تربیت اور تعلیمی ادارے


ہم میں اکثریت اس مغالطے میں ہیں کہ انسان تربیت، مکتب، مدرسہ اور عصری علوم کے مراکز سے حاصل کرتا ہے لیکن یہ بات سو فیصد درست نہیں۔ انسان کی تربیت کا پہلا مرکز ماں کی گود ہے۔ ماں کی گود کے بعد ارد گرد کا ماحول انسان کی نوک پلک اور اس کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ معاشرے کے تھپیڑے، لوگوں کے مثبت اور منفی رویے انسان کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے۔

اکثر والدین اپنے بچوں کو اس آس پر اچھے سکولوں اور مدرسوں میں داخل کرا دیتے ہیں کہ وہاں ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت بھی ہو، لیکن یہ خام خیالی سے آگے کچھ نہیں۔ بچہ اپنے اردگرد ماحول سے اثر لیتا ہے۔ اب یہ بھی ضروری نہیں ہم ماحول کو موردالزام ٹھہرائے کہ ماحول صحیح نہیں اس لیے بچہ بگڑ گیا۔ ماحول کا اثر بچے پر ہوتا ہے، لیکن یہاں سمجھنے کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے گھر میں تربیت کے لیے جو ماحول اپنے بچوں کے لئے مہیا کیا ہے، کیا وہ مناسب ہے؟

اگر ہم سمجھتے ہیں کہ جس ماحول میں ہمارے بچے پروان چڑھ رہے ہیں وہ ماحول ان بچوں کو ایک اچھے انسان کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کافی ہے تو یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

مشاہدے کی بات ہے کہ ایک تین جماعت پاس بندہ آپ سے اتنے ادب، احترام، محبت اور اپنائیت سے ملتا ہے کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ اس کی تربیت میں ان تین جماعتوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، دخل ہے تو معاشرے میں بھانت بھانت لوگوں سے میل جول کا ، کڑوی کسیلی باتیں سننے کا ، مثبت اور منفی رویوں کا ، تب جا کے یہ تین جماعت پاس شخص کندن بن گیا ہو گا۔

دوسری طرف میری اور میرے جیسے اور لوگ جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کسی کا سامنا نہیں کر پاتے یا دو لفظ منہ سے نہیں نکال سکتے تو ایسی تعلیم اور اسناد کا حاصل کیا؟ مطلب اس کا یہ ہے کہ ہم نے کسی کا مثبت اور منفی رویہ جانچنے کی کوشش ہی نہیں کی، کبھی برداشت کا عملی مظاہرہ نہیں کیا، بدلتے صورت حال میں ایک فیصلہ کرنے کی جسارت نہیں کرتے، کیوں؟ کیونکہ ہمیں معاشرے کے بے رحم موجوں کا سامنا کرنا نہیں سکھایا گیا۔ اور یہ سبق ہم کسی بھی اعلٰی یونیورسٹی سے حاصل نہیں کرتے بلکہ یہ ہمیں ہمارا ماحول ہی سکھاتا ہے۔

Facebook Comments HS