جب محمد رفیع آخری سفر پر روانہ ہوئے


محمد رفیع کی 43 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر

اس برس 31 جولائی کو دنیائے موسیقی کے عظیم ترین گائیک محمد رفیع کو ہم سے بچھڑے 43 برس ہو گئے ہیں۔ لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود رفیع کی ہردلعزیزی میں سر مو فرق نہیں آیا بلکہ ان کے مداحوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی رہی ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ محمد رفیع برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے اور مقبول ترین گلوکار تھے۔ برصغیر میں موسیقی کی روایت نہایت درخشاں ہے اور گانے والوں میں ایک سے ایک عمدہ فنکار اس خطے نے پیدا کیا ہے لیکن محمد رفیع کا مقام و مرتبہ سب سے بلند تھا اور آج بھی ہے۔ محمد رفیع کی حیات اور گائیکی کے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں ایک کتاب ایسی بھی ہے جو ان کی بہو، یعنی ان کے بیٹے خالد رفیع کی اہلیہ یاسمین خالد رفیع نے لکھی تھی۔ Mohd Rafi: My Abba۔ A Memoir نامی یہ کتاب کچھ سال پہلے جب شائع ہوئی تو پہلی بار رفیع صاحب کی زندگی کے آخری دن اور پھر موت کا احوال پڑھنے والوں کو معلوم ہوا۔ یاسمین خالد کی یہ کتاب بالکل سادے اور غیر ادیبانہ اسلوب میں لکھی گئی ہیں لیکن بعض ایسی تفصیلات فراہم کرتی ہے جو صرف گھر کے لوگ ہیں بیان کر سکتے تھے۔ ذیل کے مضمون کا ماخذ یہی کتاب ہے۔

جمعرات 31 جولائی 1980 کو صبح 9 بجے بمبئی (اب ممبئی) میں واقع رفیع صاحب کے گھر ’رفیع ولا‘ میں گانے کی ریہرسل تھی۔ بنگالی موسیقار شیامل مترا انہیں ایک بنگالی گیت کی ریہرسل کرا رہے تھے۔ ایک گھنٹے بعد ، قریباً دس بجے ریہرسل ختم ہونے پر وہ رخصت ہو گئے۔ رفیع صاحب کے سیکریٹری اور ساتھی ظہیر باری جو ان کے سالے بھی تھے، ہر صبح سات بجے رفیع ولا آ جایا کرتے تھے اور سارا دن رفیع صاحب کے ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے، چاہے ریکارڈنگ ہو، ریہرسل ہو، پروگرام ہو یا پھر کوئی اور کام۔ خالی وقت میں وہ رفیع صاحب کو دنیا بھر کے قصے سنایا کرتے۔ رفیع ولا میں ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد ظہیر باری کے زوردار قہقہوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ ان کو خوش نویسی کا بھی شوق تھا اور ان کی لکھائی بے حد خوبصورت تھی۔ وہ رفیع صاحب کی ڈائری میں اردو رسم الخط میں گانے لکھ کر ریکارڈنگ کے لیے دیا کرتے تھے۔ ظہیر باری اور رفیع صاحب کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ وہ رفیع صاحب کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔ لمبا قد، گہرا رنگ، کافی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایکٹر راجیندر کمار کے بہت بڑے مداح تھے۔ یہاں تک کہ ان کے لباس اور رہن سہن میں بھی راجیندر کمار کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ خود کو وہ کسی ہیرو سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ انہیں فلموں میں کام کرنے کا بھی شوق تھا۔ انہوں نے سن 1950 سے بطور سیکریٹری رفیع صاحب کا کام سنبھالا ہوا تھا۔ دونوں کے مزاج میں اگرچہ ہر لحاظ سے زمین آسمان کا فرق تھا تاہم اس کے باوجود بھی انہوں نے رفیع صاحب کے ساتھ ان کی آخری سانس تک کام کیا۔ ساری فلم انڈسٹری یہ بات جانتی تھی کہ جہاں رفیع صاحب، وہاں ظہیر باری۔ وہ سائے کی طرح ہر وقت ان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ان کی زندگی رفیع صاحب کے ارد گرد ہی گھومتی تھی۔

31 جولائی کے اس صبح ریہرسل کے بعد چونکہ اور کوئی کام نہیں تھا اس لیے ظہیر باری بارہ بجے تک اپنے گھر چلے گئے۔ کچھ آدھے گھنٹے بعد ہی رفیع صاحب کو سینے اور پیٹ میں بھاری پن سا محسوس ہوا۔ انہوں نے سوچا کہ شاید بدہضمی ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنے ملازم خلیل سے سوڈا منٹ کی گولی مانگی۔ رمضان کے دن تھے۔ رفیع صاحب کی اہلیہ بلقیس رفیع سحری کرنے کے بعد نماز پڑھ کر سو گئی تھیں۔ ملازم نے پوچھا کہ بیگم صاحبہ کو جگا دوں؟ لیکن رفیع صاحب نے منع کر دیا کہ انہیں آرام کرنے دو۔ گولی کھانے کے پندرہ بیس منٹ بعد انہیں کچھ آرام سا آ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کھانا کھایا اور ہمیشہ کی طرح کچھ دیر ہال میں بیٹھنے کے بعد وہیں قالین پر لیٹ کر چار بجے تک آرام کرتے رہے۔

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد انہیں پھر سے درد محسوس ہوا۔ اس بار درد پہلے سے کچھ زیادہ تھا، اس لیے انہوں نے فوراً بیگم کو بلوایا۔ پہلے تو بیگم کو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ نہ ہی خود رفیع صاحب کچھ سمجھ پا رہے تھے۔ لیکن جب ان کی سانس میں تکلیف ہونے لگی، اور ہونٹوں پر نیلاہٹ نمودار ہونے لگی تو ان کی بیگم بری طرح گھبرا گئیں اور انہوں نے فوراً رفیع صاحب کے نجی ڈاکٹر کے ایم مودی کو فون کیا۔ لیکن بدقسمتی سے ان سے رابطہ نہ ہو سکا، پھر ایک لوکل ڈاکٹر چندر منی کو بلوایا گیا۔ اس دوران رفیع صاحب کو قے بھی ہوئی۔ ڈاکٹر نے ان کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد انہیں فوراً نیشنل ہاسپٹل لے جانے کو کہا۔ ’رفیع ولا‘ کے پچھلے دروازے پر رفیع صاحب کی من پسند کار نیلے رنگ والی آڈی لائی گئی۔ اگرچہ رفیع صاحب کی طبیعت سخت خراب معلوم ہوتی تھی لیکن پھر بھی وہ خود چل کر گھر سے باہر تک آئے۔ گھر کے سب لوگ جن میں ان کی بہن ذکیہ جو چھٹیاں گزارنے بمبئی آئی ہوئی تھی، چھوٹی بیٹی یاسمین، سبھی لوگ وہاں موجود تھے۔ رفیع صاحب نے سب کو مسکرا کر خدا حافظ کہا اور چھوٹی بیٹی یاسمین کو گلے لگا کر تسلی دی، ”گھبرانا مت، میں انشاءاللہ جلدی واپس آ جاؤں گا۔“ رفیع صاحب کی بیگم، بیٹی نسرین اور داماد معراج ان کے ہمراہ اسپتال گئے۔

چار بجے اسپتال پہنچنے پر پتہ چلا کہ ہسپتال کی لفٹ خراب ہے۔ گھر والوں نے اسٹریچر منگوایا اور رفیع صاحب سے کہا گیا کہ وہ اسٹریچر پر لیٹ جائیں تاکہ اسٹریچر اٹھا کر اوپر لے جایا جا سکے لیکن رفیع صاحب اپنی کیفیت کو ٹھیک طرح سمجھ نہیں پا رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا وہ سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر ہسپتال کی چوتھی منزل پر گئے۔ وہاں ان کا ای سی جی کیا گیا اور معلوم ہوا کہ رفیع صاحب کو تو دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔ اور یہ بھی کہ دل کے دورے کے مریضوں کے لیے نیشنل ہاسپٹل میں کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ وہاں سے بمبئی ہاسپٹل کے انچارج سے بات کی گئی۔ انہوں نے رفیع صاحب کو فوراً مبمئی ہاسپٹل لانے کو کہا۔

بمبئی ہاسپٹل پہنچتے پہنچتے شام کے سات بج چکے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر جے ایل ڈاگا نے ان کا مناسب علاج شروع کر دیا۔ رفیع صاحب کے کمرے میں رفیع صاحب کے ساتھ ان کی بیگم، بیٹی نسرین اور داماد معراج موجود تھے۔ رفیع صاحب کے جسم میں کئی ٹیوب لگا دیے گئے تھے اور ڈاکٹر کے ایم مودی بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ دونوں ہی ڈاکٹر رفیع صاحب کا بغور معائنہ کر رہے تھے اور ان کی حالت سدھارنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ اس دوران تھوڑی دیر کے لیے رفیع صاحب کی طبیعت سنبھلی بھی اور انہوں نے گھر والوں سے بات چیت بھی کی۔ بیٹی نسرین ان کے سرہانے کھڑی یاسین شریف پڑھ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد رفیع صاحب کے سینے میں پھر سے تکلیف ہونے لگی اور سانسیں اکھڑنے لگیں۔ شاید بہت دیر ہو چکی تھی، جو علاج کئی گھنٹے پہلے ملنا چاہیے تھا، وہ اب مل رہا تھا۔ اپنی تمام کوششوں کے باوجود ڈاکٹرز رفیع صاحب کی حالت سدھار نہیں پا رہے تھے۔ ان کی نبض ڈوبتی جا رہی تھی۔ انہیں سینے پر الیکٹرک شاک بھی دیے گئے لیکن سب بیکار گیا۔ رات 10 بجکر 25 منٹ پر رفیع صاحب اپنے کروڑوں چاہنے والوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

چونکہ رات کے وقت اسپتال والے میت کو گھر والوں کے حوالے نہیں کرتے تھے اس لیے رفیع صاحب کے اہل خانہ کو روتے بلکتے ان کے بغیر ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ بمبئی کے اتنے بڑے اسپتال میں میت کے لیے سرد خانے کا انتظام تک نہیں تھا۔ گرمی کی وجہ سے لاش خراب نہ ہو جائے، اس لیے برف کی سلیں منگوا کر میت کو ہسپتال کے بیسمنٹ میں رکھ دیا گیا۔

یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ طبیعت خراب ہو جانے پر اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس کیوں نہیں بلوائی گئی؟ رفیع صاحب کو سیدھے بمبئی اسپتال کیوں نہیں لے جایا گیا؟ سیڑھیاں کیوں چڑھنے دیا گیا؟ اتنا وقت کیوں برباد کیا گیا؟ اتنے بڑے آدمی کی زندگی کو اتنا معمولی کیوں سمجھا گیا؟

جمعہ یکم اگست کو صبح دس بجے رفیع صاحب کی میت کو اسپتال سے ’رفیع ولا‘ لایا گیا۔ رفیع ولا کے کمپاؤنڈ کو چادروں سے ڈھک کر میت کو غسل دینے کے بعد کفن پہنا کر تیار کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد گھر کے اندر میت کو ہال میں، اتفاق سے، ٹھیک اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں رفیع صاحب ہمیشہ لیٹے تھے اور آخری بار بھی آرام کرنے کو لیٹے تھے۔ لیکن اب رخ بدل دیا گیا تھا۔ پہلے جب رفیع صاحب آرام کرنے کے لیے لیٹتے تھے تو ان کا سر قبلہ رخ اور پاؤں دوسری طرف ہوتے تھے۔ اب انہیں شمال میں سر اور جنوب میں پیر کر کے لٹایا گیا تھا۔ میت کو ہمیشہ اسی طرح لٹایا جاتا ہے اور قبر میں بھی اسی طرح لٹا کر منھ کعبے کی طرف کر دیا جاتا ہے۔

دنیائے موسیقی کے سب سے بڑے گائیک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے کا وقت آ گیا تھا۔ سب سے پہلے رفیع صاحب کی بیگم اور گھر والوں نے رفیع صاحب کا آخری دیدار کیا۔ اس کے بعد رفیع ولا پہنچنے والی فلمی دنیا کی کئی ہستیوں نے اپنے ساتھی کا آخری دیدار کر کے انہیں الوداع کہا۔ وہاں موجود سبھی لوگوں کا کہنا ہے کہ رفیع صاحب جس طرح زندگی بھر پرسکون دکھائی دیتے تھے، اسی طرح اپنے انتقال کے بعد بھی پر سکون دکھائی دے رہے تھے۔

پچپن برس کی زندگی میں رفیع صاحب نے وہ سب حاصل کیا تھا جو لاکھوں میں سے کسی ایک انسان کو نصیب ہوتا ہے۔ اور اس بات کے لیے انہوں نے ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ موت کو وہ بھی کبھی نہیں بھولے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے، ”میرے لیے دعا کیا کرو کہ موت برحق ہے، بس اللہ اسی طرح ایمان اور عزت کے ساتھ زندگی گزار دے، کبھی کسی کا محتاج نہ کرے اور کامیابی اور بلندیوں کے ساتھ دنیا سے جاؤں۔“ ایک بار انہوں نے گھر والوں سے باتوں باتوں میں کہا تھا، ”پتہ نہیں لوگ قبر کو پکا کیوں کرا دیتے ہیں؟ ہمارے حضور تک کی قبر مبارک پکی نہیں ہے۔“ یہ بات ان کے گھر والوں کے پیش نظر رہی اور انہوں نے اسلامی اصول کے مطابق رفیع صاحب کی قبر کو کچا ہی رکھا۔ انتقال کے فوراً بعد سب کی رائے سے طے کر لیا گیا تھا کہ تدفین جوہو مسلم قبرستان میں ہوگی۔

رفیع صاحب کی وفات کی چونکا دینے والی خبر کے پھیلتے ہی پوری ہندی فلم انڈسٹری جہاں تھی، وہیں تھم گئی۔ جو کوئی بھی سنتا اسے یقین نہ آتا تھا۔ رفیع صاحب کے ہزاروں مداحوں کی بھیڑ ’رفیع ولا‘ کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی۔ خبر سن کر فوراً پہنچنے والوں میں موسیقار نوشاد، کہانی نویس سلیم خان، جاوید اختر، دلیپ صاحب اور لکشمی کانت جی تھے۔ گلوکاروں میں سے بھی کئی ہستیاں اپنے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرنے ’رفیع ولا‘ پہنچ چکی تھیں جن میں لتا منگیشکر، آشا بھونسلے، اوشا منگیشکر، ہیم لتا، سلکشنا پنڈت، مہیندر کپور، کشور کمار، امیت کمار، بھوپیندر، منوہر، راہل دیو برمن، بپی لہری، کلیان جی آنند جی، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری، حسرت جے پوری، آنند بخشی، شیام ساگر، نقش لائلپوری، انجان، سپن جگموہن، جسپال سنگھ، پریم جی، جے اوم پرکاش، روی چوپڑا، پرسن کپور، ونود مہرا، اشوک کمار۔ کتنے ہی لوگ شامل تھے۔ ایک ایسا سلسلہ تھا جو تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ جو لوگ کسی وجہ سے وقت پر رفیع ولا نہیں پہنچ سکے تھے، وہ باندرہ کی بڑی مسجد میں پہنچے۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ صبح سے ہی جوہو قبرستان میں جمع ہونا شروع ہو چکے تھے۔

تقریباً بارہ بجے جیسے ہی ’رفیع ولا‘ سے جنازہ اٹھا، چاروں طرف سے رونے بلکنے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ کلمۂ طیبہ ’لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ‘ کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں۔ بے تحاشا بارش کے باوجود ہزاروں لوگوں کی بھیڑ اپنے چہیتے گلوکار کو کندھا دینے کے لیے بے قرار تھی۔ جنازہ باندرہ کی 28 ویں سڑک سے واٹر فیلڈ روڈ اور نیو ٹاکیز ہوتے ہوئے بڑی مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ جدھر نظر دوڑاؤ، لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے۔ کہیں عمارتوں پر، تو کہیں پیڑوں پر چڑھے لوگ جنازے کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے بمبئی میں کسی جنازے میں اتنے لوگ نہیں پہنچے تھے۔ شہر کی انتظامیہ کو لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کی شاید توقع نہیں تھی اسی لیے پولیس تعینات نہیں کی گئی تھی، لیکن جب حالات بگڑنے کی نوبت آنے لگی تو پولیس کا انتظام کرنے پر مجبور ہونا ہی پڑا۔

بڑی مسجد پہنچ کر ڈیڑھ بجے جمعے کی نماز کے بعد جنازے کی نماز ادا کی گئی۔ جنازہ تقریباً ڈھائی تین بجے بڑی مسجد سے دوبارہ روانہ ہوا۔ لنکنگ روڈ کے راستے جوہو قبرستان پہنچتے پہنچتے لگ بھگ ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔ قبرستان پہنچنے سے کچھ پہلے میت کو ٹرک سے اتار لیا گیا۔ ہزاروں پرستار اپنے محبوب گائیک کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے بیتاب تھے۔ بارش، کیچڑ، گرمی، بھیڑ کے باوجود بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی فلمی ہستیاں رفیع صاحب کے احترام میں قبرستان پہنچی ہوئی تھیں۔ دلیپ کمار، راج کپور، راجیندر کمار، سنجیو کمار، سنیل دت، امیتابھ بچن، ونود کھنہ، امجد خاں، نتن مکیش، راکیش روشن، گلزار، پیارے لال، رضا مراد، ناصر حسین، سچن، رامانند ساگر، سلیم خان۔

چھہ بجے کے قریب، آخری دیدار کے بعد جب انہیں قبر میں اتارا جا رہا تھا، تو ساری فلمی ہستیاں دور کھڑی خاموشی سے آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کو دفن ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھیں، اس شخص کو جس نے اپنی جادو بھری آواز دے کر ان کے فن کو چار چاند لگا دیے تھے۔ جیسے ہی قبر میں مٹی ڈالی جانے لگی، لوگ کراہ اٹھے۔ رونے چلانے کی آوازوں سے سارا ماحول گونج اٹھا۔ اب فاتحہ پڑھی جا رہی تھی؛ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ ہزاروں ہاتھ ایک ساتھ رفیع صاحب کے لیے دعا کرنے کو اٹھے ہوئے تھے۔ ادھر آسمان میں سورج دھیرے دھیرے ڈوب رہا تھا، اور ادھر صرف بالی وڈ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں اپنی آواز سے لوگوں کے دل و دماغ پر راج کرنے والا سورج مٹی میں سما چکا تھا۔ لیکن رفیع صاحب جیسے لوگ بھی کبھی مرا کرتے ہیں۔ وہ اپنے گیتوں میں آج بھی زندہ ہیں اور ان کے گیتوں کا خزانہ رہتی دنیا تک موجود رہے گا۔ رفیع صاحب ہی کے ایک گیت کے بول ہیں :

دل کا سونا ساز ترانہ ڈھونڈے گا
مجھ کو میرے بعد زمانہ ڈھونڈے گا
لوگ مرے خوابوں کو چرا کے ڈھالیں گے افسانوں میں
وقت میرے گیتوں کا خزانہ ڈھونڈے گا

Facebook Comments HS