سونے کی بالیاں


عید کی صبح تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک، گالوں پر ہلکا سا غازہ، اور پلکوں پر مسکارے کی ہلکی سی تہہ تھی۔ وہ بہت کم میک اپ پسند کرتی ہے۔ چوڑیاں، مہندی، لمبے بندے کبھی بھی اس کی ترجیحات نہیں رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ کم لیکن ایلیگنٹ پہننا چاہتی ہے۔ بھلے کپڑے ہوں، زیور ہوں یا جوتے۔ آج بھی اس کا یہی ارادہ تھا۔ موقع کی مناسبت سے معمول سے ہٹ کر تیار بھی ہونا تھا۔ مزاج کا احساس بھی تھا اور گاؤں میں رہنے والی گرمی کا خیال بھی تھا۔ موسم کیسا بھی ہو، وہ ہر تہوار پر کچن کا کام تیار ہو کر کرتی تھی۔ ماسی بن کر اس خاص دن کو گزارنا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا۔ سال میں ایک دفعہ آنے والے اس دن کا ہر پہلو عام سے مختلف ہونا اسے منظور تھا۔

اس بار وہ بہت چیزیں ہمراہ نہیں لائی تھی۔ پیکنگ کا وقت کم تھا، اس لئے میچنگز ضروریات رہ گئی تھیں۔ کلائی پر اس نے گھڑی باندھی تھی۔ گلے میں ایک بڑا لاکٹ، ہاتھ میں انگوٹھی۔ لیکن کان ابھی تک خالی تھے۔ کچھ بھی لباس سے ملتا وہ ڈھونڈ رہی تھی اور پورے پاوچ میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ سوچ ہی رہی تھی کہ پرس میں سے ایک چھوٹا ٹرانسپیرنٹ پیک نکلا۔ جس میں سونے کی کچھ چیزیں تھیں۔ اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ جلدی جلدی اسے کھولا، تو سونے کی سادہ گول بالیاں اندر تھیں۔ جو اس کے ہلکے کریم رنگ والے سوٹ جس پر گرے اور گولڈن دھاگوں کی نازک سی کڑھائی تھی، کے ساتھ خوب جچ سکتی تھیں۔ خوشی کے ساتھ محبت اور کھونے کے سبھی جذبات اس پر حاوی ہو گئے۔ اور ذہن کچھ سال پہلے کے مناظر کی طرف چلا گیا۔

جہاں ایک درمیانے قد کی عورت ایک بڑے سے گھر میں کبھی مٹی کی ہانڈی میں کھانا پکا رہی ہے۔ کبھی صحن میں آٹا گوندھ رہی ہے۔ کبھی علی الصبح مشین لگا کر کپڑے دھو رہی ہے۔ کبھی دالان میں بیٹھی دودھ بلو رہی ہے اور کبھی لونگ روم میں چارپائی پر بیٹھی رات سونے سے پہلے کولڈ کریم کا مساج ہاتھوں اور پیروں پر کر رہی ہے۔ کبھی وہ گھر کے پچھلے حصے میں لگے واشن بیسن میں منہ اندھیرے وضو کی تیاری کر رہی ہے۔ کبھی وہ اگلے برآمدے میں بیٹھی گندم صاف کر رہی ہے۔ کبھی اسی جگہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ ‘گھوڑی’ پر ہاتھ سے بننے والی سویاں بنا کر دھوپ میں سکھا رہی ہے۔ اور ان ساری بدلتی یادوں میں جو چیز مستقل ہے، وہ اس خاتون کا چہرہ، ناک کا لونگ، بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں انگوٹھی، کانوں میں گول بالیاں، اور ہاتھوں، ناخنوں پر ہمہ وقت لگی مہندی ہے۔ زیور کے یہ چھوٹے چھوٹے سبھی آئٹمز سونے کے ہیں۔

کئی سال پہلے اس خاتون نے یہ بالیاں جب بنوائی تھیں۔ تو اس لڑکی کے لئے بھی سائز میں تھوڑی چھوٹی خریدی تھیں۔ جو جامعہ کی پڑھائی کے تیسرے سال جب اس نے کان چھدوائے تھے تو اسے دی تھیں۔ جسے اس نے زلزلے کے دنوں میں کانوں سے اتار کے ریلیف فنڈ میں دے دیا۔ بنا پوچھے، بتائے۔ اس کے بعد چھٹیوں میں جب گھر جانا ہوتا، خالی کان دیکھ کر وہ خاتون سوال کرتی، وہ لڑکی آگے سے خاموش رہتی یا ٹال مٹول کر دیتی۔ لیکن پھر آخر ایک دن اسے بتانا پڑا۔ غلط بیانی وہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اور سچ بتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تاسف، حیرانگی اور پھر تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا والی نظروں سے اس نے لڑکی کو دیکھا۔ اور مہینوں بعد پھر اسے ویسی ہی بالیاں پہننے کو دے دیں۔ جو اس کے ساتھ اگلے کئی سالوں تک رہیں۔ حتی کہ اس کے ‘سٹاپر’ کا ایک سونے کا ٹکڑا ٹوٹ کر کہیں گم ہو گیا۔ تب اس لڑکی نے انھیں بیچ دیا کہ وہ جڑ اور استعمال نہیں ہو سکتی تھیں۔ جس جواہری نے انھیں خریدا تھا، اس نے بھی بے ساختہ کہا، باجی اتنا خالص سونا۔ لیکن اس خاتون کی وہ بالیاں نہ کبھی ٹوٹیں، نہ کبھی اتریں سوائے ایک بار کے۔

جب اس کی زندگی کے آخری ایام قریب آگئے۔ اور اس کو برین ہیمرج ہو گیا۔ پندرہ دن بے ہوشی کے گزار کے وہ راہی عدم ہوئی۔ تو آخری رسومات کے بعد، اس کے شوہر نے کہا کہ خاتون مرنے سے پہلے تاکید کر گئی تھی۔ چونکہ اس کی اولاد زیادہ ہے اور سونے کے زیور اس کے برائے نام تو انگوٹھی اس کی اکلوتی بہو کو دے دی جائے کہ اس کے میکے نے تحفہ دی تھی۔ تو وہی اب اس کی اصل حقدار ہے۔ باقی میری ساری ناک کی لونگیں اور بالیاں فروخت کر کے جو رقم ملے، وہ مسجد کو صدقہ کر دی جائے۔ تاکہ میرے بچوں میں ان کی وجہ سے اختلاف نہ ہو۔ اس لئے میں نے سوچا کہ تم سب کو بتا دوں اگر کسی نے رکھنی ہیں تو خرید لے۔ تب بے اختیاری میں اس کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے :
‘یہ میں رکھ رہی ہوں۔ آپ بازار سے قیمت لگوا لیں’۔
یہ بھی نہیں سوچا کہ اتنے پیسے پاس ہیں کہ نہیں۔ اس لمحے بس یہ احساس غالب تھا کہ اگر یہ اب کسی اور کے ہاتھ بک گئیں تو پھر کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ جواہری سے قیمت لگ کے آئی تو بالیاں اس کو مل گئیں۔ اور پیسے اس نے دو ماہ بعد ادا کئے۔

اس دن سے یہ بالیاں ایک چھوٹے ٹرانسپیرنٹ ڈبی میں بند اس کے جیولری بیگ میں پڑی رہتی ہیں۔ جو تقریبا سبھی سفروں میں اس کے پاس ہوتا ہے۔ بہت کم وہ انھیں پہنتی ہے۔ لیکن ہاں! اکثر و بیشتر وہ اس ڈبی کو کھولے دیکھتی ہے تو لگتا ہے وہ عورت، اس کا لمس، اس کی خوشبو، اس کا وجود زندہ ہو کر اس کے اردگرد حرکت کرنے لگا ہے۔ بات کرنے لگا ہے۔ وہی مہندی سے رنگے ہاتھ اور ناخن اس کے سر کا مساج کرنے لگے ہیں۔ وہی ٹپوں (پنجابی گیت کی ایک شکل) کی آواز گنگنانے لگی ہے۔ وہی تندور میں بنے سرخ پراٹھوں کی مہک جاگ رہی ہے۔ وہی دہی کو بلوتے کان کی بالیاں ہلنے لگی ہیں۔ وہی ‘آملیٹ بنادو’ کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ اور جب بہنیں یہ پوچھیں کہ وہ بالیاں کبھی پہنی نہیں دیکھیں، تمہارے پاس ہیں یا وہ بھی گم کر دیں۔ تو وہ یقین دہانی کرواتی کہ وہ محفوظ ہیں۔ اگرچہ ایک چیز کے طور پر وہ سب بہنوں میں سے اس کے پاس تھیں لیکن اسے معلوم تھا کہ سبھی کو یہ اپنی اپنی جگہ تسلی تھی کہ اس عورت کی نشانی ان میں سے کسی ایک کے ہاں ہے۔

لیکن وہ انھیں یہ نہیں بتا پاتی تھی کہ صرف ان بالیوں کو دیکھنے پر اس کی ذہنی و جذباتی حالت یہ ہوتی ہے تو پہننے پر تو اسے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ اس کا دل پگھل کر ہتھیلی پر آجائے گا۔ اس کی آنکھ کی نمی تب مستقل ہو جاتی ہے۔ آنسوؤں کا گولہ حلق میں پھنسا رہتا ہے۔ اور انھی وقتوں میں اسے ان سب لڑکیوں اور خواتین کی کیفیت کا ادراک شدت سے ہوتا ہے جن کے جہیز کی کوئی چیز جب ٹوٹتی اور خراب ہوتی ہے تو وہ زار زار روتی ہیں۔ پریشان پھرتی ہیں۔ حالانکہ ان کو بنانے اور خریدنے میں صرف ان کے والدین اور میکے کی محنت، وقت اور پیسے خرچ ہوئے ہوتے ہیں۔ جب کہ ان بالیوں کو تو اس کی ماں نے برتا تھا۔ اس کی شخصیت کا حصہ رہی تھیں۔

وہ ماضی کے انھی بھول بھلیوں میں گم تھی۔ بالیاں ہاتھ میں پکڑ رکھی تھیں۔ کہ کمرے سے باہر اسے پکاریں پڑنے لگیں۔ اس نے جھٹ سے وہ بالیاں کانوں میں پہنیں۔ آئینے میں خود کو دیکھا اور باہر کو چل دی۔ آج کی عید پر، ماں ‘سونے کی بالیوں’ کی صورت اس کے ہمراہ تھی۔

Facebook Comments HS