بچوں کے خلاف جنسی تشدد


آج بی بی سی پر ایک بجلی کی سی گزرنے والی رپورٹ پڑھی جس کے مطابق، 2023 کے پہلے ساڑھے پانچ ماہ میں پنجاب بھر سے 1390 بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ مزید یہ کہ صوبہ پنجاب میں بچوں کے خلاف ریپ کے 55 فیصد واقعات میں ہمسائے ملوث تھے! مدنظر رکھیے یہ پاکستان کے صرف ایک صوبہ کی رپورٹ ہے۔ کتنے واقعات ایسے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے ہوں گے! پنجاب کے اکثر دیہی علاقوں میں یہ قبیح فعل معصوم بچوں سے، انہیں کسی شے کا لالچ دے کر یا بہلا پھسلا کر کیا جاتا ہے۔

مجھے یاد پڑھتا ہے کہ ضلع چکوال کے ایک دیہات میں ایک بچے کو چار پانچ لڑکوں نے مل کر نوچا تھا، اور وہ لڑکا کئی دن تک سہما رہا۔ بالکل خاموش! کافی دنوں بعد اسکول میں اس کا والد نیچی نگاہوں کے ساتھ اسے چھوڑنے آیا اور یہ واردات سامنے آئی۔ حضور ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ لیکن ہمارے ہاتھوں سے نہ تو بچے محفوظ ہیں اور نہ بچیاں۔ اگر ہمیں زندہ نہ ملیں تو ہم قبریں کھود دیتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ پوری ملت کی ترجمانی کا بیڑا بھی ہم نے اٹھایا ہے اور مسلمان کون ہے اور کون نہیں۔ یہ بھی ہم طے کرتے ہیں۔ اب کچھ باتیں جرم کے سدباب کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ ہمارے والدین کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت کو ہر لحاظ سے بہتر بنائیں۔ سیکس ایجوکیشن فراہم کی جائے۔ اگر والدین بلاوجہ کی جھجک پالتے ہیں تو ریاستی ادارے ان واقعات سے کوئی شرم کھاتے ہوئے، اس ضمن میں بہتر تربیت گاہیں مہیا کریں۔ علیحدہ سے اگر وہ یہ ادارے نہیں قائم کر سکتے تو تعلیمی اداروں میں ہی متعلقہ اساتذہ کی بھرتی کریں اور سیکس ایجوکشن کو ہدف بنائیں۔

اب کچھ باتیں ہمارے خاندانی ماحول کے ذیل میں ہیں۔ جب جائنٹ فیملی کے دو منزلوں کے 3 سے 5 مرلہ کے تنگ و تاریک سیلن زدہ گھروں میں ہر ایک جوڑی نے پانچ سات بچوں کی لائن لگائی ہوگی؛ اور جب وہی والدین اپنے کمروں میں سکون کے لیے بچوں کو گلیوں سڑکوں پر آوارہ گردی کے لیے چھوڑ دیں گے اور قبر نما گھروں کی گھٹن سے تنگ بچے بھی گلیوں سڑکوں پر کھیلنے میں خوش ہوں گے، تو ایسے حالات میں یہ بچے محلہ داروں اور راہ گیروں کی جنسی تسکین کا نشانہ بنیں گے اور یہی بچے خود بھی کل کو جنسی مجرم بنیں گے۔

مزید یہ کہ جب ایک ہی کمرے میں والدین اور 5 سے 7 بچے زندگی گزارتے ہوں گے تو وہ مزید بچے پیدا کرنے کی والدین کی کرتب بازی کا مشاہدہ بھی کرتے ہوں گے۔ ایسے میں جنسی تحفظ اور حیا کا احساس ہونا مفقود ہے۔ جب ایک ہی کمرے میں چھ سات بچے ہوں گے وہ بچے اپنے تجسس میں دوسروں کی جنسی تسکین کا مفعول بنیں گے۔ لہٰذا بچے اتنے پیدا کریں جتنوں کو اچھا معیار زندگی دے سکیں۔ ایک صاحب بتا رہے تھے ”کراچی میں ایک کمرے کے بہت فلیٹ ہیں جہاں پرائیویسی کا تصور نا ممکن ہے“۔ چادر دیکھ کے پاؤں پھیلائیں۔ ہمیں کھیتی دیکھ کے دانہ ڈالنے پر توجہ دینی چاہیے۔

Facebook Comments HS