ترقی کی راکٹ سائنس۔ امید کا سفر


گوتم بدھ کا قول ہے کہ زندگی تمام دکھ ہے اور دنیا دکھوں کا گھر ہے۔ ، شیکسپیئر نے کہا کہ
When sorrows come، they come not single spies، but in battalion
( غم جب آتے ہیں تو قطار اندر قطار آتے ہی) ۔ جب کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، میں کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا اور یہ کہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کر دیا ہے کہ ’خلق الموت والحیوة لیبلوکم ایکم احسن عملاً‘ (الملک 67:2) یہ جو موت و حیات کا کارخانہ ہے، جس پر یہ دنیا قائم ہے، یہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھیں کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔

دیکھا جائے کہ وہ اس میں خیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا شر کا ۔ یوں اس میں لوگوں کو اختیارات بھی دینا پڑے گا۔ جب اختیارات دیے جائیں گے توان کا غلط استعمال بھی ہو گا۔ جب اختیارات کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس سے دکھ، ظلم، رنج وغیرہ، یہ سب وجود میں آ جاتے ہیں۔ یہیں سے منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں اور مایوسی شروع ہوتی ہے۔ غلطی یہ ہے کہ

ہم میں سے زیادہ تر گوتم بدھ اور شیکسپیئر کے اقوال پر سر دھنتے ہیں اور بڑی حد تک عمل بھی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ منفی جذبات کا غلبہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وہ منفی خیالات و جذبات ہیں جن پر قابو پانے کے لئے رب تعالٰی نے اپنا قائم کردہ نظام چلانے کے لئے پیغمبر بھیجے اور انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے آپ کو اللہ کا خلیفہ اور نائب مانتے ہیں؟ یہاں ایک اور بڑا باریک نقطہ ہے کہ کیا ہر انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے یا وہ لوگ جو اللہ کے جاری کردہ ایس او پی پر عمل کرتے ہیں؟ میرا خیال یہ کہ جو جتنا اللہ کے ایس او پی پر عمل کرتا ہے اتنی ذمہ داری اس کو ملتی ہے۔ پڑھنے والے بھی اس پر رہنمائی فرمائیں کہ ان کا نقطہ نظر کیا ہے؟

اب سوال ہے منفی جذبات کے غلبے سے نکلنے کا ۔ انسانی فطرت میں ہمدردی سمیٹنا ایک بڑا مشغلہ ہے اور ہم انفرادی و قومی سطح پر یہ جانے بغیر کہ اللہ کو یہ عادت ناپسند ہے، اسے اپنائے بیٹھے ہیں۔ ناپسند ایسے کہ اللہ کو سست مومن پسند نہیں۔ بغیر کوشش، ہمت، محنت اور بھر پور کام کے کچھ پا لینے کا خیال سوچ کی کرپشن ہے۔ یہی وجہ جگہ ہے جہاں سے ہم ہمدردی سیمٹنا شروع کرتے ہیں، آرام طلب بنتے ہیں، گوتم بدھ اور شیکسپیئر کے پیچھے لگتے ہیں، رب تعالٰی سے دور ہو جاتے ہیں، منفی جذبات کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور پھر ہر قسم کی ناکام اور پستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جو لوگ رزق کی تلاش میں اپنی جنم بھومی سے نکل کر ہجرت کرتے ہیں وہ محدود وسائل کا ادراک کر کے، رب تعالٰی کی وسیع دنیا میں فضل کی تلاش میں بڑی دنیا کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی کے وعدے کی تلاش بھی کرتے ہیں اور رزق کی تلاش میں بہتر کوشش کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہ کے کاروباری معاملات مکہ سے باہر تھے تو رسول اللہ صلی اللہم کو اس کا نگران بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اگر اس دور میں حضرت خدیجہ نے نئی دنیا میں اپنے کاروباری معاملات کو وسعت دی تو آج ہم اپنا آپ بہتر کرنے کے لئے مایوس کیوں ہوتے ہیں؟

آج ہمیں اپنی سوچ، عمل اور کوشش کو رب تعالٰی کی مرضی کے مطابق لانے کے لئے اپنا آپ بدلنا ہو گا۔ اس کا طریقہ کیا ہے؟ اپنا محاسبہ۔ صرف اور صرف اپنا محاسبہ۔ جسم و جان اور دل و جان کا محاسبہ۔ کوشش و عمل کا محاسبہ۔ خواب و تکمیل کا محاسبہ۔ جو جہاں ہے وہاں انفرادی طور اپنا محاسبہ کر لے، ادارے اپنا محاسبہ کر لیں، لیڈرز اپنا محاسبہ کریں۔ سب اپنے اندر کی آواز سن کر اپنی سمت درست کر لیں انفرادی اور اجتماعی ترقی کی راکٹ سائنس سمجھ آ جائے گی اور چین و عرب و ہندوستان ہمارا ہو گا۔ غلامی اور بھیک کی زنجیریں توڑنے کے لئے صرف شیطان کو کنکریاں مارنے سے کام نہیں چلے گا، اندر کا شیطان مارنا پڑے گا جو کہتا ہے تم ٹھیک ہو باقی سب فراڈ۔ مادی ترقی کی راکٹ سائنس کا راستہ بھی یہی ہے اور مرنے کے بعد کی اچھی دنیا کا بھی۔

Facebook Comments HS