مردہ بھائی کا گوشت


میرے اردگرد بالکل اندھیرا تھا ایسا گھپ اندھیرا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ اندھیرے کی وجہ سے میں جگہ کا تعین بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ چلتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی میدانی علاقہ ہو۔ میں نے ایک قدم آگے بڑھایا تو اندھیرے کی شدت میں کچھ کمی ہوئی۔ میں متذبذب سی آگے بڑھی تو مجھے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں ایسے جیسے کوئی وحشی جانور گوشت کے ٹکڑے کھا رہا ہو اور گوشت کے ساتھ لگا خون شڑپ شڑپ چاٹ رہا ہو۔ یہ روح کو خوفزدہ کر دینے والی آوازیں تھی۔ میں نے ڈر کر دو چار قدم پیچھے لے لیے اور اپنی پھولی سانسیں ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن آوازیں مجھے اور قریب محسوس ہونے لگی۔ راستہ مجھے ویسے بھی واضح نہیں تھا اس لیے میں نے آوازوں کا تعاقب کرنے کا سوچا کہ شاید کوئی راستہ نظر آ جائے۔ بند مٹھی میں دوپٹہ دبائے ایک ہاتھ سینے پر رکھے میں نے خود کو تسلی دی اور جی کڑا کر کے قدم آگے بڑھائے۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھتی جاتی تھی اندھیرے کی شدت میں کمی آتی جاتی تھی۔ اور پھر میں ایک ایسی جگہ پہنچی جو سب کی ابدی منزل ہوتی ہے۔ پتہ چلا؟ جی، میں نے خود کو قبرستان میں کھڑا پایا اور میرے سامنے ایک ایسا خوفناک منظر تھا کہ اف! اف میں بیان نہیں کر سکتی وہ اتنا ہولناک تھا کہ میری زبان تالو سے چپک گئی، میں چیخنا چاہتی تھی چیخ نہیں پا رہی تھی میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میرے قدم زمین کے ساتھ جم سے گئے تھے۔

میں نے دیکھا سامنے ایک میت رکھی ہے اور کچھ لوگ اس کا گوشت ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر نوچتے ہیں اور کھا جاتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بہت خوش اور محظوظ دکھائی دیتے تھے۔ مجھے قے آ گئی، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی۔ پتہ نہیں یہ کیسے وحشی جانور تھے! میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن نہیں بھاگ پا رہی تھی اور اچانک وہ جگہ روشنی سے بھر گئی۔ یہ کیا! روشنی میں یہ منظر تو بس حواسوں کو مختل کر دینے والا تھا۔ وہاں ایک سے زیادہ مردے تھے اور کسی مردے کا گوشت مرد اور کسی کا عورتیں کھا رہی تھی۔ جی ہاں! وہ سب انسان تھے میرے جیسے انسان! میں نے ڈر کر ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کی اور میں ایک ایسی میت کے سامنے آ گئی جس کا گوشت کھانے والی عورت کی شکل بالکل میرے جیسی تھی اور میت کی شکل بالکل میرے بھائی جیسی۔ آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس وقت میری حالت کیا تھی یہاں میرے حواسوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں زمین پر لڑ کھڑا کر گر گئی۔

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی میں بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ میں کون سی جگہ پر ہوں۔ میں تو اپنے کمرے میں تھی میرے دل میرے منہ کو آ رہا تھا میں زیر لب استغفار پڑھ رہی تھی کہ میرا ڈر کچھ کم ہو۔ جب میں کچھ حقیقت میں واپس آئی تو میرے کانوں میں ڈاکٹر فرحت کی آواز آئی کہ ”غیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے جیسا ہے“ ”غیبت زنا سے بھی بڑا گناہ ہے“ ۔ شاید امی نے موبائل پر ان کا بیان لگایا ہوا تھا۔ اللہ وہ خواب تھا میں نے خواب دیکھا تھا۔ میرے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہو گئی۔ مجھے یاد آیا کل میں امی کو اپنی کزن کی باتیں بتا رہی تھی جس نے مجھ سے میری پڑھائی کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی اور مجھے میرے مستقبل کے بارے میں کیا کیا ہدایت دیں تھی اور میں امی سے کہہ رہی تھی کہ وہ مجھے ہدایات کیوں دے رہی تھی؟

ان کی اپنے سسرال سے تو بنتی نہیں ہے اس پر وہ توجہ کیوں نہیں دیتی۔ ہر محفل میں میرے پیچھے کیوں پڑ جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم نے پھر سے بہت سی ایسی باتیں دہرائی تھی جنہیں چغلی کی کیٹیگری میں گنا جاسکتا تھا۔ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے کیا کیا لیکن میں نے ان کی چغلی کی۔ یہ سوچتے ہوئے میں بھاگتے ہوئے اپنے بھائی کے کمرے میں گئی وہ کالج کے لیے تیار ہو ریا تھا میں بے اختیار اس کے گلے لگ گئی، بے اختیاری سے اس کے بازو، ہاتھ کو چیک کرنے لگی کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ میرے بھائی نے کہا: کیا صبح صبح پاگل واگل ہو گئی ہو؟ کیا خواب میں کوئی چڑیل چمٹ گئی ہے کیا کر رہی ہو؟ میں بڑبڑائی ”مجھے تم بہت پیارے ہو، بہت پیارے میرے اچھے بھائی! میں تمھارا گوشت نہیں کھا سکتی! اور یہ سنتے ہی وہ امی کو چیخ کر پکارتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔ کہتا جاتا تھا آپی میں چڑیل آ گئی ہے۔ ہاہاہاہا۔ اگر ہم یہ تصور کریں کہ غیبت کرنا اپنے بھائی کے مردہ گوشت کھانے کے برابر ہے۔ یہ عمل جس کے کرنے کے آخر میں ہم ہمیشہ کہہ دیتے ہیں کہ“ ہماری بلا سے وہ جو مرضی کرے، لیکن ویسے اسے یہ کرنا نہیں چاہیے تھا ”۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ہمیں اسے گناہ سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS