مائی لارڈ۔ اوف مائی گاڈ


جی وکیل صاحب! آپ نے انسانوں اور بھیڑ بکریوں میں کوئی فرق سمجھ رکھا ہے کہ نہیں؟ چند لاکھ ایڈوانس دے کر پورے پورے خاندان کو نوکر بنا لیتے ہیں یہاں جنگل کا قانون ہے کیا؟ ( آواز میں اس قدر بیزاری اور کرختگی جیسے وکیل بذات خود مجرم ہو) سر اصل میں میرا کلائنٹ ایک ”لے مین“ ہے آپ کو علم ہی ہو گا دیہات میں یہی رواج رائج ہیں اس کی نیت غلط نہیں تھی مزاروں نے رقم کے بدلے اپنی آزاد منشا سے مزارعہ بننا قبول کیا اور پھر رقم بٹور کر رپورٹ کروا دی۔

کیا بات کر رہے ہیں وکیل صاحب آئین قانون کی آپ کی نظر میں کوئی وقعت ہے کہ نہیں؟ Ignorance of law is not an excuse آپ جا سکتے ہیں۔ Bail dismissed۔

اکثر ایسے کئی مقالمے کمرہ عدالتوں میں بیٹھے سامعین کی سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔ رول آف لاء کے پرچاری کھوکھلے بھرم بنا لیتے ہیں کہ چلو شکر ہے اس آدم بیزار اور قوانین خوار معاشرے میں کوئی تو ہے جو ان کا محافظ ہے مگر یہ بھرم بننے والے ایک اور تلخ حقیقت یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ انصاف کے علم برار اس ادارے کا رول آف لاء انڈکس پر گزشتہ برس 140 میں سے 129 واں نمبر تھا اور قوی امید ہے رواں برس مزید تنزلی ہی ہوئی ہو گی

زمانہ صحافت میں نیوز روم میں کام کرتے ہوئے ایک تجربہ ہوا ایک جیسے کرائم اگر تواتر سے ہونے لگیں تو معاشرے پر سنگینی کا تاثر بھی کھو بیٹھتے ہیں بالکل جس طرح ایک جیسے الفاظ بار بار دہرانے سے ان کا اثر زائل ہو جاتا ہے ”شیر آ گیا، شیر آ گیا“ کی مانند ایسے میں ہم اس قدر سرد مہر ہو جاتے ہیں کہ بم دھماکوں کے بعد تبصرے کچھ یوں ہوتے ہیں چلو لیڈ تے سوپر لیڈ آ گئی باقی اخبار ویکھو۔ کمسن گھریلو ملازمین پر بہیمانہ تشدد کے واقعات بھی کوئی کل کا قصہ نہیں ہیں۔ ایسے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے اور وقت کے ساتھ بھڑکتی آگ کی طرح ٹھنڈے ہو گئے۔ مگر قانون کی طالب علم ہونے کے ناتے ایک تازہ واقعہ جھنجھوڑنے میں خاطر خواہ کامیاب رہا۔

خبر کچھ یوں ہے کہ اسلام آباد کے ایک سول جج صاحب کی بیگم صاحبہ نے کمسن گھریلو ملازمہ پر اس قدر بربریت ڈھائی کہ سن کر روح تک لرز اٹھی۔ اس دوران جج صاحب یقیناً کمرہ عدالت میں بیٹھے بھٹہ مزدوروں، مزاروں اور معاشرے کے دیگر پسے ہوئے طبقات کی ترجمانی کر رہے ہوں گے جب ان کی بیگم صاحبہ ان کے اپنے گھر میں موجود ایک کمسن ملازمہ کی ہڈیاں پیس رہی تھی۔ اس انصاف پہ کون مر نہ جائے اے خدا۔

آج سوچتے سوچتے ایک اور حقیقت بھی آشکار ہوئی۔ معاشرے میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جو اپنے وسائل دیکھ کر بچے پیدا کرتے ہیں ایک وہ جو وسائل بڑھانے کے لیے بچوں کی تعداد بڑھاتا رہتا ہے۔ ذرا ہوش سمبھالا تو کسی میڈم کے ہاں پھینک کر ماہانہ تنخواہیں گننا شروع کر دی جاتی ہیں۔ یہ جو اس کم نصیب بچی کے نام نہاد وارثان آج کیمرہ دیکھ کر سینہ کوبی کر رہے ہیں جج کے خلاف اب یک طرفہ رپورٹنگ کرنے والے صحافی ان سے پوچھیں جس عمر میں عام لوگ اپنے بچوں کو تنہا سکول تک بھیجنے سے گھبراتے ہیں یہ کسی کے ہاں ملازمت کے نام پر اپنے بچے سے دستبردار کیسے ہو جاتے ہیں؟

عدالت میں Contempt of court ایکٹ کے سائباں میں براجمان یہ ججز عوام کے ٹیکسوں پر خاطر خواہ مراعات تو لے رہے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ باقاعدہ ملازمین رکھنے کی بجائے قانون سے کھلتے ہوئے کھیلنے کودنے کی عمر کے بچے جی صاحب! جی صاحب! کرنے کے لیے ماہانہ اجرت پر اپنے ہاں گروی رکھ لیتے ہیں۔ دکھی دل سے پوچھتی ہوں ہم وکیلوں کی جی سر! مائی لارڈ! یور آنر! کی گردانوں سے یہ تشنگی سیراب نہیں ہوتی کیا؟

جج صاحب آپ کوئی ”لے مین“ تو نہیں ہیں پھر یہ جو نیم مردہ بچی آپ کے ہاں سے برآمد ہوئی ہے کیا آپ بھول گئے آئین پاکستان اس کو بھی وہی بنیادی حقوق دیتا ہے جو آپ کو ؟ Employment of children Act، 1991 نے بچوں کی اجرت کے لیے کم از کم کیا عمر تعین کی ہے یاد ہے؟ پنجاب، کے پی، سندھ اور بلوچستان کے پرہبشن آف امپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹس کیا رونا روتے ہیں۔ Bonded Labour System (Abolition) Act، 1992 کیا بلا ہے؟ نیشنل کمشن آن رائٹس آف دی چائلڈ (NCRC) کیا کہتا ہے؟ اگر آپ جانتے ہیں اور پھر اس ظلم میں شریک ہیں تو بطور وکیل یہ میرے لیے شرم کا مقام ہے اور اگر آپ نہیں جانتے تو یہ آپ کے لیے شرم کا مقام ہے کیونکہ مائی لارڈ! کیونکہ۔ Ignorance of law is not an excuse

Facebook Comments HS