اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور: حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ریاست بہاولپور کے نواب صادق محمد خان عباسی نے 1925 ء میں جامعہ عباسیہ ( المعروف بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ) کے نام سے الازہر یونیورسٹی مصر کی طرز پر درس گاہ قائم کی۔ ان کا خواب تھا کہ مصر کی طرح اس یونیورسٹی کا بھی دنیا میں نام ہو اور بہاول پور سمیت پورے جنوبی پنجاب خصوصاً سرائیکی علاقوں کی پسماندگی ختم ہو۔ اس کی سرپرستی کبھی مولانا شمس الحق افغانی شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا احمد سعید کاظمی جیسے جید علماء کیا کرتے تھے 1975 ء میں حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس نے ایک عصری یونیورسٹی کی طرح کام کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان میں اسلامی مدارس کے ساتھ لا تعداد عصری ادارے بھی ہیں۔ جامعہ پنجاب گزشتہ ایک سو سال سے اپنا ایک نام رکھتی ہے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک میں درجنوں یونیورسٹیاں ہیں جنوبی پنجاب میں ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے نام ہیں۔
آئی یو بی، (اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) کے حوالے سے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر ایک سیکنڈل کی بازگشت ہے۔ منشیات اور جنسی معاملات پر مبنی یہ سکینڈل کئی رخ سے بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔ اب تک اس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا وہ یا تو یک طرفہ ہے یا حقائق کو مخصوص زاویے سے سامنے لایا گیا ہے۔ یہ سکینڈل کچھ فیصد بھی سچا ہوتو اسے ایسے سماجی اور اخلاقی آتش فشاں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کے تباہ کن اثرات معاشرے کے بچے کھچے اخلاقی اقدار کے تانے بانے کو ادھیڑ کے رکھ سکتے ہیں۔ یہ سکینڈل ایک ہمہ جہت اخلاقی زوال کا صرف ایک منظر ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے میڈیا اور تعلیمی اداروں میں نقب لگائی۔ فی الوقت اخلاقی زوال پر بحث نہیں کرتے بلکہ اس کے انتظامی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں اور ان وجوہات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں جن کے باعث اچانک یہ آتش فشاں بنا اور پھٹ گیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جولائی 2019 ء میں ڈاکٹر اطہر محبوب کی بحیثیت وائس چانسلر تعیناتی ہوئی، اس وقت یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کی تعداد صرف 13 ہزار تھی جبکہ جولائی 2023 ء میں یہ تعداد غیر معمولی اضافے کے ساتھ 65 ہزار تک پہنچ گئی جن میں طالبات کی تعداد لگ بھگ 28 ہزار ہے۔ چند سال میں 7 فیکلٹیز سے 14 اور 24 ڈیپارٹمنٹس سے 55 تک پہنچنا ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک وقت تھا جب بہاولپور کے بچے اور بچیاں ملتان اور لاہور کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے لیے مارے مارے پھرتے تھے اور پھر وہ وقت آیا کہ لاہور اور ملتان کے طلبا و طالبات اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا رخ کرنے لگے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ نواب صادق محمد خان عباسی کے خواب کی تعبیر موجودہ وائس چانسلر انجینیئر ڈاکٹر اطہر محبوب کے دور میں اس وقت سامنے آئی جب یہ طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان میں پہلے نمبر پر آ گئی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ یونیورسٹی کا ہر شعبہ سر اٹھا کر ملک کے تعلیمی دھارے میں اپنا کردار ادا کرتا نظر آیا۔ یونیورسٹی میں بچوں کی گرومنگ کے لیے شاندار سرگرمیوں کا انعقاد جاری رہا اور خاص بات یہ کہ یہاں سٹوڈنٹس کی ریسرچ اورئنٹیشن کی گئی جو کہ بہت کم تعلیمی اداروں میں دکھائی دیتی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں بہت سے نئے ڈیپارٹمنٹ وجود میں آئے اور ہزاروں نئے لوگ برسر روزگار ہوئے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ موجودہ وائس چانسلر کی شبانہ روز محنت نے کئی دہائیوں سے نمبرون رہنے والی پنجاب یونیورسٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا صرف زراعت کا شعبہ ہی مثال کے لیے کافی ہے۔ یونیورسٹی نے زرعی میدان میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے نہ صرف 25 ارب روپے کی مالیت کے زرعی پراجیکٹس شروع کیے بلکہ اس یونیورسٹی کی تیار کردہ کپاس کی قسم آئی یو بی 13 نے پاکستان میں سب سے زیادہ رقبے پر کاشت ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
حاسدین کو یہ بات پسند نہیں آئی اس لیے اس درسگاہ کو بدنام کرنے کی مذموم مہم شروع ہوئی۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب گورنر نے ڈاکٹر اطہر محبوب کو اسی یونیورسٹی میں بحیثیت وائس چانسلر توسیع دینے کا فیصلہ کیا یہ فیصلہ مخصوص لابی کو ناگوار گزرا جس نے مبینہ طور پر بہاولپور کے ایک بڑے سیاستدان جس نے سینکڑوں ملازم خلاف میرٹ اپنی پسند پر یونیورسٹی میں بھرتی کرائے، کی ایماء پر پہلی قسط کے طور پر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس پر دس گرام آئس نشہ رکھنے کا الزام لگا کر اسے گرفتار کروایا اور سوشل میڈیا کے ذریعے منفی مہم چلائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر سالہا سال سے یونیورسٹی سہراب گوٹھ بن چکی تھی اور نصف لاکھ سے بھی زائد عریاں ویڈیوز بن رہی تھیں تو یہ لوگ پہلے کہاں تھے؟ یہ اچانک اس وقت کیوں سامنے آئے جب وی سی کو سال چھ مہینے کی توسیع مل رہی تھی۔ یونیورسٹی کے خلاف ایک بڑی منظم مہم مخصوص مقاصد کے تحت چلانے والوں کو اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ اس سے یونیورسٹی کے تباہی کا خطرہ ہے اور نام نہاد پروپیگنڈے سے ہزاروں بچوں کے والدین پر کیا بیت رہی ہو گی؟ لگتا ہے کہ مہم چلانے والوں کے اپنے بچے نہیں یا پھر ان کے سینے میں دل نہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مہم چلانے والے پہلے کیوں خاموش رہے؟ بادی النظر میں یونیورسٹی کے اس سکینڈل کی پہلی وجہ وائس چانسلر کی ایکسٹینشن ہے جس کی تصدیق ملک کی ایک بہت بڑی ذمہ دار شخصیت کی جانب سے یونیورسٹی کے خلاف آنے والے اس طوفان کے سلسلے میں سوال کے اس جواب سے ہوتی ہے کہ وی سی نے اچھا کام کر کے اپنا فرض ادا کیا اور اس کام کے بدلے تنخواہ اور دیگر مراعات لیں۔ اب اگر ان کی مدت پوری ہو چکی ہے تو عزت سے گھر جائیں، اس ایکسٹینشن کی مرض نے پاکستان کے بخیے تک ادھیڑ کے رکھ دیے ہیں۔ بدقسمتی سے ناگزیریت کے اس فلسفے نے ملکی اداروں میں طوفانوں کے دروازے کھولے اور حقداروں کو مناصب سے محروم رکھا گیا۔
دوسری وجہ دباؤ میں کی جانے والی بھرتیاں نظر آتی ہیں جو میرٹ کے بغیر ہوئیں۔ اس کی مثال جام سجاد نامی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرری ہے جو اپنی پہلی ملازمت (بطور پی آر او ریسکیو 1122 ) کے دوران جنسی ہراسمنٹ کی شکایت پر محکمانہ انکوائری میں قصور وار پائے گئے تھے۔ جام سجاد نے اس بابت سوال کے جواب میں بتایا کہ عدالت نے ان کو باعزت بری کر دیا تھا جب کہ وی سی اطہر محبوب پریس کانفرنس میں اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے کہ جنسی ہراسانی میں ملوث شخص کو یونیورسٹی میں نوکری کیوں دی گئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر عدالت نے جام سجاد کو بری کیا تو بری ہونے کے بعد جام سجاد نے 1122 کی نوکری کیوں چھوڑی؟
تیسری وجہ وی سی اطہر محبوب کا ناجائز پریشر کے آگے سرنڈر کر نا دکھائی دیتا ہے اندرونی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ پریشر کے باعث انہوں نے یونیورسٹی کے اصولوں کو قربان کیا اور مختلف با اثر صحافیوں اور ان کے بچوں کو اکاموڈیٹ کیا۔ جام سجاد کی طرح کسی نے ان کے خلاف کالم لکھا تو اسے نوکری دے کر اس کا منہ بند کر دیا گیا۔ اسی طرح ادارے میں پڑھانے والے لاتعداد اساتذہ نے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے سیاستدانوں اور صحافیوں کے ذریعے وی سی کو انڈر پریشر رکھا۔ یہی احباب ان کی اذیت کا موجب بنے ہیں جنھیں ”بے روزگار“ سمجھ کر میرٹ سے ماورا نوکریاں دیں، انہی لوگوں نے آج ان کی عزت کا جنازہ نکال دیا۔
چوتھی وجہ بعض معلومات کے ذریعے یہ بھی سامنے آئی ہے پروموشن میں بے ضابطگیاں کی گئیں اس کی مثال میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں سب سے زیادہ اور بین الاقومی معیار کا گریڈ رکھنے والے ٹیچر ڈاکٹر گیلانی کو پروموشن میں ویٹنگ لسٹ میں رکھ کے تین لوکل گریڈ کے حامل ٹیچرز کو ترقی دینا ہے جن میں سے ایک ٹیچر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے علاوہ ایک ٹی وی چینل پر بھی ملازمت کرتے ہیں اور بیک وقت دو نوکریاں کر رہے ہیں۔ وی سی اطہر محبوب اس سلسلے میں جواب دینے سے گریزاں رہے۔ اسی طرح طرح ایک وجہ مالی بے ضابطگیوں سے اغماض برتنا معلوم ہوتا ہے۔ یونیورسٹی میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جب رئیس ادارہ رخصتی پر مادر علمی نیب کی آماجگاہ ہو گی کیونکہ وی سی کے پی اے اور کچھ اور لوگ مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں جن کے متعلق سابق ٹرانسپورٹ انچارج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے کہ کئی بار اس کرپشن کے بارے میں براہ راست وی سی کو آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ جو مافیا ”بڑی واردات“ میں پکڑا گیا ہے وائس چانسلر اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے جب سے وہ جامعہ کے تخت پر برا جمان ہوئے ہیں میڈیا کی وساطت سے خود نمائی میں مصروف رہے اسی لیے جامعہ میں وارداتیوں کو جگہ دی گئی جس سے انتظامی معاملات پر ان کی گرفت کمزور ہوتی گئی۔ اس لئے منشیات کا دھندا کرنے والے بھی اس مادر علمی کے طالب علم قرار پائے۔ اسی طرح غلطیوں کی پردہ پوشی وہ تحائف دے کر کرتے رہے۔ بہرحال بعد از خرابی بسیار اطہر محبوب ریٹائرڈ ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ نئے وائس چانسلر کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ کاش وہ ایکسٹینشن کے لیے بھاگ دوڑ کرنے کے بجائے بروقت ریٹائرمنٹ قبول کر لیتے تو انہیں بھی یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی یونیورسٹی پر یہ افتاد آتی۔


