1688 سے 1663 تک اہم یورپی جنگیں

ویسٹ فیلیا امن معاہدہ ( 1648 ) کے بعد یورپ کی سیاست میں مختلف تبدیلیاں آئیں تھیں طاقت کے توازن، رسمی سفارتی سرگرمیوں اور باہمی معاہدوں جیسے نظام اور تصورات پنپنے لگے تھے۔ تاہم اس کے باوجود اہمیت جنگ کی رہی۔ مگر اس کے محرک مذیب یا مسلکی نظریات کے بجائے وراثتی تنازعات، علاقائی توسیع اور نو آبادیاتی اور سامراجی مفادات (وسائل۔ تجارتی شاہراہوں اور کالونیوں کے لیے مسابقت) یورپی طاقتوں کے مابین جنگوں کے بنیادی سبب رہے۔
انقلاب فرانس ( 1789 ) تک کے عرصے میں یورپ میں اگرچہ بہت ساری لڑائیاں اور معرکے ہوتے رہے مگر ان میں چند اہم ( 1 ) نو سالہ جنگ ( 1688 تا 1697 ) ( 2 ) ترک جنگیں ( 1683 تا 1699 ) ( 3 ) عظیم شمالی جنگ ( 1700 تا 1716 ) ( 4 ) اسپین کی جانشینی جنگ ( 1702 تا 1714 ) ( 5 ) آسٹریا جانشینی جنگ ( 1740 تا 1748 ) اور سات سالہ جنگ ( 1756 تا 1763 ) جنگیں رہیں۔ یہاں متذکرہ جنگوں کا ایک سرسری تذکرہ کیا جاتا ہے
( 1 ) نو سالہ جنگ فرانس اور ”آکسبرگ لیگ“ ( 1688 تا 1697 ) ۔ اسی دور میں فرانس ہر لحاظ سے یورپ کا سب سے طاقتور ملک تھا۔ جبکہ اس کے حریف ممالک کو زوال یا بدنظمی کا سامنا تھا۔ فرانس کے لوئیس 14 ( 1667 تا 1713 ) فرانسیسی سرحدوں کو ”دریا رائن“ اور ”کوہ الپس“ تک بڑھانے کے لیے متعدد ( مگر بیشتر ناکام) جنگیں لڑیں۔ چونکہ کوئی اکیلا ملک اس وقت فرانس کے مقابلے کا نہ تھا اس لیے مختلف ملک دفاعی حکمت عملی کے تحت فرانس کے خلاف اتحاد بنا لیتے تھے 30 سال ( ) کے عرصے میں لوئیس 14 نے اپنی سرحدیں دریا رائن تک پھیلانے کے مقصد سے نیدر لینڈ پر تین بار حملے کیے مگر ہر دفعہ پسپا ہونا پڑا۔ اس کی تیسری جنگ ( 1689 تا 1697 ) نو سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں گہرا پنہاں مسئلہ فرانس اور آسٹریا کے شاہی خاندانوں کی رقابت تھی۔ 1680 کی دہائی سے لوئیس 14 نے اسپین کے لاولد بادشاہ چارلس ”کی متوقع موت کی صورت میں اسپین کے تحت پر قبضہ کرنے کے لیے مہم شروع کی تھی۔ جس کی مخالفت میں ہیپس برگ آسٹریا کے حکمران اور مقدس رومن سلطنت کے شہنشاہ“ لیوپولڈ اول ”نے دوسری یورپی ممالک سے مل کر آکسبرگ لیگ بنائی مگر وہ موثر نہیں رہی تھی۔ 1690 میں برطانیہ، برینڈن برگ، سیکسونی، بویریا، اور اسپین نے لوئیس 14 کی پیش قدمیوں سے خطرہ کے پیش نظر آسٹریا سے مل کر فرانس کے خلاف“ گرینڈ اتحاد ”بنا لیا یہ جنگ یورپ اور اس کے نواحی سمندروں اور ائر لینڈ کے ساتھ فرانس اور برطانیہ کے درمیان سمندر پار کالونیوں ( شمالی امریکہ اور انڈیا) میں بھی لڑی گئی۔ بحری محاذوں پر فرانس کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑے۔ اپنی طاقت کے باوجود“ لوئیس ”کو اپنی فوج کی ناقص تیاری کا اندازہ ہوا، تو حفیہ امن مذاکرات شروع کیے جس کے نتیجے میں 1697 کو معاہدہ طے ہوا، ۔ اس کے تحت بغیر کسی فتح کے جنگ کا خاتمہ ہوا۔
( 2۔ ) عظیم ترک یا ہولی لیگ (Holy League جنگ ( 1683 تا 1699 )
یہ جنگ سلطنت عثمانیہ اور ”ہولی لیگ“ Holy League ) نامی یورپی ممالک کے اتحاد کے درمیان 16 سال طویل لڑائیوں کا سلسلہ تھا۔ ہولی لیگ کو پوپ ”انوسینٹ یازدہم“ نے منظم کیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس میں پاپائی ریاستیں، ہپسبرگ آسٹریا کے تحت مقدس رومن سلطنت، لیتھوانیئن دولت مشترکہ، اور ”جمہوریہ وینس“ شامل تھے۔ 1686 میں روس بھی اس میں شامل ہو گیا۔ ( کسی مغربی یورپ اتحاد میں یہ روس کی پہلی شرکت تھی ) 1683 میں سلطنت عثمانیہ کے کمانڈر ”قرہ مصطفی پاشا“ نے 2 لاکھ ترک فوج سے ”ویانا“ کا محاصرہ کرنے سے جنگ کا آغاز ہو گیا تھا۔ اس محاصرہ کی کامیابی اور ناکامی پر وسطی اور مشرقی یورپ کے کنٹرول کا دار و مدار تھا اتحادیوں نے ویانا محاصرہ ناکام کرا کر ترکوں کو ”دریا ڈینیوب کے پار پسپا کر دیا، ۔ تاہم جنگ جاری رہی اگلے سالوں میں فریقین کے درمیان مختلف محاذوں پر لڑائیاں ہوتی رہیں 1697 میں ترک سلطنت کے شہر“ زینتا ”( Zenta) کے قریب لڑائی فیصلہ کن ثابت ہوئی اس میں ہیسبرگ آسٹریا افواج نے ترکوں کو زبردست شکست دی۔ جس سے ترکوں کا زور ٹوٹ گیا۔ اور بالآخر جنوری 1699 کے ’معاہدہ کارلوٹز“ کے تحت اس جنگ کا باقاعدہ اختتام ہو گیا۔ ترک شکست خوردہ رہے اور پہلی بار کافی اس کو بڑے علاقے (ہنگری کے بڑی حصے، پولش لیتھونیا اور مغربی بلقان) سے دستبردار ہونا پڑا۔ اگرچہ ترکوں نے روس کے خلاف 1710 تا 1711 میں جنگ سے اپنے کچھ علاقے بازیاب کرائے مگر 1716 تا 1718 میں آسٹریا نے ترکوں کے خلاف جنگ میں ان سے مزید علاقے چھین لئے۔ اس کے بعد سے وسطی یورپ میں سلطنت عثمانیہ کی مزید جارحانہ پیش قدمی کا دور تمام ہوا بلکہ یہاں سے اس کے طویل زوال کا آغاز بھی ہوا۔ اگلی صدیوں اس کی زیادہ تر جنگیں دفاعی رہیں
( 3 ) عظیم شمالی جنگ ( 1700 تا 1716 )
بحیرہ بالٹک کے ساحلی علاقوں میں سویڈن کی توسیع پسندی نے روس، ڈنمارک ناروے اور سیکسونی، پولینڈ کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، جس کے باعث انہوں نے 1698 میں ”سویڈن مخالف اتحاد“ تشکیل دی۔ 1700 میں اتحادیوں نے سویڈن کے زیر قبضہ اپنے علاقوں کی بازیابی کے لیے ان پر حملہ کر دیا۔ مگر سویڈن کے ”چارلس ہفتم“ نے ان حملوں کو پسپا کر علاقائی پوزیشن جلد پھر سے بحال کردی۔ جنگ کے ابتدائی سالوں میں سویڈن کا پلہ بھاری رہا مگر اگلے مراحل میں روس مشرقی بالٹک کے ساحل پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ زار روس ”پیٹر دی گریٹ“ نے 1703 میں وہاں ”سینٹ پیٹر برگ“ کے نام سے نیا دارالحکومت قائم کر لیا۔ اور یوں روس کو یورپی سمندر کی طرف مطلوبہ راستہ مل گیا۔ 1707 میں سویڈن نے روس کے جنوب مغربی سرحد کے خطے یوکرین پر حملہ کیا، مگر ”پولٹاؤ“ کی لڑائی ( 1709 ) میں شکست کھائی۔ 1709 کے بعد سے جنگ کے بقیہ 12 سال کا عرصہ روس کے حق میں رہا۔ 1710 تا 1711 میں روس کے خلاف ترکوں کے ساتھ دینے کے باوجود سویڈن اپنے علاقوں میں مخالف اتحاد (جس میں برطانیہ اور پرشیا بھی شامل ہو گئے تھے ) سے مسلسل شکستیں کھاتا رہا، ۔ 1717 میں ”چارلس“ نے امن مذاکرات شروع کیے مگر پھر 1718 میں جنوب مشرقی ناروے پر حملہ آور ہوا جہاں وہ قتل ہوا۔ اس کے جانشین ”فریڈریک“ نے امن تصفیہ ( 1719 تا 1721 ) بشمول ”نیسٹاڈ“ ( Nystad) معاہدہ کر لیا جس کے تحت روس کو اسٹونیا، لیونیا اور کئی دوسرے علاقے دے دیے۔ اس جنگ کا ایک نتیجہ سویڈن کی طاقت اور اثر کے زوال اور روس کا بحیثیت بڑی طاقت کے ابھرنے کی صورت میں نکلا
( 4 ) اسپین جانشینی جنگ ( 1701 تا 1714 )
ایک طرف یورپ میں ”عظیم شمالی جنگ“ جاری تھی تو عین اسی دوران اسپین کے آخری ہیسبرگ لاولد بادشاہ ”چارلس دوم“ کی موت کے بعد اس کے تخت کے متنازعہ جانشینی کے مسئلے پر جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اسپین کے وسیع و عریض مقبوضات کے لیے ابتداء میں فرانس کا بھوربن شاہی خاندان اور آسٹریا کا ہیسبرگ شاہی خاندان ورائٹی دعووں کی بنیاد پر باہمی برسرپیکار ہو گئے تھے۔ مگر فرانس کے لوئیس 14 کا اسپینی نیندرلینڈ پر حملہ کرنے سے برطانیہ، ہالینڈ، مقدس رومن سلطنت (آسٹریا ) ، پرتگال اور اٹلی کی ریاست ”سیوائے“ نے فرانس کے خلاف سابقہ اتحاد کو ازسر نو متحرک کر لیا اتحادیوں نے 1704 سے 1709 کے عرصے میں فرانس کے خلاف مختلف محاذوں پر فتح حاصل کر کے فرانس کو نیدر لینڈ، بلجیئم اور اٹلی سے نکال دیا۔ 1711 میں اتحادیوں کے مابین اختلافات کے باعث اتحاد بکھرنے پر امن مذاکرات شروع ہوئے۔ جنگ کا خاتمہ 1713 کے (Utrecht) اٹ ریچٹ امن معاہدے کے تحت ہوا۔ اس کے نتیجے میں اگرچہ ”لوئس 14 کے پوتے“ فلپ پنجم ”کو اسپین کا تخت دینے کے علاوہ“ السکس ”کا علاقہ بھی فرانس کے پاس رہا مگر 13 سال طویل جنگ نے فرانس اور اسپین کو مالی طور بے حد کمزور کر دیا جبکہ برطانیہ کی طاقت بڑھ گئی۔ اسپین کے جنوبی سرا پر واقع اسٹرٹیجیک اہمیت کا حامل“ قلعہ جبرالٹر ”اور مینورکا (بحیرہ روم کا اسپینی جزیرہ) برطانیہ کا قبضہ برقرار رہا، نیز اسپینی امریکہ میں اہم تجارتی رعاتیں حاصل کر لیں اس کے علاوہ فرانس سے برطانوی تخت پر“ خانورئین ” (Hanwarian ) کی وارثت منوا لی۔ آسٹریا کو بلجیئم اور اٹلی میں کچھ علاقے بشمول“ نیپلز ”، سارڈینہ“ اور ”میلان“ مل گئے پرشیا اور اطالوی ڈچی سیوائے ”کی اہمیت تسلیم کی گئی“ اٹ ریچٹ معاہدہ ”سے یورپ میں وقتی طور پر طاقت کا توازن قائم ہوا۔ اس کے بعد 1715 سے 1740 تک یورپ میں نسبتاً امن کا دور رہا۔ مگر 1740 میں آسٹریا کی جانشینی کی جنگ شروع ہونے سے 8 سال تک یورپ کی بڑی طاقتیں پھر سے باہم برسرپیکار ہو گئیں۔
( 5 ) آسٹریا جانشینی جنگ۔ ( 1740 تا 1747 )
1740 میں آسٹریا کے حکمران اور مقدس رومن شہنشاہ چارلس ہشتم ”کی موت کے بعد اس کی اکلوتی اولاد“ ماریا تھریسا ”اگرچہ اس کی جگہ حکمران بنی مگر کئی ممالک (فرانس، اسپین اور باویریا وغیرہ ) کے حکمران مختلف بنیادوں پر ہیسبرگ علاقوں کے دعویدار تھے۔ جبکہ“ بوپریا ”کا نواب“ بوہیمیا ”تخت کا بھی مدعی تھا۔ 1740 میں پرشیا کے حکمران“ فریڈریک دوم ”کا آسٹریا کے صوبہ سلیشیا پر حملہ کرنے سے جنگ کا آغاز ہو گیا، ۔ فریڈریک کی کامیابی سے کئی ممالک کو شہ ملی کہ ہیسبرگ علاقوں کو چھینا جاسکتا ہے یوں وہ بھی سرگرم ہو گئے۔ فرانس کی قیادت میں باویریا اور اسپین نے آسٹریا مخالف اتحاد قائم کیا جس میں بعد میں سیکسونی، اور پرشیا بھی شامل ہو گئے۔ ان کا مقصد آسٹریا کے علاقوں پر قبضہ کرنا اور ہیسبرگ شاہی خاندان کو کمزور کرنا تھا۔ اپنے دیرینہ روایتی حریف“ آسٹریا ”کو کمزور کرنے کے لیے سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ جبکہ دوسری طرف برطانیہ اور ہالینڈ آسٹریا کی“ ماریا تھریسیا ”کے طرف دار ہو گئے ( 1746 میں روس بھی اس اتحاد میں شامل ہو گیا) برطانیہ کو خدشہ تھا کہ اگر یورپ میں فرانس کو تسلط حاصل ہوا، تو برطانوی کمرشل اور کالونییل سلطنت کا دفاع مشکل ہو جائے گا۔ یوں یہ جنگ فرانس اور برطانیہ کے درمیان پچھلی صدی سے چلی آئی طویل کشمکش کا ایک مرحلہ بھی بنا۔
جنگ کے محاذ جرمنی، نیدر لینڈ اور اٹلی کے علاقے رہے۔ جبکہ سمندر پار کالونیوں (امریکہ اور برصغیر ) میں برطانیہ اور فرانس لڑنے لگے۔ مختلف نشیب و فراز سے ہوتی ہوئی بالآخر اس جنگ کا خاتمہ ایکس لا چیپل ( Aix۔ la۔ chapell) معاہدے 1748 کے تحت ہوا۔ مگر یہ معاہدہ کافی ناقص تھا۔ جس سے مختلف طاقتوں کے درمیان بے چینی بڑھ گئی۔ یہ معاہدہ نہ تو برطانیہ اور فرانس کے درمیان نو آبادیاتی رقابت کا کوئی حل پیش کر سکا اور نہ ”سلیشیا“ پر ”پرشیا“ کے قبضے کو ختم کر سکا۔ جس سے آسٹریا اور پرشیا کے درمیان مسقبل میں ٹکراؤ کا خدشہ برقرار رہا۔ جبکہ دوسری طرف ”پرشیا“ کو رعایت ملنے کو روس نے پولینڈ اور بالٹک خطے میں اپنے مقاصد کے لیے چیلنج سمجھا۔ یوں ان نقائص کی وجہ سے 15 سال بعد سات سالہ جنگ کا ایک بڑا سبب بنا۔
( 6 ) سات سالہ جنگ
آسٹریا جانشینی جنگ کے کچھ عرصے بعد انقلاب فرانس سے قبل دور کی آخری بڑی سات سالہ جنگ ( 1756 تا 1763 ) ہوئی جو کئی لحاظ زیادہ اہم اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی اس میں یورپ کی تمام بڑی طاقتیں فریق رہیں۔ 1748 کے بعد بدلتے حالات میں آسٹریا جانشینی جنگ کے دوران بنے اتحادی گروپوں میں بڑی تبدیلیاں ہو جانے کے باعث نئی اتحادی تشکیل عمل میں آئی۔ جس کو یورپ کا سفارتی انقلاب کہا گیا۔
فرانس کا سابقہ اتحادی ”پرشیا“ برطانیہ کا اتحادی بن گیا جبکہ دو صدیوں سے باہمی دشمن چلے آئے فرانس کے بھوربن حکمران اور آسٹریا کے ہیسبرگ شاہی خاندان اتحاد کر گئے۔ اس کے علاوہ روس بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ کیونکہ وہ ”پرشیا“ کی جارحیت کو رکنے نیز اپنے علاقوں کو وسعت دینے کا خواہاں تھا۔ بعد میں سویڈن، سیکسونی اور اسپین بھی اس اتحاد کا حصہ بنے۔
فرانس، آسٹریا، سیکسونی، سویڈن، اور روس پر مشتمل اتحاد کا صف اول قائد فرانس جبکہ پرشیا، خانور اور برطانیہ پر مشتمل مخالف فریق کی قیادت برطانیہ کر رہا تھا۔ یہ ایک عالمی جنگ رہی کیونکہ یورپ کے علاوہ کے محاذ سمندر پار کالونیوں (شمالی امریکہ اور انڈیا) بھی رہے جہاں حسب سابق برطانیہ اور فرانس باہم برسرپیکار رہے۔ کالونیوں کی مناسبت سے اس کو الگ الگ علاقائی ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے (امریکی کالونیوں کی جنگ کو فرانس انڈین جنگ اور ”ہند“ کی لڑائی کو ”جنگ پلاسی“ کہا جاتا ہے ) یوں تو فرانس اور برطانیہ کے درمیان سمندر پار کالونیوں کے حوالے سے تناؤ کئی سال سے چلا آ رہا تھا تاہم اس جنگ کا باقاعدہ آغاز 1756 میں آسٹریا کی ملکہ ماریا تھاریسا ”کا اپنے صوبے سلیشیا کو بازیاب کرنے کے عزائم کے ردعمل میں“ پرشیا ”کا سیکسونی ( موجودہ جرمنی کا ایک علاقہ) پر حملے سے ہوا۔ (پرشیا کے فریڈریک دوم نے یہ صوبہ آسٹریا کی جانشینی جنگ کے دوران آسٹریا سے چھینا تھا) ۔ یورپی محاذ پر صف اول کے باہمی فریق“ پرشیا ”اور آسٹریا“ تھے۔ جبکہ برطانیہ اور فرانس کے افواج بھی اپنے متعلقہ اتحادیوں کی حمایت میں یورپ کے محاذ پر بھی شریک جنگ رہیں۔ سیکسونی پر قبضے کے بعد 1757 کی اخیر تک پرسیا نے آسٹریا اور فرانس کے خلاف کئی فتوحات حاصل کی۔ تاہم اس کو شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔ 1760 میں آسٹریا اور روسی افواج نے پرشیا کے دارالحکومت ”برلن“ کا گھیراؤ کر لیا۔ جس کو پرشیا نے جلد چھڑا تو لیا۔ پرشیا کے لیے حالات آسان نہ تھے مگر اس کی خوش قسمتی یہ رہی کہ جنگ کے چھٹے سال جنوری 1762 میں روس کی ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد اس کا جانشین ”پیٹر سوم“ نے فرانس کے بجائے ”پرشیا“ کی حمایت شروع کی۔ پیٹر سوم کو اس کی بیوی کیتھرائن نے اقتدار سے ہٹا دیا اور جنگ سے روس کو نکال دیا۔ اسی طرح سویڈن نے بھی زار روس کی پیروی کی۔ اس کے علاوہ آسٹریا کا اتحادی فرانس بھی سمندر پار کالونیوں میں شکستیں کھانے سے کمزور یو گیا تھا۔ یوں پرشیا کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ ان حالات میں آسٹریا کی ”ماریا تھریسیا“ امن مذاکرات پر مجبور ہو گئی
جنگ کا اختتام دو علیحدہ علیحدہ معاہدات 1 پیرس معاہدہ اور 2۔ ہو تسبرگ (Hubertusburg) کے تحت ہوا۔ پیرس معاہدہ برطانیہ ”حانور“ ”فرانس“ اور اسپین کے مابین ہوا۔ جس کے تحت فرانس کو شمالی امریکہ میں تقریباً اپنے بیشتر اہم علاقوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ کینیڈا، دریا میسیپی ”کے مشرق میں سارا علاقہ اور فلوریڈا برطانیہ کے زیر تسلط ہو گئے۔ اس کے علاوہ“ لاویسینیا ”اسپین کو دیا اور“ خانور ”کو بھی خالی کر دیا۔ اسی طرح ہندوستان میں اپنے مقبوضات کے غالب حصے برطانیہ کو دینے پڑے۔
ہوبر تسبرگ معاہدہ ”پرشیا، آسٹریا اور سیکسنی کے“ درمیان ہوا۔ جس میں سرحدیں 1748 کی پوزیشن پر بحال کر دی گئیں۔ جبکہ ”فریڈریک دوم“ کا، سلیشیا پر قبضہ برقرار رکھا گیا۔
سات سالہ جنگ کے اثرات۔
جنگ کے خاتمے پر ”پرشیا“ کی حیثیت یورپ کی ایک بڑی طاقت کے طور پر مستحکم ہو گئی۔ جبکہ فرانس، اسپین اور آسٹریا کا اثر بہت کم ہو گیا۔ فرانس اپنی سمندر پار سلطنت سے محروم ہو گیا۔ برطانیہ ایک ایسی سلطنت بن گیا جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ برطانیہ نے اگرچہ اس جنگ میں فتح پائی تاہم یہ بعد میں اس کے تسلط کے خلاف امریکہ کی جنگ آزادی کا پیش خیمہ بھی بنی۔

