امی کی موت اور 0.5 کی گولی کا سہارا


میری پیدائش سے لے کر رواں برس گیارہ جون تک میری ہر صبح کا آغاز ایک ہی انسان کو دیکھ کر ہو تا تھا اور وہ میری ماں تھی۔ اب وہ نہیں رہی۔ ہر کسی کے لاشعور میں کوئی نہ کوئی خوف ہوتا ہے، مجھے ہمیشہ امی کو کھونے کا خوف تھا، وہ بیمار ہو جاتیں تو میں گھر سر پر اٹھا لیتی، اس دن بھی میں اپنے چھوٹے بھائی کو تقریباً چیخ کر کہہ رہی تھی کہ تم جلدی کیوں نہیں کر رہے امی کو لے جانے میں حالاں کہ گھر میں وہ سٹیبل تھیں، لیکن چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ انہیں کبھی ہارٹ کا ایشو رہا نہیں تو یہ خیال بھی نہیں گزرا کہ ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے۔ اور صرف آدھے گھنٹے بعد وہ جو اپنے پیروں پر چل کر گئی تھیں، ان کی ڈیڈ باڈی صحن میں پڑی تھی۔

خیر اب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا، میری زندگی کا سب سے بڑا خوف نا صرف پورا ہو چکا بلکہ میں یہ سب سہ بھی گئی ہوں ورنہ صدمہ اتنا اچانک اور گہرا تھا کہ میرے بس میں ہوتا تو ساتھ ہی چل بستی۔ آج امی کو رخصت کیے ایک مہینہ اور سولہ دن ہو گئے ہیں۔ لیکن اس عرصے کے دوران میری ایموشنل ہیلتھ بری طرح متاثر ہوئی ہے :کئی دن ایسے بھی گزرے ہیں جب میں دفتر میں سیٹ پر بیٹھی اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکی، میں لنچ کے وقت میس میں نہیں جاتی تھی کہ مجھ میں دوسروں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا، میں دوستوں کی کالز نہیں اٹھاتی تھی، میں اپنے فیورٹ سیزن کو دس منٹ سے زیادہ نہیں دیکھ پاتی تھی۔

کمپیوٹر کی سکرین کو گھورتی رہتی اور بے چین ہو کر گھڑی دیکھتی رہتی کہ کب وقت پورا ہو اور میں گھر کے لئے نکلوں۔ راستے میں یہ سوچ کر آنسو نہیں تھمتے تھے کہ گھر میں امی نہیں ہوں گی۔ اپنے کمرے کا دروازہ جو کبھی امی بند نہیں کرنے دیتی تھیں اسے جا کر تو آج بھی جب کھولتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے دل میں پڑے کریک میں ایک اور لائن پڑ گئی ہے۔ مجھ سے اگر کوئی بات بھی کر رہا ہوتا تو میں لفظوں کو پراسیس نہیں کر پاتی تھی مجھے آوازیں محض شور محسوس ہوتی تھیں۔ صبر کی تلقین کرنے والے زہر لگتے تھے اور میری بہن مجھے بتاتی ہے کہ میں کئی دن روتے ہوئے ایک ہی بات کہتی تھی اب میں کیا کروں گی؟

ہر انسان کا دکھ منانے کا طریقہ الگ ہو تا ہے، اس کے لئے دوسرے لوگ ٹائم لائن سیٹ نہیں کر سکتے، چلو اب چہلم ہو گیا اب نارمل زندگی میں لوٹ آؤ، چلو اب ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ٹھیک ہو جاؤ۔ ایسے نہیں ہوتا ناں!

میں عموماً بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہوں، اس کے باوجود کئی راتیں میں نے جاگ کر گزاری ہیں، پھر بھی صبح اٹھ کر معمول کا دن گزارنے کی کوشش کرتی لیکن جب میری کوششوں نے اثر کرنا بند کیا تو میں ڈاکٹر کے پاس گئی اور اس نے 0.5 کی مقدار میں اینٹی ڈپریسنٹ تجویز کردی۔ جو میں لے رہی ہوں اور کم از کم crying spell کم ہو گئے ہیں۔ دفتر کے کام پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے، پھر بھی شام کے بعد خصوصا عشا کی نماز کے بعد ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ گولی بھی کام نہیں کرتی لیکن جس بات نے مجھے حیران کیا وہ یہ کہ آج بھی لوگ اینٹی ڈپریسنٹ لینے کو بے حد معیوب سمجھتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ماں کا مر جانا ایک بہت نارمل بات تھی، یہی قدرت کا قانون ہے، اور اینٹی ڈپریسنٹ لینے کا مطلب وہی ہے مذہب سے دوری، دماغ کا خلل وغیرہ وغیرہ! کیونکہ کافی دن تک جب میں نارمل نہیں ہو رہی تھی تو ہر کوئی یہ کہتا نہیں نہیں ڈاکٹر کے جانے کی ضرورت نہیں گولیاں کھانے کی ضرورت نہیں، بس ٹھیک ہو جاؤ۔

مجھے یہ کوئی بتائے جب جسم پر چوٹ لگتی ہے تو پٹی بندھواتے ہیں ناں، تو جب جذبات لہولہان ہوں گے تو انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جائے؟ تو قصہ مختصر یہ ہے کہ آپ پڑھنے والوں میں سے بھی جب کوئی بات اندر ہی اندر سے کھانے لگے تو کسی پروفیشنل سے مدد لینے کو عار نہ سمجھئے، علاج کروانے میں کوئی ہرج نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی دوا کھانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ]پاگل ہیں۔ ہاں اب جب دوا سے جذبات میں ٹھہراؤ آنے لگا ہے تو ارادہ یہی ہے کام پر توجہ بڑھائی جائے، ورزش کے معمول کی طرف لوٹا جائے، زندگی میں آگے بڑھنے کی لگن کو مانجھ دھو کر پھر سے سجایا جائے۔ آپ سب نے دیکھا ہو گا جب چھت ڈالتے ہیں تو دیواریں کافی نہیں ہوتیں، عارضی سہاروں سے اسے ٹکایا جاتا ہے اور جب چھت پکی ہوجاتی ہے تو ہفتہ دس دن بعد وہ سہارے نکال لیے جاتے ہیں۔ امید یہی ہے کہ بس یوں ہی کچھ دنوں میں، میں بھی اس اینٹی ڈپریسنٹ کے سہارے کو نکال پھینکوں گی۔

Facebook Comments HS