راجہ گدھ جونیئر

راجہ گدھ جونیئر کو بچپن سے ہی چڑیاں مارنے کا شوق تھا، اس نے غلیل سے بے شمار چڑیاں ماریں تھیں۔ جب وہ بڑا ہوا اور شہر میں موبائل کمپنیوں کے بے شمار ٹاورز لگے تو ننھی چڑیائیں ناپید ہونے لگیں۔ جب چڑیائیں شکار کو نہ ملیں تو اس نے شکار کا شوق چھوڑ کر کچھ بڑا کرنے کا سوچا۔
اسے بچپن سے ہی راجاؤں کی کہانیاں پسند تھیں، خاص کر وہ کہانیاں جس میں راجہ کے مرنے پر وزرا اور درباری وصیت کے مطابق محل سے باہر نکلتے ہی سامنے آنے والے پہلے شخص کو راجہ بنانے کے پابند تھے۔ ان کہانیوں نے راجہ گدھ جونیئر کے دل میں راجہ بننے کا خواب بیدار کر دیا تھا، مگر وہ جس دور میں جی رہا تھا تب تک راجاؤں مہا راجاؤں کا دور ختم اور جمہوری نظام رائج ہو چکا تھا۔
وہ جان چکا تھا کہ راجہ نہیں بنا جا سکتا لیکن اس نے منتخب ایوانوں کی راہداریوں تک پہنچنے کے گر سیکھ لئے اور ایک دن وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ سیاسی چالبازیوں کی بدولت آگے بڑھتا رہا اور پارٹیاں بدل بدل کر ترقی کی سیڑھی پر چڑھتا رہا۔
پھر ایک دن ایسا آیا راجہ گدھ جونیئر کی محنت رنگ لے آئی، اسے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک قوتوں تک رسائی مل گئی اور انہی کے آشیرواد سے وہ صوبے کا گورنر بن گیا۔
گورنر بنتے ہی اس نے سابق گورنرز کی بارے میں معلومات لیں اور اپنے ذہن میں سرگرم اور میڈیا میں ان رہنے کا خاکہ بنالیا۔ گورنر بننے کے بعد راجہ بننے کا پرانا خواب ایک بار پھر سے جاگ اٹھا تھا۔ اس کے شاطر دماغ نے اس کا توڑ نکال لیا اور مسائل سے گھرے عوام کا مسیحا بن گیا۔
راجہ گدھ جونیئر کو امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ بہت پسند ہے جس میں وہ بھیس بدل کر رات میں عوام کے مسائل حل کرتے ہیں اور مجرموں کو سزائیں دیتے ہیں۔ اب گورنر بھیس بدل کر اکیلے سڑکوں پر نکل سکتا تھا اور نا ہی مجرموں کو سزائیں دے سکتا تھا۔
راجہ گدھ جونیئر نے اس کا بھی توڑ نکال لیا اور پرانے زمانے میں راجاؤں مہا راجاؤں کے محلوں کے باہر لگا گھنٹہ گورنر ہاؤس کے باہر نصب کروا دیا۔
گھنٹہ لگانے کا مقصد تھا کہ رعایا ان کے دربار میں مسائل لے کر آئے گی اور وہ انہیں حل کریں گے۔
یہاں ایک دقت تھی، پرانے زمانے میں راجہ یا مہاراجہ ہمہ وقت دستیاب ہوتے تھے، ادھر گھنٹہ بجتا ادھر دربار لگ جاتا۔ یہاں گورنر ہر وقت گھنٹہ بجنے پر دربار نہیں لگا سکتا تھا، اس لئے دن بھر بنیادی مسائل سے پریشان خلق خدا کے لئے رات بارہ بجے سے صبح آٹھ بجے کا وقت مقرر کیا گیا تاکہ آرام میں خلل نہ پڑے، معمولات بھی متاثر نہ ہوں اور راجہ بننے کا سپنا بھی پورا ہو جائے۔
ادھر سارا دن اپنے مسائل سے پریشان رہنے والے لوگ راتیں بھی جاگنے پر مجبور ہو گئے۔ روزانہ رات کو بارہ سے صبح آٹھ بجے تک گورنر ہاؤس کے باہر خواتین، بزرگوں، جوانوں اور بچوں کا جمع غفیر ہوجاتا۔ نہ صرف رات بلکہ کبھی کبھی تو دن میں بھی رش لگا رہتا اور کئی بار تو سڑک کو بھی بند کرنا پڑ جاتا۔ اور یوں پریشان عوام کے لئے ایک اور پریشانی بڑھا دی جاتی۔
شروع میں تو راجہ گدھ جونیئر عوام کے مسائل میں دلچسپی لیتے رہے مگر رفتہ رفتہ بیزاری ہونے لگی، پھر افسران کو تعینات کر دیا۔ کچھ دن تو معاملات ٹھیک چلے مگر جمع غفیر اور پھر بے تحاشا مسائل جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، افسران کے نوٹس لینے کے باوجود تدارک نہیں ہو رہا تھا، اگلے شب سائلین پھر شکایتیں لے کر حاضر ہو جاتے۔ روز روز ایک جیسے مسائل سے افسران کو بھی تنگ ہونے لگے۔
افسران نے سائلین سے جان چھڑانے کے لئے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے تضحیک کرنی شروع کردی۔ جس سے سائلین دلبرداشتہ ہونے لگے اور انہوں نے گورنر ہاؤس آنا کم کر دیا۔ یہ تعداد کم ہوتی گئی اور پھر وہ دن آ گئے کہ کئی دن تک گھنٹہ نہیں بجتا۔
راجہ گدھ جونیئر نے سائلین کم آنے پر افسران سے پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ
” سرکار عوام کے مسائل کم ہو رہے ہیں، اس لئے اب رش نہیں رہتا۔“
رفتہ رفتہ سائلین نے آنا چھوڑا تو گھنٹہ بالکل ہی خاموش ہو گیا، کئی روز تک جب گھنٹہ نہ بجا تو راجہ گدھ جونیئر نے افسران کو ڈانٹ پلا دی۔
” گھنٹہ کیوں نہیں بج رہا، بہت دن گزر گئے ہیں، کیا وجہ ہے؟“
” سرکار عوام کو کوئی مسئلہ درپیش ہی نہیں ہے، آپ نے عوام کے سارے مسائل حل کر دئے ہیں، آپ کا اقبال بلند ہو، آپ کی حکومت سدا برقرار رہے۔“
یہ بات سن کر راجہ گدھ جونیئر مسکراتا ہوا اپنے حرم میں چلا گیا۔

