چین نے پاکستان کو ”ڈیفالٹ“ نہیں ہونے دیا؟ پارٹ 1۔


پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا آغاز 21 مئی 1951 ء کو ہوا ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جس نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا پاکستان اور چین کی دوستی کو 72 سال ہو گئے ہیں۔ یہ دوستی ایک ”تناور اور سایہ دار“ درخت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی ”شہد سے زیادہ میٹھی، ہمالیہ سے زیادہ بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔“ اس حقیقت نے کہاوت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ میدان جنگ ہو یا معاشی بد حالی اقوام متحدہ ہو یا کوئی بین الاقوامی فورم ہر جگہ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔

پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار ”ڈیفالٹ“ ہونے والا تھا تو یہ چین ہی تھا جس نے بروقت پاکستان کو کم و بیش ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا ڈپازٹ فراہم کر کے نہ صرف پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا بلکہ آئی ایم ایف جو معاہدہ کرنے کی آڑ میں ”جیو پولیٹیکل“ کر رہا تھا۔ کو پاکستان سے ”سٹینڈ بائی“ معاہدہ کرنے مجبور کر دیا یہی وجہ ہے وزیر اعظم شہباز شریف بار بار چین کا شکریہ ادا کر رہے ہیں جس کی جانب سے بروقت فنڈز کی فراہمی نے پاکستان کو سری لنکا بننے سے بچا لیا دنیا بھر میں ممالک کے درمیان دوستی و تعلقات باہمی مفادات پر ہوتی ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان دوستی جہاں باہمی مفادات پر ہے۔ وہاں چین نے کسی بھی پلیٹ فارم پر پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑا چین نے جہاں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں دفاعی لحاظ سے مضبوط بنایا وہاں اسے معاشی مشکلات سے نکالنے میں بھی مدد کی ہے۔ پاکستان میں ایک لابی چین سے دوستی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اسے دوسری ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کہتی ہے لیکن وہ یہ حقیقت فراموش کر دیتی ہے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں اپنا ناپاک قدم رکھا تھا۔

اس وقت برصغیر کے پاس دنیا کی 29 فیصد دولت تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس دولت کی لوٹ مار اور بعد ازاں اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے لئے آئی تھی جب کہ پاکستان کی دولت دنیا کی دولت کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے۔ چین اپنے ازلی دشمن بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کو اپنے اس سیاسی فلسفہ کے تحت اپ لفٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ پڑوسی ممالک میں غربت کے منفی اثرات اس کی اپنی معیشت کی بھی پڑ سکتے ہیں۔

چین کا کمال یہ ہے۔ اس نے پاکستان کو نئے فنڈز دیے بغیر ہی ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا چین نے پاکستان کے پاس 5 ارب ڈالر سے زائد ڈپازٹ ”رول اوور“ کر دیے 30 جون 2023 ء کو چین کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جانی تھی جو پاکستان نے مئی 2023 ء کو چین کو دے دی جس پر چین نے پاکستان کو جرمانہ معاف کر کے اس کے اکاؤنٹ میں دوبارہ 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کروا دیے اب پاکستان کو مزید 60 کروڑ ڈالر دے دیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر بیرونی فنانسنگ کی جو شرط عائد کی تھی۔ وہ چین نے پوری کر دی جس کے بعد آئی ایم ایف فنڈز کی فراہمی میں مزید لیت و لعل سے کام نہ لے سکا جب کہ چین کے مقابلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کی شرط برقرار کھی ان دونوں ملکوں نے اسی وقت ہی پاکستان کو مجموعی طور پر علی الترتیب 2 اور ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹ دیے جب پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا چین کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی پوزیشن مستحکم ہو گئی لہذا پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے بچانے میں چین کا کلیدی کردار ہے۔

چین نے 2013 ء میں 32 ارب ڈالر کی لاگت سے پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کی جو اب 50 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ پاک چین اقتصادی راہدری پر اتنی بھاری سرمایہ کاری کے بعد چین کے پاکستان میں معاشی مفادات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ لہذا پاکستان کی معاشی حالت جس قدر بھی خراب ہو چین پاکستان کو کبھی ڈیفالٹ نہیں ہونے دے گا کیونکہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے سے چین معاشی مفادات کو تباہ نہیں ہونے دے گا گو کہ سی پیک کی تکمیل میں کچھ عرصہ لگے گا۔

چین نے پاکستان میں صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے اقتصادی زون قائم کرنے اور برآمدات بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن بوجوہ اس منصوبہ پر عمل نہ ہو سکا چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران 10 جولائی 2020 ء پاکستان میں اقتصادی زون کا سنگ بنیاد رکھنا تھا۔ ان کے ہمراہ 500 سرمایہ داروں و صنعت کاروں نے بھی پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ 27 مارچ 2020 ء لاک ڈاؤن کی وجہ سی پیک کو آگے بڑھانے کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئیں اگرچہ ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے اقدامات گئے پاکستان نواز شریف دور میں بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہو گیا تھا بلکہ وافر مقدار میں بجلی کی پیداوار حکومت کے لئے مسئلہ بن گئی تھی۔

اقتصادی زون قائم ہونے سے کارخانے نہ لگ سکے اسی طرح سی پیک کی تیز رفتاری تکمیل کے لئے روڈ انفرا سٹرکچر بھی مکمل نہ ہو سکا پشاور سے کراچی تک موٹر وے تعمیر ہو گئی ہے لیکن اس میں بھی سکھر تا حیدر آباد جی ٹی روڈ ہے۔ اس حصے میں موٹر وے کی تعمیر ہونا باقی ہے۔ اسی طرح مغربی اور مشرقی روٹ بھی مکمل نہیں ہوا ان روٹس پر مسنگ ایراز ہیں۔ جہاں عالمی معیار کی سڑکیں تعمیر ہونی ہیں۔ کووڈ کی وجہ سے چین اور پاکستان میں معاشی سرگرمیاں بڑی حد تک معطل ہو کر رہ گئی تھیں چین نے اپنے آپ کو کووڈ 19 نکال کر ایک بار پھر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا ہے۔

کووڈ 19 کے بعد چین اوپن ہوا تو بیرون ملک صنعتوں کے قیام پر دوبارہ توجہ شروع کر دی عمران حکومت نے چین کے ساتھ آن لائن معاہدے کرنے کی تجویز پیش کی لیکن چین نے اس سے اتفاق نہیں کیا چین صدر شی جن پھنگ کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کے ساتھ اقتصادی ترقی کا معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ معاہدہ کا بین الاقوامی سطح پر امپیکٹ چاہتا ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی آبادی (ایک ارب 40 کروڑ) کا ملک ہے۔ اس نے کووڈ 19 کے دوران ہونے والے مالی بحران پر قابو پا لیا ہے۔

اب وہ اکتوبر نومبر 2023 ء میں ہونے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت کی دعوت پر ہی دورہ پاکستان کے دوران اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ قبل ازیں سی پیک منصوبہ چار نکات تک محدود تھا۔ اب اس میں زراعت اور سماجی ترقی کے شعبے شامل کر دیے گئے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں چین پاکستان کا دفاعی پارٹنر ہے لیکن سی پیک کے منصوبہ کے تحت چین نے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا پروگرام بھی بنایا ہے جو کچھ ممالک کی آنکھوں کھٹک رہا ہے۔ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری 50 ارب ڈالر کو پہنچ گئی ہے۔ لہذا چین جو اس وقت پاکستان کا اقتصادی پارٹنر ہے۔ اسے کبھی بھی ڈیفالٹ نہیں ہونے دے گا۔ (جاری ہے۔ ) ۔

Facebook Comments HS