عقیلہ منصور جدون کے تراجم: خدا کے نام خط
ترجمہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس کی حیثیت مسلم ہے اور اس کے بغیر دوسری زبانوں کے علوم و فنون سے آشنائی نہیں ہو سکتی اور اس کے بغیر کوئی بھی زبان جدید اور ترقی پذیر ہونے کا دعوی بھی نہیں کر سکتی۔ ترجمہ ہی وہ فن ہے جس کے ذریعے سے ایک قوم دوسری قوم کے ذخیرۂ علم و ادب سے آشنا ہوتی رہی ہے۔
ادب کسی ایک خاص قوم کی میراث نہیں ہے۔ ہر زبان میں تخلیقیت کے مظاہر سامنے آتے رہتے ہیں اور ترجمہ ہی کے ذریعہ انھیں دوسری قوموں تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح ادب اور اس کے لوازمات پھیلتے رہتے ہیں۔ اور جب بات اردو زبان کی ہو تو چاہے کسی کلاسیکی افسانے کا ترجمہ ہو یا جدید نظم کا ، اردو کے مزاج کو دیکھتے ہوئے سادگی زیب نہیں دیتی، کچھ ادبی چاشنی بھی اس ترجمہ میں شامل ہونی چاہیے، جس سے اردو زبان کا قاری نہ صرف بخوبی واقف بلکہ کسی حد تک اس کا عادی بھی ہے۔ عقیلہ منصور جدون اس میں نہ صرف کامیاب رہی ہیں بلکہ انہوں نے ان افسانوں کے ترجمے میں ایک لفظ کی جگہ دوسرا لقظ نہیں رکھا بلکہ ایک تہذیبی معنویت کو دوسری تہذیبی معنویت میں ڈھالا ہے۔
ایک زبان کے تخلیقی ادب کو دوسری زبان میں منتقل کرنا، بڑا دشوار اور نازک کام ہوتا ہے۔ کیوں کہ ادبی الفاظ، تلمیحات ، تشبیہات، استعارے، کنائے، مثالیں، علامتیں، تراکیب اور محاورے ہر زبان میں اپنی جدا جدا شان رکھتے ہیں اور ان کے علمی اور لفظی ترجمے سے زیادہ ان کے مفہوم اور معنی کی ترجمانی اہم ہوتی ہے۔ ترجمہ نگاری میں تاثیر کا ابلاغ اور ترسیل ہی سب سے اہم ہوتا ہے اور عقیلہ منصور نے اسے مجروح نہیں ہونے دیا۔
مترجم نے ثقافتی اقدار کی ترسیل کے لیے اس بات کا التزام کیا ہے کہ ترجمے پر قاری کے یقین کو بڑھانے اور قائم رکھنے کے لیے ادبی محاسن کا زیادہ سے زیادہ سہارا لیا ہے اور قاری کو دوسری ثقافت سے روشناس بھی کرایا ہے۔
یہ تاثر عام ہے کہ ترجمہ نگار ترجمہ کرتے ہوئے اپنی ذات اور خیالات کو الگ نہیں رکھ سکتا اور دو زبانوں کے بیچ مترجم کی اپنی ذات بھی اپنا اظہار کرتی ہے اور یوں مترجم خود ایک رکاوٹ بن کے کھڑا ہو جاتا ہے تاہم مجھے تراجم کے اس مجموعے میں ایسا کچھ نہیں ملا بلکہ عقیلہ نے اپنی صلاحیت، رجحانات، ماحول اور تہذیبی پس منظر کو ترجمے میں غیر ضروری طور پر در آنے سے روکا ہے۔
عقیلہ منصور جدون نے مختلف ممالک کے افسانہ نگاروں کی تخلیقات کا ترجمہ کر کے قاری پر وہ دریچہ وا کر دیا ہے جس سے وہ ان ملکوں کی ثقافت، تہذیب و تمدن اور ادب سے آشنا ہو سکتا ہے۔
حساس تخلیق کار عالمی ادبیات سے اپنی نگاہ نہیں بچا پاتا سو اس کتاب ” خدا کے نام خط” میں قاری کو گیارہ افسانہ و ناول نگاروں کے اٹھارہ افسانے پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں عالمی شہرت یافتہ روسی افسانہ نگار ”چیخوف” کے پانچ اور فرانس کے ”موپاساں” کے تین شاہ کار افسانوں کے علاوہ اسپین، اٹلی، چلی، برطانیہ، میکسیکو، چین اور ارجنٹائن کے افسانہ نگاروں کے کل 16 افسانے اور ”کافکا” کے ناول ”دا ٹرائل” کا تلخیص شدہ ترجمہ شامل ہے۔
کتاب کا عنوان ”خدا کے نام خط” دراصل مجموعے میں شامل ”گریگورو یولو” کے ایک اہم اور مشہور افسانے کا عنوان ہے۔
کتاب سٹی بک پوائنٹ کراچی سے دستیاب ہے۔


