افسر شاہی
8 جولائی 2023 کو الہ آباد ہائی کورٹ، اتر پردیش بھارت کے جج جناب جسٹس گوتم چوہدری پرشوتم ایکسپریس کے ذریعے نئی دہلی سے الہ آباد جا رہے تھے۔ برصغیر کی روایتی ریل گاڑیوں کی طرح یہ ریل گاڑی بھی 3 گھنٹے لیٹ تھی۔ مسافروں کو چائے پیش کرنے کے لیے عملہ بھی غیر حاضر تھا۔ کھانا پیش کرنے والے عملے کے مینیجر راج ترپاٹھی نے جج صاحب کی کال بھی نہیں اٹھائی۔
لامحالہ طور پر جج صاحب کو کوفت کا سامنا کرنا پڑا جس بنا پر الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار جناب اشیش کمار شریواستو نے 14 جولائی 2023 کو انڈین ریلوے کے علاقائی جنرل مینیجر سے جواب طلبی کر لی۔ ان کے سرزنش بھرے خط میں جنرل مینیجر سے وضاحت طلب کی گئی کہ کیوں جج صاحب کو دوران سفر زحمت ہوئی۔
19 جولائی 2023 کو، 5 دن بعد ، بھارت کے چیف جسٹس، جناب جسٹس دھننجایا یشونت چندراچؤد بھارت کی تمام 25 ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو اپنی ناپسندیدگی بھرا خط لکھتے ہیں جس میں انہوں نے لکھا کہ سہولیات اور پروٹوکول سرکاری افسران کا حق نہیں ہے جسے وہ استحقاق سمجھیں بلکہ یہ انہیں عوام کی طرف سے دی گئی رعایت ہے۔
تمام چیف جسٹس صاحبان یہ بات اپنے ساتھیوں تک پہنچانے کے پابند ہیں کہ آئندہ کے بعد پروٹوکول میں کمی یا اس کی مکمل عدم موجودگی کی صورت میں جج صاحبان کا رویہ یوں نہیں ہونا چاہیے جیسے وہ عام معاشرے سے الگ ہیں یا ان کا انہیں دی گئی سہولیات کا استعمال عوامی تنقید یا کسی بھی دوسرے کے لیے آزار کا باعث بنے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی کم و بیش 122 تحصیلیں ہیں اور ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کے لیے نئی ڈبل کیبن گاڑی، ہر ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کے لیے یارس اور ہر ڈویژن کے ایڈیشنل کمشنر کے لئے کرولا آلٹس خریدی جا رہی ہے جن کی قیمت اندازہً 233 کروڑ روپے بنتی ہے۔
عوام کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات، جیسا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس پہلے سے موجود چمکتی دمکتی گاڑیوں کا کیا مصرف ہو گا، بھی لاٹ صاحب بہادران کی نگاہ ناز میں تھے چنانچہ ان کا بھی تسلی بخش شاہی جواب دیا گیا ہے کہ پہلے سے موجود ڈبل کیبن گاڑیاں غریب تحصیل داران میں بانٹ دی جائیں۔
پھر بھی کمین عوام میں سے اگر کسی کم فہم اور کوتاہ نظر بداندیش کے ذہن میں ملکی معاشی صورت حال، آئی ایم ایف کے سامنے ایک ایک ڈالر کے لیے گڑگڑانے، یا افسر شاہی کے سرکاری ملازم ہونے کا کیڑا کلبلائے تو اس کے سوچنے کے لیے اس کا بجلی کا آئندہ بل، آٹا، چینی، چاول، پٹرول اور گھی کی گرانی ہے نا!

