آہ! قیصر بھی مجھے چھوڑ گیا


درد اور میرا بہت گہرا اور پرانا رشتہ ہے، یہ مجھے اپنا اثر دینا نہیں بھولتا اور میں اس کی تاثیر سے نا آشنا نہیں ہوتا، اب تو اس سے رشتہ اتنا قدیم اور مضبوط ہو گیا ہے کہ یوں لگتا ہے ہمارا دونوں کا وجود ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں، یہ مجھے درد دے کر اپنا فرض سمجھتا ہے اور میں اسے برداشت کر کے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہوں۔ ہاں اس درد نے اتنا توڑ دیا ہے کہ اب مزید ٹوٹنے کا غم نہیں رہتا ہے۔ اب درد نہ ملے تو جیون ادھورا سا لگتا ہے۔ شاید یہ درد میرے اندر کی تنہائی، اداسی اور ادھورا پن کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

12 جولائی کو اپنا دانت نکلوا کر آیا تو درد کی وجہ سے فون بند کر کے دوائی کھا کر سونے کی کوشش کرتا رہا، رات دیر سے سویا، مگر نیند پوری نہ ہوئی، دوپہر میں اٹھا تو فون آن کیا کہ گاؤں میں اماں سے بات کر سکوں، واٹس پر بدین سے اپنے دوست پولوس کے کئی وائس میسج دیکھئے تو فوراً دل کو کچھ ہوا، پولوس نے کئی مرتبہ ایک ہی میسج کیا تھا کہ تمہارا نمبر بند ہے جب بھی آن کرو، مجھے فوراً کال کرو، میں نے جلدی سے فون کیا تو اس سے رابطہ نہ ہوا، میری بے چینی بڑھ گئی۔

تھوڑی دیر بعد پولوس سے بات ہوئی تو اس نے پوچھا فون کیوں بند کیا تھا، میں نے اپنی صحت کا بتایا تو کہنے لگا چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھو اور میرے وائس میسج سن لینا۔ میں نے کہا کہ سارے میسج سن لیے ہیں۔ اس نے کہا دوبارہ سنو اور سب سے پہلے والا سنو۔ یہ میسج نہیں قیامت تھی، پولوس نے بتایا کہ ہمارا دوست قیصر اسحاق اس دنیا سے رحلت کر گیا ہے۔ ایک لمحے کے لئے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور ہاتھ سے فون گر گیا۔

مجھے قیصر کی بیماری کا علم تھا بلکہ کئی دن پہلے پولوس اس سے ملنے گیا تو مجھے بتانے لگا کہ قیصر کے منہ کا کینسر آخری مراحل پر ہے، اب جب میں پولوس کو کال کرتا یا پولوس مجھے، پہلا خدشہ یہ ہوتا کہ قیصر کی کوئی خبر ہے۔ ہم ذہنی طور پر تیار تو تھے مگر دل کہاں مانتا ہے۔ دو دن سے اپنی تکلیف اور درد سے نڈھال تھا کہ قیصر کی موت نے جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی توڑ کر رکھ دیا۔ 13 جولائی کو صبح اس کا انتقال ہوا تو دوپہر میں جنازہ ہو گیا، مجھے تو خبر ہی آدھی دوپہر کو ملی۔ پھر آنکھوں سے آنسو کا سلسلہ شروع ہوا اور دل و ذہن میں قیصر سے وابستہ یادوں کو سلسلہ!

قیصر سے پہلی ملاقات اگست 2010 میں ملتان پاسٹرل انسی ٹیوٹ میں ایک سالہ ٹیچر ٹریننگ کورس کے دوران ہوسٹل میں ہوئی۔ قیصر کا قد چھوٹا لیکن خواب بڑے تھے۔ میں کراچی سے اپنے ادارے کی جانب سے یہ ڈپلومہ کرنے گیا تھا اور وہ بدین سے اپنے پیرش پریسٹ کی فنڈنگ پر ، میرا شاید شوق تھا لیکن اس کی مجبوری، کیونکہ وہ یہ ڈپلومہ کر کے کسی سکول میں نوکری حاصل کر کے اپنا مستقبل بہتر بنانا چاہتا تھا تاکہ معاشرے میں عزت سے زندگی بسر کر سکے۔

قیصر نے بدین سے ایف ایس سی کیا ہوا تھا لیکن وہ پڑھائی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ لوگ اور اس کا ماحول تھا۔ قیصر میں ایک قدرتی کشش تھی کہ وہ اجنبی لوگوں کا بہت جلد دوست بن جاتا تھا، اور دوسروں کی توجہ حاصل کر لیتا تھا۔ اس لئے وہ لوگوں کی محفل میں قہقہوں کی رونق اور وجہ بن جاتا تھا۔ لوگ اس کے چھوٹے قد کا مذاق اڑاتے اور اس پر ہنستے تھے، اس کے اولٹے سیدھے نام رکھتے تھے، جس سے قیصر بھی لطف اندوز ہوتا تھا۔

اس میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہوتے تھے۔ لوگ اس کے قد کی تذلیل اور حقارت کرتے تھے جو میرے لئے ایک تکلیف دہ عمل ہوتا تھا۔ میں قیصر سے ناراض ہوتا تھا کہ جب لوگ تمہارا مذاق اڑاتے ہیں تو تم کیوں ان کے پاس جاتے ہو، وہ مسکرا کر کہتا کہ کوئی بات نہیں کوئی میرا مذاق اڑ کر خوش ہو جاتا ہے، میں اس سے خوش ہوں۔ اوپر والے نے مجھے بنایا ہی ایسا ہے، اس میں میرا اور لوگوں کا کیا قصور ہے۔ قیصر لوگوں کو اپنے خوب بتا تا تو لوگ اس کا تمسخر اڑاتے، وہ بھی آگے سے ہنس دیتا تھا۔

ایک سال کے اس ڈپلومے میں ہم چار لڑکے اور 16 لڑکیاں تھیں، ایک لڑکا جلد چھوڑ کر چلا گیا، پولوس ہمارے ساتھ چند ماہ رہا اور پھر واپس آ گیا، قیصر اور میں نے یہ کو رس مکمل کیا۔ قیصر پڑھائی میں کمزور تھا میں نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح وہ پاس ہو جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا، اس کے ساتھ ظلم یہ ہوا کہ وہ کورس مکمل کرنے کا سرٹیفیکیٹ تو لے سکا مگر ڈپلومہ نہ حاصل کر سکا جو اس کی نوکری کے لئے لازم تھا۔ یہ قیصر کے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔

قیصر کا ٹیچر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا، اور وہ روزگار کی تلاش میں مختلف کام کرنے لگ گیا۔ میں واپس کراچی آ گیا اور قیصر بدین اپنی زندگی میں مگن ہو گیا۔ ہم آپ میں رابطے میں رہے وہ میرے پاس کراچی بھی آیا اور میں جولائی 2015 میں بدین اسے کے گھر گیا جہاں اس نے اور ان کے خاندان اور پولوس نے مجھے بے پناہ عزت دی اور مہمان نوازی کی۔ قیصر پنجابی تھا لیکن کمال کی سندھی بولتا تھا، کئی لوگ اس کی سند ہی کی وجہ سے اس دلدادہ تھے۔ ہماری دوستی کافی مشہور ہو چکی تھی، وہ کراچی میں میرے پاس گھر آیا تو ہمارے خاندان میں سب میں مقبول ہو گیا میں اسے اپنے ساتھ آفس لے کر جاتا تو وہاں بھی سب کے ساتھ گھل مل جاتا تھا۔

کئی لوگوں کو میرا قیصر کو عزت دینا اور اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں تھا، لیکن مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا بلکہ میں نے اسے یہ احساس بھی نہ ہونے دیتا تھا۔ غالباً 2016 میں قیصر روزگار کے سلسلے میں لاہور اپنی نانی کے پاس چلا گیا۔ 2017 میں میری شادی کی تاریخ مقرر ہوئی تو وہ اپنے وعدے کے مطابق لاہور سے کراچی کئی دن پہلے آیا کہ وہ گھر کے سارے کام اور انتظامات خود کرے گا۔ اس نے رنگ و روغن بھی خود کیا اور کئی کام بھی۔

وہ میرے سے زیادہ میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ رہنے لگا، ان دونوں نے کوئی عجیب حرکت کی جس پر میں نے قیصر کو ڈانٹا تو وہ ناراض ہو گیا اور کہنا لگا کہ تم نے میری میرے دوست یعنی میرے چھوٹے بھائی کے سامنے میری توہین کی ہے، میں نے قیصر کو سمجھایا کہ ایسا کچھ نہیں لیکن وہ نہ مانا، غلطی میرے بھائی کی تھی جس نے قیصر کو شرارت میں اسے ملوث کیا تھا۔ میری امی نے قیصر کو بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانا اور شادی سے دو دن پہلے ناراض ہو کر واپس لاہور چلا گیا۔

خیر میں 2017 میں لاہور 10 دن کا ٹریننگ کورسز کرنے گیا تو قیصر نے مجھے ہو ٹل کی بجائے اپنے گھر میں رہنے کے لئے کہا، میں 10 دن لاہور میں رات کو ٹریننگ کے بعد اس کے گھر جاتا جہاں اس کی نانی میری بے حد خدمت کرتی کہ میں قیصر کا دوست ہوں، قیصر بھی مجھے اپنے محلے میں بڑے فخریہ انداز میں متعارف کرواتا تھا۔ قیصر کو ٹی وی میں کام کرنے کا بہت شوق تھا وہ مجھے اکثر کہتا کہ مجھے بھی ٹی وی میں ایک دفعہ لے کر چلو۔

قیصر جہاں میری کئی عادتوں سے خوش تھا وہیں اسے میرے بہت سی باتوں سے نفرت تھی۔ وہ بدین کے ماحول سے ہی گٹھے اور چالیہ کھانے کا عادی ہو چکا تھا، جس پر میں اسے منع کرتا تھا جو اس برا لگتا تھا۔ لیکن وہ اب عادی ہو چکا تھا اس کی مجبوری تھی لیکن میں بھی اپنی عادت سے مجبور تھا۔ وقت گزارتا گیا میں نے ہر ممکن اندازہ کوشش کی کہ قیصر کی کچھ مدد کر سکوں۔ قیصر کی شادی اس کی نانی نے لاہور میں ہی کروائی اور اس کے دو بچے ہوئے۔

غالباً یہ 2020 میں کورونا کے دنوں کی بات ہے جب اکتوبر میں میری بیٹی پیدا ہوئی۔ مجھے ابھی کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ میں نے اپنا اسٹوڈیو بنا یا تھا، گھر والوں سے الگ ہو گیا، ایک کاروبار میں اچھا خاصہ نقصان ہوا تھا، میں پہلی مرتبہ زندگی کی الجھنوں میں اجالا تھا کہ قیصر نے مجھے کوئی کام کہا جس پر میں نے صاف انکار کیا جو میں پہلے نہیں کرتا تھا، قیصر نے کوئی ایسی بات کہی جو مجھے سخت ناگوار گزری، سوچتا ہوں، شاید کوئی دوسرا کرتا تو میں برداشت کر لیتا لیکن قیصر کو ایسا نہیں کہنا چاہیے کیونکہ وہ میری فطرت اور سوچ سے اچھی طرح واقف تھا اور ہماری دس سالہ دوستی تھی۔

خیر یہ پہلی مرتبہ ہماری دوستی میں سرد مہری آئی۔ اس کی بعد میں لاہور میں ایک دو مرتبہ اس سے ملا۔ فون پر رابطہ رہا لیکن پہلے جیسی گرمجوشی نہ رہی، میں اپنی زندگی کی مشکلات میں دھنس گیا اور قیصر منہ کے کینسر میں، اس دوران قیصر کی والدہ کا اچانک انتقال ہو جو اس کے لئے شدید صدمہ تھا، پھر قیصر ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہا کبھی لاہور اور کبھی اسلام آباد، میں اکثر لاہور ہوتا تو وہ اسلام آباد ہوتا ہے، آخری دفعہ چند ماہ قبل فون پر بات ہوئی تو کہنا لگا کہ ایاز مجھے کچھ ہو گا تو نہیں، میں نے کہا تمہیں کچھ نہیں ہو گا، پھر وقت اور کینسر کی رفتار تیز ہو گئی تو ایک دن پتہ چلا کہ قیصر اب بات بھی نہیں کر پاتا اور وہ بدین میں آ گیا ہے، میرا دوست پولوس اس کے گھر اس کا پتہ کرنے گیا اور مجھے وٹس ایپ پر تصویر بھیجی جو مجھ سے دیکھی نہ گئی۔

پولوس نے کہا کہ قیصر کا پتہ کرنے نہیں آؤ گے کہ میں نے کہا مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اسے اس حالت میں دیکھ سکوں۔ 13 جولائی کو اس کی موت کی خبر ملی تو میری بدقسمتی دیکھو میں اس کی قبر پر مٹی بھی نہ ڈال سکا۔ میرا وہ دوست جو مجھے استاد مانتا تھا جو مجھے کہتا تھا کہ ایک دن تم آکسفورڈ یونیورسٹی جاؤ گے۔ وہ اتنی کم عمر میں چلا گیا۔

یہ زندگی کی بے وفائی کہوں تا ہاتھ سے کمائی گئی موت، جو بھی ہے مجھے تو جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، سوچتا ہوں اس کی بیوی اور بچوں پر کیا گزرے گی، ان سے میں کس منہ سے ملوں گا، اس قیصر کو جس کو مجھے سے بے شمار امیدیں تھیں، جو میری کامیابی کا خواہش مند تھا کہ میں اس کی مدد کر سکوں گا، یہ درد، یہ جدائی کیسے الفاظ میں بیان کروں، کس سے کروں، میرے درد کی انتہا اور شدت کون سمجھے! قیصر زندگی کے میلے سے یوں اداس کر کے چلا جائے گا، یہ سوچا نہیں تھا، اس کرب میں رات بھر سوچ سوچ کر تنہا رو رہا ہوں۔

کاش لفظوں میں چھپیے درد کی شدت اور گہرائی کی پیمائش کا کوئی پیمانہ اور آلہ ہوتا، تو آنسو بہانے، خون کے قطروں سے قلم کی سیاہی بنا کر لکھ پاتا تاکہ لوگ میرے درد کی شدت کو کسی حد محسوس کر پاتے۔ قیصر کے ساتھ زندگی کی کئی خوشیاں، غم اور راز شیئر کیے تھے جو وہ اپنے سینے میں لئے مٹی کے نیچے دفن ہو گیا، لیکن وہ میرے دل اور یادوں سے کبھی جدا نہ ہو پائے گا۔

Facebook Comments HS