئی دھاگوں سے ایک دوسرے کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ ہم سب جانے انجانے میں ایک خاموش مکالمے کا حصہ ہیں۔ کسی کو دکھ نہ دو، نرمی اور شفقت کا برتاؤ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی مت کرو خواہ بے ضرر سا جملہ ہی کیوں نہ ہو۔ الفاظ جو ایک بار ہماری زبانوں سے نکل جائیں، وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ لامحدود وسعت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں اور اپنے مقرر وقت میں واپس ہم تک آن پہنچتے ہیں۔

بالآخر، کسی بھی آدمی کی تکلیف، ہم سب کو ایک اجتماعی دکھ میں مبتلا کر جائے گی، کسی بھی آدمی کی خوشی ہم سب کے ہونٹوں پر مسکان کا باعث بنے گی۔ ( 27 ) یہ دنیا اس برفانی پہاڑ کی طرح ہے جہان بلند کی گئی ہر آواز، بازگشت بنکر واپس پلٹتی ہے۔ جب بھی تم کوئی اچھی یا بری بات کرو گے، تم تک واپس پلٹ کر ضرور آئے گی۔ چنانچہ اب اگر تم کسی ایسے شخص کے لئے برے کلمات منہ سے نکالو، جو ہر وقت تمہارا برا سوچتا رہتا ہے، تو یہ اس معاملے کو اور بھی گمبھیر بنا دے گا، تم منفی قوتوں کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں گھومتے رہو گے۔

بجائے اس کے کہ تم دوسروں کے لئے کچھ برا کہو، چالیس دن تک اس کے لئے اچھا سوچو، اچھی بات منہ سے نکالو، تم دیکھنا کہ چالیس دن بعد ہر شے مختلف محسوس ہوگی کیونکہ تم پہلے جیسے نہیں رہے، اندر سے تبدیل ہو گئے۔ ( 28 ) ماضی ایک تعبیر ہے ایک نقطہ نظر ہے، جبکہ مستقبل مایا (Illusion) ہے، سراب ہے۔ دنیا خط مستقیم کی شکل وقت کے دھارے سے نہیں گزرتی جو ماضی سے مستقبل کی طرف جا رہا ہو، بلکہ وقت ہمارے اندر سے بتدریج پھیلتے ہوئی لامتناہی قوسوں (Spirals) کی صورت میں گزرتا ہے۔

ابدیت لامحدود وقت کو نہیں بلکہ وقت سے ماورا ہونے کا نام ہے۔ اگر تم ابدی روشنی کے حامل ہونا چاہتے ہو تو ماضی اور مستقبل کو اپنے ذہن سے نکال دو اور فقط لمحہ موجود میں باقی رہو۔ یہ لمحہ موجود ہی سب کچھ تھا اور سب کچھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ( 29 ) تقدیر کا یہ مطلب نہیں کہ تمہاری زندگی کو مکمل طور پر باندھ کر رکھ دیا گیا۔ ہر بات کو مقدر پر چھوڑ دینا اور کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوئی کوشش نہ کرنا، محض جہالت کی علامت ہے۔ کائناتی موسیقی ہر طرف سے پھوٹ رہی ہے، اس کے چالیس مختلف درجات ہیں۔ تمہارا مقدر وہ درجہ ہے جس پر تم اپنا ساز بجا رہے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ساز تبدیل نہ کیا جا سکے لیکن اس ساز سے جو نغمہ اور جو دھن تم نکالتے ہو اس کا انحصار صرف اور صرف تم پر ہے۔

Facebook Comments HS