دوئیت کا انکار


دوئیت کے انکار کو anti dualism یا non binarism بھی کہتے ہیں۔ جیسے وحدۃ الوجود کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ دنیا کے وجود کوئی الگ چیز نہیں بلکہ ایک مہا وجود (خدائی وجود) کا حصہ ہے۔ خدا کے وجود کے مقابل کوئی دوسرا وجود نہیں۔ اس تصور میں کوئی دوسرا نہیں۔ صرف خدا کے وجود کی دلیل کامل ہے۔ باقی سارے وجود اس کے وجود کی پرچھائیاں ہے۔

تاریخ میں مذاہب کی بنیادی شکلیں دوئیت کے تصور پہ قائم تھی۔ اچھائی اور برائی، دنیا اور مافیہا، جسم اور روح وغیرہ۔ افلاطون نے Phaedo اور Republic میں دوئیت کے تصور پر لکھا ہے کہ ایک ہماری مادی دنیا ہے اور دوسری دنیا، افکار کی دنیا ہے جس میں فقط آئیڈیاز ہوتے ہیں۔ ڈسکارتیس نے اس تصور کو مزید آگے لے جا کر کارتھیژن دوئیت کا تصور دیا کہ جسم اور دماغ الگ الگ ہے۔ نیورو سائنس کا روایتی مقدمہ بھی اسی دوئیت پر تھا اگر چہ اس کی موجودہ شکل بہت زیادہ اس کی مخالفت میں چلی گئی ہے اور اسی دوئیت کے انکار میں نیورو سائنس کی جدید ترقی کا راز پنہاں ہے۔

تصورات کی بنیادی شکلوں کا تجزیہ دوئیت سے ہوتا تھا۔ مثلاً گناہ اور ثواب کا تجزیہ، اچھائی اور برائی، مادی وجود اور تصور کا تجزیہ، سفید اور کالے کا تصور، وغیرہ۔ اسی بنیاد پر اخلاق بھی بنتے گئے۔ ایک مشہور تصور ہے کہ اگر کوئی تتلی ماریں تو وہ ظالم کہلائے گا مگر کوئی اگر کاکروچ ماریں تو وہ ہیرو ہے۔ اچھائی اور برائی سے دوئیت کا تصور ہر جگہ آتا گیا۔ اسی طرح تاریخ میں دوئیت یہ کہ وہ کامیاب ہے جو زندہ رہا۔ جو مر گیا، وہ ناکام ہے۔ یہی قانون حیاتیاتی بقا کا بھی بنیادی مقدمہ ہے۔

مگر اس سب کے باوجود زندگی کسی بھی جگہ بلیک اینڈ وائٹ نہیں اور دوئیت کا یہی سب سے کمزور نقطہ ہے کہ وہ زندگی کی پیچیدگیوں کو reductionist چشمے سے سفید اور کالے رنگوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ چیزیں بہت زیادہ پیچیدگیوں کے ساتھ ہوتی ہے مثال کے طور پر کسی کی مدد کرنا آپ کے لئے اچھا کام ہو گا۔ دوسرے شخص کے لئے برا ہو گا۔ خود اس شخص کو کشمکش ہوگی کہ میری مدد ہونا اچھا ہے یا برا۔ کوئی تیسری پارٹی کہے گی کہ یہ عمل اچھائی اور برائی سے ماورا ہے۔

پھر آپ کی مدد سے وہ شخص کچھ دیر بعد آپ کو لوٹ لیتا ہے۔ آپ خدا کی طرف سے امتحان سمجھ کر اس عمل کی اچھائی پر خود کو مطمئن کرتے ہیں۔ وہی شخص کل اخبار کی سرخی میں آ جائے کہ اس نے سو لوگوں کو لوٹا ہے اور اب وہ پولیس کو درکار ہے۔ پولیس نے ساتھ کہا کہ جس کے ساتھ اس شخص نے ہاتھ کیا وہ پولیس کے ساتھ اس کی نشاندہی میں مدد کری‍ں۔ اسی پل آپ کے پرانی اچھائی کا تصور ختم ہو گیا۔ پولیس کے پاس آپ گئے انہوں نے لمبے سوالات کا ایک پرچہ تھما دیا۔ اس میں کہی لکھا تھا کہ آپ نے کیا سوچ کر مدد کی تھی؟ آپ نے لکھا کہ میں نے سوچا کہ غریب کی مدد کرنا اچھائی ہے۔ اب وہ چور نکلا تو اس سے اچھائی اور برائی ثابت ہو گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے دوئیت کا انکار ہو جاتا ہے؟ بالکل نہیں۔ دوئیت تو تھی اگر چہ ہمارے علم میں نہیں تھی۔

لیکن اب اس فرضیے کو مزید کھینچتے ہیں۔ تصور کریں وہ شخص آپ کی مدد کے بغیر مر جاتا تو اس کا لوٹنا صحیح تھا۔ ریاست کی نظر میں آپ نے غلط شخص کی مدد کی۔ آپ کی نظر میں مرنے سے بہتر تھا کہ آپ لٹ گئے۔ قانون کہے گا کہ اس کو بہتر راہ تلاش کرنی چاہیے تھی۔ Subjective Realist اور determinist کہیں گے کہ وہ صحیح تھا کیونکہ اس کو اس حال میں یہی راہ دکھائی دی۔ Relativist کہیں گے کہ اس میں معاشرے، ریاست اور کمیونٹی کی غلطی ہے۔ بذات خود یہ عمل کیا تھا؟ اب ان تمام تناظر میں اس عمل کے آفاقی سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ اپنے تناظر میں تمام آراء درست ہے۔ زندگی کے حقیقی مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے دوئیت کا مقدمہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

اسی تسلسل میں فیڈرک نطشے اپنے مشہور تصنیف Beyond Good And Evil میں لکھتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کا تصور کلچر، تاریخ، معاشرے، نفسیات اور مذہب کی پیداوار ہے۔ بذات خود اچھائی اور برائی، بلیک اینڈ وائٹ کا تصور ان فیکٹرز کے بنا ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف معاشروں میں اچھائی اور برائی یا دوئیت کے تصورات مختلف ہیں۔ انفرادی سوچ کے متعلق لکھتے ہیں کہ انسان کی اپنی پرورش، اس کے معاشرتی اثرات اور یک طرفہ رویوں کی وجہ سے بھی اس دوئیت کا تصور انفرادی عقیدت سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

آگے اپنے مشہور تصور Will to power میں کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسانی اعمال طاقت لینے کا ایک بنیادی وسیلہ ہے جس کو اچھائی برائی کا جامہ پہنا کر آخر میں طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مرد مومن یا عظیم انسان کے باب میں بھی نطشے کا تصور اوبرمیش کا ہے جو اپنی شخصیت اور حالات کے مطابق تاریخ اور روایت کو بالائے تاک رکھ کر فیصلے لیتا ہے۔

فیصلے لیتے وقت مختلف فیکٹر کو دیکھنا اور سب سے اچھا فیصلہ لینا یا حالات کے مطابق لینا اچھائی ہے۔ مثال کے طور پر ایسا فیصلہ جو میرے خیال میں میرے لئے حالات کے مناسبت سے اچھا ہو گا، اگر چہ کلچر، اخلاق (لباس، رہن سہن کی اخلاق) اس کی اجازت نہ دیتے ہو لیکن پھر بھی میں وہ لے لیتا ہوں۔ ایک طرح سے یہ میری اپنی اچھائی کی تعریف ہے جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح یہاں آ کر اچھائی ختم ہوگی کیونکہ میرا فیصلہ اچھائی سے زیادہ میرے لئے بہترین آپشن کہلائے گا یا پھر مناسب رائے۔

اسی طرح جذبات اس دوئی سے ماورا ہے۔ جذبات اچھے اور برے نہیں ہوتے۔ یہ subjective چوائس کے اظہارات ہے۔ خود کی حفاظت بھی اسی کیٹیگری کا حصہ ہے جو کسی قانون میں بھی اچھائی اور برائی میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ تخلیقی صلاحیتیں چاہے کوئی vulgar literature لکھے یا مذہبی کتابیں درج کریں، دونوں درست بھی ہیں اور غلط بھی۔ مزید یہ کہ انسانی کمزوریوں کا علم بھی اس دوئی سے ماورا ہے۔ متضاد احساسات، احساسات، مترادف احساسات، رحم، قہر اور لگاؤ ایسی چیزیں ہے جو اچھائی اور برائی کے بلیک اینڈ وائٹ سکرین پر نہیں آ سکتے۔

اس کی تفہیم دونوں کے بیچ لٹک رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی اچھائی 20 فیصد موثر اور کارآمد ہوگی اور 40 فیصد نقصان دہ ہوگی جبکہ باقی ماندہ 40 فیصد غیر موثر اور غیر نقصان دہ ہوگی۔ اس تناظر میں اچھا کہنا یا برا یا پھر غیر موثر غلط ہو گا۔ یہ فیصلہ اپنی ماہیت میں مفصل ہے۔ اس کو بلیک اینڈ وائٹ نہیں کیا جاسکتا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “دوئیت کا انکار

  • 02/08/2023 at 12:20 شام
    Permalink

    بہت خوب عبدالحق صاحب 🙌🏼❤️

  • 02/08/2023 at 1:33 شام
    Permalink

    ایک دفعہ ایک چور باگ باگ کسی کاہی میں گر گیا وہاں سے کسی شخص کا گزر ہوا تو اس نے جیسے چور کو دیکھا تو اسکی مدد کی چور جب اپر آیا اس نے چاقو نکلا اسے بھی لوٹ لیا،اگے جاکر چور کی موت ہوجاتی ہے،وہی شخص یہ کہہ دیتا ہے کہ ہائے کتنا پیارا نوجوان تھا بس اسکی ایک یہ عادت اچھی نہیں تھی چوری کی اور کاش توڑے دن اور جی لیتا؟ جبکہ چور نے اسکے ساتھ برا کیا تھا لیکن پھر بھی اسکے موت پر وہ خوش نہیں تھا؟

Comments are closed.