کتابوں کی مہک اور سائنس
کتابیں ہماری زندگی کا جزو اعظم اور قیمتی سرمایہ ہیں۔ دنیا میں جتنے عظیم لوگ گزرے ہیں وہ سب کتب کی معطر نگری میں پناہ گزیں رہے اور ان کے متحیر افکار بھی کتاب کی ورق گردانی کا نتیجہ تھے۔
ایسے وہ تمام افراد جو کتابیں جمع کرنے کا شوق رکھتے ہیں، کتابوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، کتابوں کے ایسے رسیا لوگ اصطلاحاً (Bibliophile) کہلاتے ہیں اور بہت سے ان کی خوشبو کشید کرنے کے نشے میں محو رہتے ہیں اس عادت کو (Bibliosmia ) کہتے ہیں۔
سائنسی تحقیق کے مطابق کتب بینی انسانی جسم کے لیے صحت مند اور توانا عادت ہے۔ کتاب کا پڑھنا ذہنی کشمکش اور تناؤ کی حالت کو نارمل کرتا ہے۔ قوت متخیلہ اور تفکر کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ متن کی قرات سے لفظوں کی سماعی اور بصری لذت کے سبب انسان کا انعامی نظام دماغ میں فرحت بخش ہارمون کو فعال کرتا ہے جو ہمارے لیے طمانیت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ کتاب کا لمس اور اس کی خوشگوار خوشبو ہمارے ذہن کو سرور کی سی کیفیت مہیا کرتی ہے۔
لیکن کتاب اور اس سے آنے والی مہک اور خوشبو کے محرکات کیا ہیں؟ نئی اور پرانی کتابوں سے آنے والی خوشبو کے تعلق کے راز کے پیچھے کیا سائنس پوشیدہ ہے؟
مختصراً پہلے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ خوشبو (بد بو) کیا ہے؟
ہمارے پورے جسم میں حسیات کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح ہمارے ناک میں سونگھنے کی حس (Olfaction) موجود ہے۔ خوشبو یا بد بو در اصل وہ کیمیائی مادے ہیں جو کسی شے سے خارج ہوتے ہیں اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں جب یہ ہمارے ناک کے حساس حصوں تک پہنچتے ہیں تو ناک کے ریسیپٹرز کو متحرک کر دیتے ہیں جو دماغ میں پیغام ارسال کرتے ہیں۔ اس پیغام کو ہمارا دماغ پراسیس کر کے خوشبو یا بد بو کا احساس پیدا کرتا ہے۔
کتابوں سے آنے والی خوشبو در اصل کتاب کے کاغذ، دوسرا کاغذ بنانے میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادے، جو چپکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تیسرا روشنائی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔
کتاب کا کاغذ لکڑی کے گودے سے بنا ہوتا ہے اور لکڑی میں نامیاتی مرکبات جیسے کہ سیلولوز اور لیگنن موجود ہوتے ہیں جو پودوں کی خلیات میں پائے جاتے ہیں یہ پودوں کے لیے مضبوطی کا کام کرتے ہیں۔ کاغذ بناتے وقت لکڑی کے گودے میں سیلولوز اور لگنن کے علاوہ بھی کیمیائی مادے ضرورت کے تحت استعمال ہوتے ہیں۔
کتابوں کے تا دیر پڑے رہنے سے یہ نامیاتی مرکبات یعنی سیلولوز اور لگنن، درجہ حرارت، روشنی اور نمی سے تعاملات کرتے ہیں اور ان کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں (VOCs) مرکبات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ متغیر نامیاتی مرکبات (Volatile organic compounds) ایسے مرکبات کو کہتے ہیں جو آسانی سے بخارات بن کر ہوا میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
ہوا میں شامل یہ کیمیائی مادے جب ہماری ناک تک پہنچتے ہیں تو اس طرح ان مرکبات کے تنوع قسم کا مجموعہ خوشبو پیدا کرتا ہے۔ جیسے کہ کیمیکلز وینیلین سے ونیلا اور بینز الڈی ہائیڈ سے بادام اور باقی مرکبات سے آنے والی یہ سب خوشبوئیں جمع ہو کر ایک حسین اور کھٹی میٹھی خوشبو کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
جبکہ نئی کتاب سے آنے والی خوشبو، کتاب کی بناوٹ کے دوران میں استعمال ہونے والی کیمیائی مادے اور سیاہی میں حل پذیر کیمیکلز کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس میں استعمال شدہ کیمیکل ہمارے ناک تک پہنچتے ہیں تو ہمیں نئی کتاب سے مہک کا احساس ہوتا ہے۔
جب ہم کتابوں کی دکان یا کسی کتب خانے میں داخل ہوتے ہیں تو نئی اور پرانی زرد کتب سے آنے والی خوشگوار خوشبو ایک حسین سماں باندھ دیتی ہے جس کے سبب پرانی بھولی بسریں یادیں تازہ ہوجاتی ہیں اسے نفسیات کی اصطلاح میں ناسٹلجیا کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ساون کی بارش کی بو باس ہمیں بچپن کی یادوں میں لے جاتی ہے۔ یہاں مجھے ترنم ریاض کی نظم ”پرانی کتابوں کی خوشبو“ یاد آجاتی ہے جو رومانوی انداز میں دل کی کتاب میں محبوب کی مہکتی یاد کا حوالہ ہے :
”پرانی کتابوں کی خوشبو“
عجب ہلکی ہلکی
عجب بھینی بھینی
عجب اجنبی سی
عجب اپنی سی
تری یاد مہکے
مرے دل کے اندر
پرانی کتابوں کی
خوشبو کی صورت
کتابیں متاع زیست ہیں اور بعض تو تاریخ میں ایسی کتب ہیں جو یا تو چھپا دی گئیں یا پھر ان پر پابندی عائد کر دی گئی مگر ایسی کتب ہمارے ذہن میں تشکیک کا عنصر پیدا کرتی ہیں جہاں انتخاب کتاب میں احتیاط کی ضرورت ہے وہاں ایسی کتب کو پڑھنا بھی لازم ہے کہ آیا ان پر پابندی کے اسباب کیا ہیں؟ کیا یہ کتب غلط معلومات فراہم کرتی تھیں یا ہمیں مقتدرہ لوگ جان بوجھ کر ان سے محروم رکھنا چاہتے تھے کہ کہیں حقائق جان کر بغاوت کا نعرہ نا بلند ہو جائے۔
بہر حال کتابوں کی مہکتی ورق گردانی اور ان کا نشہ، انسان کے لیے بہترین عادت اور کتاب دوستی کا ثبوت ہے۔


