کون بنے گا وزیر اعظم؟


ان دنوں وطن عزیز میں ایک موضوع بہت زیر بحث ہے کہ ملک کا۔ اگلا وزیر اعظم کون ہو گا؟ خواہش مند افراد کی ایک لمبی فہرست ہے جو وزارت عظمیٰ کے امید وار ہیں۔ ایک کرسی ہے جس پے ہر سیاسی جماعت کا قائد خود بیٹھنا چاہتا ہے۔ قائد کی تو سمجھ آتی ہے کہ بحیثیت سربراہ کے یہ اس کا حق ہوتا ہے یہاں تو قائدین کے گھر کے افراد بھی اس چکر میں ہیں کہ ملک کی وزارت عظمیٰ ان کے حوالے کر دی جائے۔ اوپر سے سیاسی جماعتوں کے ورکرز کا یہ حال ہے کہ روز اپنے قائدین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دعوے کرتے رہتے ہیں کہ اگلا وزیر اعظم انہی کی جماعت کا لیڈر ہو گا۔ اب حالت یہ ہے کہ ایک انار اور سو بیمار ہیں۔ بہرحال وزیر اعظم تو کسی ایک نے ہی بننا ہے۔ وہ ایک خوش نصیب کون ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وزارت اعظمی کی خواہش نے اس وقت ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رکھی ہے۔ عمران خان نواز شریف بلاول بھٹو شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین اور مریم نواز تک سب وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ جو شخص بھی قومی اسمبلی کا انتخاب لڑتا ہے اس کی خواہش یہی کرسی ہوتی ہے۔ امیدواران کی ایک لمبی قطار دیکھ کر ہمارے ذہن میں کچھ ایسی تجاویز آئی ہیں جن پر عمل کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ افراد کو یہ موقع فراہم کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس منصب پر فائز ہو کر اپنے خاندان کی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ ہماری تجاویز قابل عمل بھی ہیں بس ان کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی یہ ممکن نا ہو تو صدارتی آرڈیننس کا راستہ تو موجود ہے ہی جس کے ذریعے جو چاہے جب چاہیے کچھ بھی نافذ کرا سکتا ہے۔

پہلی تجویز تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ہر منتخب امیدوار کو ایم این اے کے بجائے پی ایم کہا جائے۔ ہمارے یہاں اسمبلیوں میں بڑے سیاسی قائدین اپنے کنبے کے ساتھ پہنچتے ہیں چنانچہ سب قائدین کی بیویاں بچے داماد بہویں چاچا مامے سمدھی سب کے سب پی ایم کہلائیں گے اس طرح خاندان کے تمام افراد کی وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری ہو سکے گی۔

ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ملک کے ہر صوبے کے معاملات دیکھنے کے لیے الگ وزیر اعظم ہو۔ یہ اس صورت میں زیادہ فائدہ مند ہو گا جب وفاق میں اتحادی جماعتوں کی حکومت بنے گی۔ اس سے یہ ہو گا کہ جس جماعت کی حکومت ایک صوبے میں ہو گی اسی جماعت کا وزیر اعظم وفاق کی طرف سے اس صوبے کے معاملات دیکھے اس طرح صوبوں کو وفاق سے کوئی شکایت نہیں ہو گی اور سب اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرسکیں گے۔ اور خاندان کے زیادہ سے زیادہ افراد وزارت اعظمی کے مزے لوٹ سکیں گے۔

اگر کچھ لوگ بیک وقت زیادہ وزرا ء اعظم پر اعتراض کریں تو یہ کام کیا جاسکتا ہے کہ کم سے کم دو وزیر اعظم منتخب کر لیے جائیں۔ ایک اندرونی وزیر اعظم دوسرا بیرونی وزیر اعظم۔ اندرونی وزیر اعظم ملکی کے اندرونی معاملات دیکھے اور بیرونی وزیر اعظم خارجی معاملات دیکھے۔ بیرونی وزیر اعظم میں چاہیں تو ایک اور کی گنجائش بھی نکالی جا سکتی ہے ایک وزیر اعظم اسلامی ممالک سے تعلقات اور معاملات کو دیکھے اور ایک غیر اسلامی ممالک سے روابط استوار کرے۔ ذرا سوچیں جب ہمارے دو وزرا ء اعظم بیک وقت دنیا بھر کے ممالک کے برق رفتار طوفانی دورے کریں گے تو ملک کو اس کے کتنے سفارتی فوائد حاصل ہوں گے ہماری سفارتی تنہائی دور ہو گی دنیا بھر سے پیسہ پاکستان میں آئے گا اور ساری سیاسی خاندانوں کی پہلے سے موجود بے تحاشا دولت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اور ان کی نسلیں غریب عوام کو دعائیں دیتی رہیں گی۔

زیادہ سے زیادہ منتخب اراکین اسمبلی کو وزارت اعظمی کے مزے لوٹنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک کام یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کا تقریر جز وقتی طور پر کیا جائے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں کسی ایک وزیر اعظم نے بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی ہے پونے چار سال سے لے کر چالیس دن تک کا وزیر اعظم اس قوم نے بھگتا ہے جب کوئی وزیر اعظم پانچ سالوں تک ٹکنے ہی نہیں دینا تو پھر سال دو سال کے لیے ہی وزیر اعظم مقرر کر لیے جایں۔ ایک اتحادی حکومت میں جتنے روز وزارت عظمیٰ کے امید وار ہوں اسی حساب سے مدت طے کر لی جائے۔ کم سے کم پانچ امید وار ہوں تو سالانہ کی بنیاد پر ایک ہو اور اگر خواہش مندوں کی تعداد زیادہ ہو تو ششماہی سہ ماہی پندرہ روزہ ہفت روزہ اور تعداد بہت ہی زیادہ ہو تو روزانہ کی بنیاد پر بھی وزیر اعظم مقرر کیا جا سکتا ہے تاکہ وطن عزیز کے ہر سیاسی خاندان کا ہر فرد وزیر اعظم بننے کا شوق پورا کر سکے۔ جب وزارت اعظمی کے تمام خواہش مند اپنی دل کی مراد پوری کر چکیں گے تو ظاہر ہے وہ فوری طور پر بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے جہاں انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے جائیدادیں بنا رکھی ہوتی ہیں۔ جب یہ سارے وزرائے اعظم بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے تو ملک میں نا انتخابات کا شور اٹھے گا نا ضرورت رہے گی اور عوام کچھ عرصے تک سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ رہی بات کہ انتخابات اور وزیر اعظم کے بغیر کاروبار مملکت کیسے چلے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ملک وہی لوگ چلائیں گے جو وزیر اعظم کی موجودگی میں بھی چلاتے ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید ہمارا دماغ خراب ہو گیا ہے جو ایسی نامعقول اور ناقابل عمل تجاویز دے رہے ہیں جن کا نا کوئی سر ہے نا پیر۔ ایسا بھلا کہاں ہو سکتا ہے؟ لیکن جناب ہونے کو اس دنیا میں اور خاص طور پر اس ملک میں کیا نہیں ہو سکتا۔ اس ملک نے منتخب وزیر اعظم اور نگران وزیر اعظم کے علاوہ ڈپٹی وزیر اعظم تک دیکھا ہے جس کا آئین میں ذکر تک نہیں ہے۔ کرنے والے جب کرنے پے آتے ہیں تو بقول شاعر

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

تو جناب مملکت خداداد میں اشرافیہ جو چاہیے جس وقت چاہیے بن سکتی ہے یہ تو ہم عوام ہیں جو صرف ایک چیز بن سکتے ہیں۔ بے وقوف۔

Facebook Comments HS