سی سنو اور ”دو ثقافتیں“


سی پی سنو، (Charles Percy Snow) انگلستان سے تعلق رکھنے والے ناول نگار اور سائنس دان ہیں۔ جن کا لیکچر ”دو ثقافتیں“ (Two Cultures) خاصا معروف ہوا اور ان کے معاصرین نے اس پر خاصی تنقید بھی کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں بیس برس پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہرت بحیثیت ادیب اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 1950 ء میں برطانوی ادیبہ پامیلا بینس فورڈ جانسن سے شادی کر لی۔ سی پی سنو کے ناول لکھنے کا انداز جاسوسی رہا۔

اس کا ناول Death Under Soil جب شائع ہوا تو اسے خاص شہرت نہ مل سکی۔ اس کے بعد اس نے ایک اور ناول Search کے نام سے قلم بند کیا اور وہ بھی قارئین کی متوقع توجہ اپنی جانب مبذول کرنے سے محروم رہا۔ اس کے بعد انھوں نے سائنس کو موضوع بنایا اور New Men تحریر کیا جس میں انھوں نے سائنسدانوں کے مسائل اور ایٹمی دھماکوں کو موضوع بنایا۔ اس ناول نے اسے بحیثیت ادیب دنیا میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد اس کے کئی ناول ٹیلی ویژن پر بھی پیش کیے گئے۔

1959 ء میں اس نے ”دو ثقافتیں“ کے عنوان سے لیکچر دیا جس نے اسے پوری دنیا میں شہرت بخشی۔ عمومی طور پر ثقافت ایک ایسی اصطلاح ہے جو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے سماجی رویوں اور اصولوں پر مبنی ہوتی ہے جوان گروہوں کے افراد کے، علم، عقائد، فنون، رسم و رواج اور عادات کو موضوع بناتی ہے۔ ثقافت کو ہمیشہ بشریاتی علوم میں بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔

اس کتاب میں اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ادیب اور سائنس دان دو الگ الگ ثقافتوں کے نمایندے ہیں۔ سائنس دان، ادیبوں سے اتنا بعد محسوس کرتے ہیں کہ وہ ان سے بات کرنا تک گوارا نہیں کرتے۔ اور ادیب نہ ان کے بارے میں نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی جاننا چاہتے ہیں۔ سی پی سنو یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سائنس دان اور سماجی دانشور ایک دوسرے کے قریب ہونے کے بجائے، دور سے دور تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چند ایک ایسے سائنس دان ہیں جو ادب کا مطالعہ کرتے ہیں اسی طرح چند ایک دانشور اور ادیب بھی ایسے ہیں جنھیں سائنس سے شغف ہے۔

آج کی دنیا کا یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ ادبی ثقافت سائنس مخالف اور سائنس بیزار ہوتی جا رہی ہے جو کہ درست عمل نہیں ہے۔ سائنس ہی ہے جس نے انسان کا معیار زندگی بلند کیا ہے۔ مسئلہ ہمارے نظام تعلیم میں موجود ہے جس نے ان دونوں ثقافتوں کے مابین خلیج حائل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ سی پی سنو اس بات پر بحث کرتا ہے کہ کیسے 1800 ء کے بعد انگلستان میں معیار زندگی اور معیار تعلیم بلند ہوا ہے، جو پہلے سائنسی اور بعد ازاں صنعتی انقلاب کا باعث بنا۔

سنو کا دادا کبھی سکول نہیں گیا تھا لیکن اس نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ وہ اپنے آبا و اجداد سے کئی گنا بہتر زندگی گزار رہا تھا جو لکھنا، پڑھنا تک نہیں جانتے تھے۔ اس طرح کی تبدیلی جو انگلستان میں دکھائی دیتی ہے، تیسرے دنیا کے ممالک میں بھی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے کوئی طویل وقت بھی درکار نہیں ہو گا، اگر مغرب سرمایہ اور سائنس دان فراہم کرے۔ سنو کا خیال ہے کہ یہ صنعتی انقلاب ہی ہے جس نے مغرب کو بدل دیا ہے۔

تیسری دنیا کے غریب کسانوں کو چاہیے کہ وہ سکولوں میں جا کر ہنر سیکھیں اور صنعتوں میں کام کریں۔ صرف صنعتی ترقی ان کی قسمت کو بدل سکتی ہے۔ صنعت اور سائنس کا براہ راست تعلق ہے۔ سائنس ہی ہے جو غریب انسانوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر سکتی ہے۔ مثلاً عمر میں طوالت، بھوک سے آزادی اور کم عمر بچوں کی زندگی کو بچانا وغیرہ۔

سائنس دانوں کو چاہیے کہ وہ ادبی اور سماجی تحریروں کا مطالعہ کریں اور سماج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ سماج سے بے خبر ہونا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا ادیبوں اور دانشوروں کا سائنسی علوم سے بے بہرہ ہونا۔ ایک گروہ تخیلات کا سہارا لے کر ادبی فن پارے تخلیق کرتا ہے اور دوسرا تخمینے اور پیمائشوں کا سہارا لیتے ہوئے ایجادات اور دریافتیں سامنے لاتا ہے۔ ان دو الگ الگ دنیاؤں میں جو چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ دونوں موضوع کو معروض میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے مابین جو ثقافتی خلیج حائل ہے وہ اتنی زیادہ وسیع نہیں ہے۔ ان کے درمیان تیسرا انداز ثقافت موجو ہے جو ان کو دور لے جانے کے بجائے انھیں قریب کر دیتا ہے۔

سی پی سنو کے ان خیالات پر اس کے معاصرین نے سوالات اٹھائے کہ مغربی نظام تعلیم میں ایسی کوئی بات نہیں جس میں کہا جا سکے کہ سائنس پر توجہ نہیں دی جاتی یا ان کا نظام تعلیم روس اور امریکا سے کم تر ہے۔ ذہن میں رہے کہ اپنے لیکچر کے دوران، سی پی سنو نے انگلستان کے نظام تعلیم پر سوال اٹھائے تھے اور اس کا روس اور امریکا کے نظام تعلیم سے موازنہ کیا تھا اور کہا تھا کہ روس اور امریکا ہم سے زیادہ سائنسی علوم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اردو میں اس لیکچر کو زینت اللہ خان نے ترجمہ کیا ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شایع کیا ہے۔

Facebook Comments HS