توہم پرستی اور تحقیق


ہمارا سارا زور زبانی کلامی حرمت سے شروع ہوتا ہے اور جذباتیت کے دھارے میں بہہ کر ختم ہوتا ہے۔ اس میں حرمت انبیا، حرمت قرآن، حرمت مسجد وغیرہ سرفہرست ہیں۔ ہم اللہ اور اللہ کے رسول کی باتوں کو ثابت کرنے کی بجائے مغربی قوموں کے محتاج ہیں۔ جب وہ کوئی سائنسی دریافت کر لیتے ہیں، کوئی تھیوری پیش کر دیتے ہیں، اپنی کسی سائنسی تحقیق کو ثابت کر لیتے ہیں تو اگلے دن ہم کسی قول یا کسی مقدس کتاب سے نکال کر ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیتے ہیں کہ دیکھیں یہ تو پہلے ہی لکھا یا کہا ہوا موجود ہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ دنوں جب ٹائیٹن آبدوز تباہ ہوئی تو سمندر میں پانی کی مختلف پرتوں کی بات ہوئی تو یار لوگوں نے اس کے حوالے بھی قرآن سے تلاش کر لئے۔

یہاں بحث صحیح یا غلط کی نہیں، نہ ہی قرآن کی تشریح سے کوئی اختلاف مقصود ہے۔ رونا صرف یہ ہے کہ ہم ایسی معلومات جو ہماری مقدس کتاب میں پہلے سے موجود ہیں، ثابت کرنے کے لئے کسی مغربی ملک کے سائنسدان کی تھیوری کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ ہم خود ان کو ثابت کرنے کے اہل کیوں نہیں؟ کیا تفکر اور تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے؟

وجہ شاید یہ ہے کہ ہم آنکھیں بند کرکے یقین کر بیٹھے ہیں کہ ہم اشرف ترین مخلوق ہیں، اشرف ترین مذہب کے پیرو ہیں اور اشرف ترین کتاب کے ماننے والے ہیں۔ اول تو ہمیں کسی مثبت سرگرمی  کی ضرورت ہی نہیں کہ ہماری شفاعت ہمارے نبی کے ذمہ ہے، ہر قسم کی تھیوری قرآن پیش کرچکا ہے اسے ثابت کرنا مغربی سائنسدانوں کی ذمہ داری ہے، ہم صرف بعد میں توثیق کرتے جائیں گے کہ یہ تو کتاب مقدس ہمیں چودہ پندرہ سو سال قبل بتا چکی ہے، اس لئے یہ بات درست ہے یا غلط ہے۔

شاید ہم میں تحقیق کا مادہ ہی عنقا ہے۔ ورنہ قرآن کے احکامات میں سے ایک غور و فکر اور تدبر وتحقیق کا بھی ہے جو مختلف جگہ پر بیان ہوا ہے۔ زبانی کلامی افضلیت کی بات کرنے والے ہم کبھی بھی ایسے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ شاید یہ سب سے بڑی توہین ہے کہ قرآن کے بنیادی احکامات ہی سے صرف نظر کیا جائے۔

چند دن پہلے ایک دوست نے آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا کہ ایک بچی کے جسم کے کسی حصے میں جلد پر یکدم خون ظاہر ہوجاتا، کبھی بازہ، کبھی چہرے، کبھی ٹانگ، کبھی پیٹ پر۔۔۔ اسے ہاتھ سے صاف کرتے تو نیچے کسی زخم کا نشان تک نہ ہوتا۔ بچی بظاہر صحت مند بھی تھی، میڈیکل رپورٹیں بھی ٹھیک۔ ایک ڈاکٹر، دوسرا، تیسرا۔ کبھی خون کا ماہر، کبھی جلد کا۔ کبھی فلاں ٹیسٹ کبھی فلاں۔ جہاں تک ہو سکتا تھا بھاگے۔ آخر میں راولپنڈی میں ایک بہت بڑے ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر، جن کے نام کے ساتھ ایک اور ادارے کا جاہ وجلال والا ٹائٹل بھی لگا ہوا تھا، ان کے پاس پہنچے۔ سارے ٹیسٹ کرانے اور دیکھنے کے بعد موصوف کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو فیصلہ صادر فرمادیا کہ گھر میں سایہ ہے۔ تلاش کیجئے گا گھر میں بکری کی سری ملے گی۔ موصوف کا ٹائٹل اتنا بڑا تھا کہ سیاستدان ان کے اشارے پر کانپ جاتے ہیں، بچی کی والدہ جو توہم پرست نہیں تھیں ان کا ایمان بھی ڈگماگیا کہ صاحب عز وشرف فرماتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔

گھر والے نہ مانے، رپورٹس اور ویڈیوز، تصاویر امریکہ بھجوائیں۔ وہاں بھی آسانی سے سمجھ نہ آیا۔ لیکن کھوج لگاتے رہے۔ ایک یونیورسٹی( غالباً ہارورڈ) بھجوایا گیا، انہوں نے بتایا کہ بچی خون کی ایک بہت منفرد بیماری Hematidrosis میں مبتلا ہے۔ اس میں خون پسینے کی طرح مساموں سے خارج ہوتا ہے، اسے صاف کردیں تو نیچے کوئی نشان یا زخم وغیرہ نہیں ہوتا۔

اب پاکستانی ہیماٹالوجسٹ نے تو اپنی معذوری ظاہر کرکے پیروں فقیروں کی طرف رجوع کرنے کا کہہ دیا تھا کہ روحانی علاج کروائیں اور جادو سے چھٹکارا پائیں۔لیکن ماہرین علم و حکمت اور تحقیق پر یقین رکھنے والوں نے اس کی وجہ دریافت کرلی۔

کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ان ماہرین نے پنسلین جیسی دواوں کی ایجاد سے لے کر جسم کے ذرے ذرے پر تحقیق نہ کر رکھی ہوتی تو شاید ہم آج بھی دم درود، جھاڑ پھونک، دھونی، وظائف، ٹونوں اور ٹوٹکوں کے سہارے اپنے عارضے اور روگ کا درماں کر رہے ہوتے۔

Facebook Comments HS