پی ٹی آئی، سیلاب اور خطرات


پی ٹی آئی حکومت نے، اکثر سابقہ حکومتوں کی مانند، موقع ملنے کے باوجود اپنی "بے داغ نااہلی” کے باعث گذشتہ برس بارشوں سے ہونے والے بے پناہ نقصانات پر قابو پانے کا موقع گنوا دیا تھا۔

2018 ء میں جب پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا تو ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان ہائیڈرو میٹرولوجیکل اینڈ کلائمیٹ سروسز پراجیکٹ کے تحت اٹھارہ کروڑ اٹھاسی لاکھ ڈالر (188 ملین ڈالر) کا رعایتی قرض منظور کیا گیا تھا اگر اس رقم کو دانش مندی سے استعمال کیا جاتا توااس معاملے میں ہونے والے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔  یہ غفلت اس تناظر میں مجرمانہ بن جاتی ہے کیونکہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے ۔ ایسے وقت کہ جب 2003 اور 2010 میں آنے والے سیلاب ملک میں بے پناہ تباہی کا سبب بن چکے تھے اس غفلت نے پاکستان کو ازحد نقصان پہنچایا۔

اگر بروقت اقدامات کر لیے جاتے تو 1700 انسانی جانیں اور 12 لاکھ مویشی باآسانی بچائے جا سکتے تھے (ورلڈ بینک کے اس منصوبے کے حوالے سے خاکہ اور منصوبہ بندی کم از کم 2018ء سے وفاقی وزارت ماحولیات کے پاس پڑی تھی)۔ ان سیلابوں نے مجموعی طور پر 33 ملین(3 کروڑ 30 لاکھ)پاکستانیوں کو براہِ راست متاثر کیا جن میں سے 9 ملین  یعنی 90 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا پڑے، 9.4 ملین یعنی 90 لاکھ 40 ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ زیر آب آ گیا۔20 لاکھ 20 ہزارگھروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے اور حکومت اور ورلڈ بینک کے تخمینوں کے مطابق 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا جو ملکی کرنسی میں کھربوں روپئے بنتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی طرف سے مہیا کیا جانے والا 188 ملین امریکی ڈالروں کے رعایتی قرض کا مقصد، جو 2023 ء تک پانچ سالہ مدت کے لیے تھا، سیلاب اور خشک سالی کی پیشگی اطلاع کے لیے مقامی ڈھانچے کی تعمیر اور جلد تنبیہ کر دینے والے ہائی ٹیک آلات کی فراہمی تھا، اوریقیناً اس قرضے کا استعمال نہ کیا جانا واضح غفلت کی نشانی ہے۔

ورلڈ بینک کے ایک ادارے آئی ڈی اے (انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن)، جو نہ ہونے کے مساوی سود پر مختلف منصوبوں کے لیے قرض مہیا کرتا ہے، مبینہ طور پر تنبیہ کی کہ وہ اس  منصوبے کے عدم نفاذ کی وجہ سے یہ قرضہ منسوخ کر دے گا۔

گزشتہ چار برس میں، دستیاب 188 ملین امریکی ڈالروں میں سے صرف 5،635،749 امریکی ڈالر استعمال کیے گئے ہیں، سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو اگست 2022 ء میں آنے والے تباہ کن سیلابوں سے پہلے  کے چار برسوں میں دستیاب رقم کا صرف 2 فیصد اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ورلڈ بینک کے جس قرضے کا مقصد تھا کہ سیلاب کے حوالے سے جلد تنبیہ کا نظام قائم کیا جائےا اور اس کی تباہ کاریوں سے بچاجائے اسے آخر کار گزشتہ برس ستمبر میں سیلاب متاثرین کی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت، براہِ راست امداد کے لیے مختص کر دیا گیا کہ اس کے ذریعے فطرت کے عتاب کے شکار اُن ہی لوگوں کو، جنہیں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانا مقصود تھا، ایک ماہ کے راشن کی شکل میں فوری ریلیف مہیا کیا جا سکے۔

پاکستان کے 33 ملین لوگوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے علاوہ مادی شکل میں ان سیلابوں نے پاکستان کو تیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

ورلڈ بینک نے پاکستان کو یہ خاطر خواہ قرضہ اچانک آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہ کاریاں روکنے کے لیے مجوزہ طور پر تین مختلف مدّات میں منظور کیا تھا۔

  • پاکستانی میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے لیے امداد اور اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے۔
  • موسمی جائزے کے مقامات، ڈیٹا مینجمنٹ اور موسمیاتی اعدادوشمار کے ذریعے بروقت پیش گوئی کرنے کے نظام اور ہائیڈرولوجیکل پیش بینی کے عمل میں بہتری پیدا کرنے کے لیے تکنیکی امداد مہیا کرنا۔
  • سیسمک جائزے اور سونامی کی تنبیہ کے نظام کے علاوہ اوشیونو گرافک مانیٹرنگ کے آلات مہیا کرنا۔

بنیادی طور پر اس منصوبے کا مقصد میٹریالوجیکل ڈیپارٹمنٹ(پی ایم ڈی) کی انسانی و تکنیکی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا تھا کہ وہ مختلف شعبوں کے حوالے سے درست، بروقت اور صارف دوست موسمیاتی پیش گوئی اور فیصلے کر سکے۔

یہ معاملہ ایسی ہنگامی نوعیت کا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب گٹرز نے آخری سی او پی کانگریس 27 کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں ٹیلی میٹری مقامات برائے جلد تنبیہ قائم کرنے کے لیے اگلے تین برس میں 3 ارب ڈالر جمع کرنے کا عزم کیا۔

اس سے بھی زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس مہینے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ایک سماعت کے دوران چئیرمین این ڈی ایم اے نے تنبیہ کی کہ اس بات کا 72٪ امکان ہے کہ آئٓندہ جون میں شروع ہونے والے مون سون کے موسم میں ملک میں ایک بار پھرگزشتہ برس جتنی تباہی پھیلانے والے سیلاب آ سکتے ہیں، تاہم بعد ازاں ایم ای ٹی کے محکمے نے اس دعوے کی تردید کی۔

دریں اثناء اس بارے میں بھی صورت حال واضح نہیں ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت نے اس محاذ سے نپٹنے کے لیے اپنے ایک برس کے دور میں کیا کاوشیں اور تیاریاں کی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے چئیرمین نے دعویٰ کیا کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے جلد تنبیہ کرنے والے 36 سٹیشن بنانے کے مرحلے میں ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی کہ کب تک یہ سٹیشن مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔

ورلڈ بینک کا حقیقی منصوبہ پانی کے راستوں/ دریاؤں پر جلد تنبیہ کرنے والے 90 سٹیشن 2022 تک قائم کرنے کا تھا۔

صورت حال کا المیہ یہ ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے لیے عالمی عطیہ دہندگان کی طرف سے 15 ارب ڈالر سے زیادہ امداد کے جو وعدے کیے تھے ان میں سے پاکستانی حکومت اور عطیہ دہندگان کی طرف سے جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 10 ماہ میں صرف 1.8 ارب امریکی ڈالر (صرف 8 فیصد) ہی جمع ہو سکے ہیں، ہونے والے نقصانات کا نصف،یاد رہے کہ ہونے والے نقصان کا نصف یعنی  15 بلین ڈالر جمع کرنے کے فخریہ وعدے کیے گئے تھے، لیکن ڈی جی این ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق ان میں سے بھی صرف 90 ارب روپیے )چالیس کروڑ امریکی ڈالر) ہی ملے ہیں یہ ایک بار پھر وعدہ کردہ رقم کا صرف 4 فیصد بنتے ہیں۔

سادہ حسابی زبان میں اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ گزشتہ برس سیلاب آنے کے دس ماہ بعد تک جوبھی نقصانات ہوئے تھے ان کا 80 فیصد حصہ براہِ راست سیلاب متاثرین نے برداشت کیا ہے۔

ذرا تصور کیجیے کہ پاکستان، جوتاریخی حوالے سے دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے وہ گزشتہ سیلاب سے اب تک، عالمی منڈیوں میں کپاس کی 45 لاکھ گانٹھوں سے، مالیت 2 ارب امریکی ڈالر کے مساوی، محروم ہو چکا ہے۔ چاول، کماد اور دیگر کھڑی فصلوں کے نقصانات تو اس سے کہیں زیادہ ہیں، سوال یہ ہے کہ ابھی تک 2010 کے سیلاب متاثرین کو کوئی ازالہ ہی مہیا نہیں کیا جا سکا تو حالیہ متاثرین کا کیا ذکر۔

برٹینکا ڈاٹ کوم پر موجود ایک رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ 2020 میں آنے والے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وعدہ کردہ 10 ارب امریکی ڈالر کی امداد میں سے صرف ایک ارب تیس کروڑ ڈالر (صرف 13٪) ہی ابھی تک عطیہ دہندگان کی جانب سے موصول ہو سکے ہیں۔

سامنے آنے والی رپورٹوں سے یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں فطرت کی جانب سے آنے والی کسی بھی آفت کے نتیجے میں ہونے والے انسانی و معاشی نقصانات کا 80٪ بوجھ پاکستانی عوام اٹھاتے ہیں اور 20٪ حصہ پاکستانی حکومت اور عالمی عطیہ دہندگان کے کندھوں پر پڑتا ہے۔

توکیا ہمارے پاس کوئی اور چارہ بھی ہے کہ ہم جو نقصانات برداشت کرتے ہیں ان کا نصف فیصد حصہ ہی، مثلاً وہ 188 ملین ڈالر جو ورلڈ بینک کی فنڈنگ اور دیگر امداد دہندگان کی جانب سے ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے امداد کی شکل میں مہیا کی جاتی ہے، خرچ کریں تاکہ بار بار ہونے والے نقصانات سے سو فیصد بچا جا سکے۔

یہ سب کچھ بھی جو ہمیں ملا ہے وہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی بہترین کاوشوں کا ثمر ہے۔ سبق بالکل واضح ہے کہ آنے والی ماحولیاتی آفات کا اندازہ پیشگی اور بروقت قائم کیا جائے۔ بروقت لگایا جانے والا ایک ٹانکا نو ٹانکوں سے بچا لیتا ہے، یہ ہمارے لیے قابل غور محاورہ ہے۔

"گلوبل لاس اینڈ ڈیمج فنڈ” کے حوالے سے مقامی اور عالمی میڈیا میں مچنے والے شور کے بعد بھی، ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سرگرم کچھ لوگ مثلاً وزارت ماحولیات کی وزیر شیری رحمان جیسے لوگ جو اگرچہ عالمی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت پر خوش ہوں گے تاہم انہیں اس امید کے حوالے سے مستقبل کو لازماً مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ سی پی 27 میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے گزشہ بیس برسوں میں ہونے والے عالمی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے دعویٰ کردہ 525 بلین امریکی ڈالروں میں سے صرف دس کروڑ چالیس لاکھ امریکی ڈالر ہی جمع ہو پائے ہیں۔ یہ ایک مذاق اور کوئی "ڈاؤن پیمنٹ” نہیں جیسا کہ شیر رحمان نے کہا تھا یہ تو ہمیں اس وقت درپیش مسائل کے حوالے سے "ٹوکن” بھی نہیں کہا جا سکتا۔

اس سے مجھے پنجابی کی ایک مشہور اکھان یاد آتی ہے: "جے پیٹ ناں پائیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں” اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ جب تک سیلاب اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی نہیں ہوتی سب کچھ صرف گپ بازی ہی رہے گا۔

پاکستان کے عوام نے گزشتہ بارہ برس کے عرصے میں دو تباہ کن سیلاب سہے ہیں اور یہ لازمی ہے کہ ہم کسے تیسرے الیمے کے رونما ہونے سے پہلے اس کے تدارک کا بندوبست کریں، بد قسمتی سے اس آفت کا آنا ناگزیر ہے اور یہ ہمیں لاعلمی میں آ لے گی۔

مترجم: ثقلین شوکت

یہ مضمون آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) کے ایوارڈ یافتہ مصنف نے لکھا ہے۔

Facebook Comments HS

عمران باجوہ

مصنف کو تحقیقی صحافت کے لیے اے پی این ایس کی جانب سے ایوارڈ مل چکا ہے۔

imran-bajwa-awon-ali has 17 posts and counting.See all posts by imran-bajwa-awon-ali