میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا
مرشد افتخار عارف ہی نہیں اب تو پوری قوم ہی ننگے سر ننگے پیر کھلے آسمان کے نیچے مہنگائی، بدامنی کی جھلستی ہوئی دھوپ میں بار بار اوپر دیکھ کر التجا کرتے ہوئے سوال کر رہی ہے کہ میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا۔ تبدیلی سرکار سے شروع ہونے والا منصوبہ وقت سے پہلے اپنے اختتام کو پہنچا مطلب جتنی جلدی تعمیر ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ جلدی میں اختتام ہوا۔ سیانے، منجھے ہوئے کھلاڑی جمع ہوئے اور سینہ ٹھونک کر کہا کہ سیاست نہیں ریاست بچانے نکلے ہیں۔ درست کہا تھا ریاست تو نادہندہ ہونے سے بچ گئی مگر سیاست نہیں بچا سکے۔ نیک نامی اور کارکردگی کے جو چند سکے ہاتھوں میں بچے تھے وہ بھی ایک ڈیڑھ سال میں خرچ ہو گئے اب کارکردگی اور ریزگاری کے نام پر دامن اور جیب میں کچھ نہیں بچا۔ مدت حکومت ختم ہونے میں اب سال یا مہینے نہیں چند دن باقی ہیں
عوام کے پاس کیا بیانیہ لے کر جائیں گے کہ کیوں حکومت لی تھی اور کیا جس مقصد کے لیے حکومت لی تھی کیا وہ مقصد پورا ہو گیا کیا عوام کی حالت بدل گئی ہے کیا ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے کیا اب مزید قرض نہیں لیں گے کیا اب ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں گے۔ چلیں یہ سب نا سہی کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری طرز حکمرانی تبدیلی سرکار سے بہتر تھی کیا یہ دعویٰ کرسکیں گے کہ ہم نے اقربا پروری کی بجائے میرٹ کو ترجیح دی۔ کہا ناں کہ کچھ نہیں بچا۔ تہی دست ہونا کس قدر اذیت ناک ہے اس کا احساس پی ڈی ایم کی حکومت کو اگست میں ہو گا۔ اس بات کا بھی احساس ہو گا کہ جس جوڈیشل صادق و امین کی سیاست آخری سانس لے رہی تھی کو اقتدار سے بے دخل کر کے ایک نئی زندگی دے کر غلطی کی ہے۔ ایک ایسی غلطی جس کا مداوا شاید ممکن نا ہو۔
اب ملکی سیاسی منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ کپتان کا فی الحال مستقبل قریب میں واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جن کا امکان ہے وہ مخمصے کا شکار ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہو گا۔ آ بھی پائیں گے یا نہیں اور اگر آ گئے تو کیا کریں گے جو وعدے عالمی مالیاتی اداروں سے کر چکے ہیں کیا ان کو پورا کرسکیں گے اور اگر کیا تو اس پر ممکنہ عوامی ردعمل کیا ہو گا۔ اور اگر واپس نا آ سکے تو اس ساری محنت کا کیا ہو گا جو گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں کی ہے۔ فی الوقت افواہیں گرم ہیں کہ نگران حکومت نوے دن کے لیے نہیں بلکہ طویل مدت کے لیے ہوگی اور ان افواہوں کو تقویت اس قانون سازی سے ملی ہے جو موجودہ حکومت نے نگران وزیراعظم کے اختیارات میں اضافہ کے لیے کی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ آئین اور قانون کی دی گئی مدت کے دوران ہی عام انتخابات ہوں اور اگر ایسا نا ہوا تو پھر ایک ہی حمام میں ساری سیاسی جماعتیں جمع ہوں گی۔
ویسے کتنا دلچسپ نظارہ ہو گا کہ الیکشن کسی وجہ سے التوا کا شکار ہوں اور سیاسی جماعتیں ایک گول میز کانفرنس کر کے الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کریں اور تمام سیاسی قائدین بشمول کپتان ایک ہی میز پر بیٹھ کر میڈیا سے گفتگو کریں یعنی ایک ایسا منظر جس میں محمود اور ایاز ایک ہی صف میں بیٹھے ہوں۔ امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا اور ہر چیز قانون کے مطابق ہوگی مگر وطن عزیز میں کچھ بھی ہو سکتا ہے تو اگر ایسا ہوا تو یاد رکھیئے کہ مولانا کے بیان کی تائید کپتان کر رہا ہو گا اور کپتان کے مطالبے کی حمایت پی ڈی ایم کر رہی ہوگی۔ گویا سیاست کی عاشقی میں جو تھوڑی بہت عزت کمائی بھی ہوگی وہ بھی جائے گی۔ مگر اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ معذرت کے ساتھ یہاں سیاست عوامی خدمت نہیں خاندانی خدمت کی خاطر کی جاتی ہے۔ جس دن عوامی خدمت کا موقع آیا تو پتہ نہیں کیوں یہ لگتا ہے کہ پھر یہ لوگ مسند پر نہیں ہوں گے کوئی نئے چہرے ہوں گے
ویسے ان دنوں نگران وزارت عظمی کے لیے کسی نئے چہرے کی تلاش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری تقدیروں کے مالک کس چہرے کا انتخاب کرتے ہیں کون سا چہرہ ہے جو نگران وزیر اعظم بنے گا اس ضمن میں کئی نام زیر غور ہیں کچھ ایسے ہیں جن کا علم عوام کو ہے جبکہ کچھ نام بند کمروں میں سرگوشیوں میں لیے جا رہے ہیں تاکہ کسی کو علم نا ہو سکے۔ اگر اتفاق رائے ہو گیا تو ٹھیک وگرنہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے۔ امید ہے کہ نگران وزیراعظم کا متفقہ نام سامنے آ جائے گا کیونکہ اسی میں سب کی بقا ہے۔ اب نگران وزیراعظم کام کیسے کرتا ہے تو عزیزان گرامی اس کا فیصلہ بہرحال وہی کریں گے جن کے ہاتھ میں اقتدار اعلیٰ ہے۔
حرف آخر یوں کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ نگران حکومت آئندہ عام انتخابات کا انعقاد کرے گی اور اس ضمن میں بے یقینی پائی جا رہی ہے کہ شاید انتخابات مقررہ وقت پر نا ہوں۔ رہی بات کپتان کی تو فی الوقت واپسی نہیں ہے اور جو باہر بیٹھے ہیں ان کی واپسی کے بھی امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔ اب اگر نگران وزیراعظم آتے ہی ملکی معیشت کی بات شروع کردے تو اس میں اچنبھے کی بات نہیں ہوگی مطلب واضح ہو گا کہ ایجنڈا انتخابات نہیں ملکی معیشت کو درست کرنا ہے اور اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ تب تک سیاسی جماعتوں کی حلقہ جاتی سیاست پر توجہ مرکوز رہے گی اور نگران ہر چیز کی نگرانی کریں گے۔ کپتان کی طرح موجودہ حکومت نے بھی کچھ قانون سازی ایسی کردی ہے جو کل ان کے گلے کی ہڈی ثابت ہو سکتی ہے مگر مجبوری تھی یہ قانون سازی کرنی تھی۔ اب اس سارے سیاسی منظر نامے میں عوام کا کیا ہو گا جس کی خاطر یہ سب دھمال چوکڑی مچی ہوئی ہے تو خاطر جمع رکھیں مہنگائی، بے روزگاری اسی طرح ہوگی زندگی اسی طرح مشکل ہوگی جیسی ماضی میں رہی اور آج کل ہے۔ مطلب غریب کے دن نہیں بدلنے والے اور یہی تماشا لگا رہے گا اور عوام پکارے گی کہ میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا۔


