طلبہ کے لیے مجوزہ کتابوں اور اسٹیشنری کی اہمیت

تعلیم افراد اور معاشروں کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اسکول کے طلبہ کے لیے تجویز کردہ کتابوں اور اسٹیشنری کا استعمال ان کے سیکھنے اور تعلیمی کارکردگی کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم! پاکستانی اسکولوں میں والدین اور طلبہ کو مخصوص کتابوں کی دکانوں پر جا کر اسکول لوگو (school logo) اور اسکولوں کے ناموں کے ساتھ والی کاپیاں خریدنے کے عمل نے والدین پر مالی بوجھ اور طلبہ کی تعلیمی ترقی پر اس کے اثرات کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
راقم کے دو بچے الگ الگ اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ایسے کتنے ہی والدین ہوں گے جن کے بچے ایک ہی اسکول کی بہ جائے متعدد اسکولوں میں زیر تعلیم ہوں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ الگ الگ اسکولوں سے بچوں کی کتابوں اور اسٹیشنری کی الگ الگ فہرستیں موصول ہوں اور پھر کہا جائے کہ شہر کی مختلف سمتوں میں موجود مخصوص دکانوں پر ہی مجوزہ کتب اور کاپیاں دست یاب ہوں گی اور آپ ان ’منتخب کردہ دکانوں‘ سے ہی یہ اشیا خریدنے کے پابند ہیں۔ والدین کے لیے یہ کتنا تکلیف دہ مرحلہ ہو گا۔
راقم نے اپنے ایک بچے کے اسکول کے ایک اعلیٰ افسر سے مؤدبانہ اور عاجزانہ طور پر دریافت کیا کہ کیا مارکیٹ میں موجود عام کاپیوں کی نسبت ان کے اسکول کی لوگو والی کاپیوں پر لکھنے سے طلبہ کی ذہنی استعداد، تعلیمی کارکردگی اور دیگر مہارتوں میں زیادہ بہتری آتی ہے۔ یہ بے وقت کی راگنی اور غیر متوقع سوال ان کے ذوق سماعت پر گراں گزرا، وہ ششدر رہ گئے اور ان سے کوئی منطقی جواب نہیں بن پایا۔
تجویز کردہ کتب اور سٹیشنری کی اہمیت
تجویز کردہ کتابوں اور اسٹیشنری کو نصاب اور سیکھنے کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے۔ انھیں متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے جامع مواد فراہم کرنے کے لیے مرتب کیا ہے جو کمرۂ جماعت میں تدریس و تعلم کی تکمیل میں مددگار ہیں۔ یہ وسائل طلبہ کی مضامین کی سمجھ میں اضافہ، خود سے مطالعہ کی حوصلہ افزائی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ تجویز کردہ مواد کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ سیکھنے کے لیے ایک منظم انداز اپنا سکتے ہیں جس سے تعلیمی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔
اسکول لوگو والی مہنگی کاپیاں (Notebook)
پاکستانی تعلیمی منظر نامے میں بہت سے اسکولوں نے کتابوں کی مخصوص دکانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے جو اسکول کے لوگو اور ناموں والی کاپیاں اور اسٹیشنری کی دیگر اشیا فروخت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ عمل اکثر مارکیٹ میں دست یاب دیگر اسی طرح کی اشیا کے مقابلے میں بہت زیادہ قیمت والی مصنوعات کا باعث بنتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، والدین ان لوگو برانڈ والی کاپیوں پر نمایاں طور پر زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس سے غریب خاندانوں پر غیر ضروری مالی دباؤ پڑتا ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔
طلبہ کے سیکھنے اور تعلیمی کارکردگی پر اسکول لوگو والی کاپیوں کا اثر
اسکول لوگو والی مہنگی کاپیوں کا استعمال طلبہ کے سیکھنے یا تعلیمی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری کی ضمانت نہیں دیتا۔ تعلیم بنیادی طور پر تدریس کے معیار، سیکھنے کے عمل میں فعال شرکت اور تعلیمی میدان میں معیاری علم و ہنر حاصل کرنے کی ترغیب سے متعلق ہے۔ مہنگی اسٹیشنری ان عوامل کے حصول میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتی۔ اس کی بہ جائے یہ والدین پر جو مالی بوجھ ڈالتی ہے وہ طلبہ کے لیے تناؤ اور خلفشار پیدا کر سکتی ہے جو ان کی مجموعی کارکردگی میں رکاوٹ ہے۔
والدین کے لیے زحمت
شہروں کے بکھرے ہوئے مقامات پر ان مخصوص کتابوں کی دکانوں کی جغرافیائی پوزیشن والدین کے لیے ایک تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ عام طور پر والدین کی اکثریت اسکول کے قریبی علاقوں میں رہتی ہے، تاہم! یہ دکانیں بہت دور واقع ہوتی ہیں۔ ان تک پہنچنے کے لیے آٹو رکشا، ٹیکسی، چنگچی، ذاتی سواری یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف والدین کے لیے اس پورے عمل کی قیمت بلکہ ان کے قیمتی وقت کا ضیاع، ان کی زندگیوں میں غیر ضروری تناؤ اور پریشانی بھی بڑھ جاتی ہے۔
افراتفری سے بچنے کے لیے تجویز کردہ حل
موجودہ نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے، کئی عملی حل نافذ کیے جا سکتے ہیں :
اسکول لوگو اور ناموں والی کاپیوں سے اجتناب: کاپی کاپی ہوتی ہے چاہے اس پہ کسی اسکول کا نام درج ہو یا نہیں۔ اسکولوں کو چاہیے کہ کاپی کا حجم یا صفحات کا تعین کر کے والدین اور بچوں کو مطلع کریں تاکہ وہ ارزاں نرخوں میں بغیر اسکول لوگو والی کاپیاں خرید لیں۔ نیز اسکول تجویز کردہ کتابیں اور اسٹیشنری فروخت کرنے کے لیے والدین سے بات کر کے اسکول کے نزدیک دکانوں میں کہیں یہ اشیا رکھوا سکتے ہیں۔ اس معاملے میں والدین یا دیگر رضاکار اسکول کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور والدین کے لیے تکلیف میں کمی آئے گی۔
متعدد پبلشرز اور دکان دار: اسکولوں کو والدین کو کتابوں کی مخصوص دکانوں تک محدود رکھنے کی بہ جائے متعدد دکانداروں سے تجویز کردہ کتابیں اور اسٹیشنری خریدنے کی اجازت دینی چاہیے۔ یہ اقدام صحت مند مسابقت کی حوصلہ افزائی کرے گا جس سے مناسب قیمتوں پر کتابیں اور اسٹیشنری دست یاب ہوں گی۔ نیز اسکول اور والدین کے لیے محلوں یا اسکول کے قریب بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اسکول تجویز کردہ کتابوں کی فہرست اور اسٹیشنری فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اپنا سکتے ہیں۔ اس سے والدین ضروری اشیا کے بارے میں باخبر ہوں گے اور آسانی سے آن لائن خرید سکتے ہیں۔ اس سے والدین اور طلبہ کا قیمتی وقت بچنے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری مشقت سے بھی چھٹکارا ملے گا۔
تھوک (bulk) کے حساب سے خریداری: اسکول بہ راہ راست سپلائرز سے گفت و شنید کر کے تجویز کردہ مواد کی بڑی تعداد میں بہتر قیمتوں پر خریداری اور نسبتاً کم لاگت کے فوائد والدین تک پہنچانے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت اسکولوں کی طرف سے والدین کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوگی۔
شفافیت اور جواب دہی: اسکولوں کو دکانداروں کی طرف سے فراہم کردہ اشیا کے معیار اور ایک ہی وقت میں تمام اشیا والدین کو فراہم کرنے کی باقاعدگی سے نگرانی کرنی چاہیے۔ یہ دکان داروں کو جواب دہ بنائے گا اور نامکمل اشیا کی فراہمی یا والدین کی جانب سے دکانوں کے دوبارہ چکر لگانے کی اذیت کو کم کرے گا۔
اسکول کے طلبہ کے لیے تجویز کردہ کتابوں اور اسٹیشنری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم! پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں مہنگے لوگو برانڈڈ مصنوعات کی تشہیر کا عمل والدین کی مالی بہبود کو منفی طور پر متاثر کر رہا ہے اور کہیں سے بھی طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر نہیں کرتا۔ اسکول لوگو والی کاپیوں سے اجتناب، متعدد پبلشرز اور دکان داروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تھوک کے حساب سے خریداری اور دکان داروں سے جواب دہی سے اسکول موجودہ نظام کی وجہ سے والدین کے لیے پیدا ہونے والی پریشانی کو کم کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف والدین کو فائدہ پہنچائیں گے بلکہ طلبہ کے لیے سیکھنے کا ایک سازگار ماحول بھی پیدا کریں گے۔ نتیجتاً ان کی تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح و بہبود کو فروغ دیں گے۔

