ہیگل ایک فلسفیانہ معما (2)


1870ء کی دہائی کے اوائل میں ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ، فریڈرک ہائینرک جیکوبی کی تحاریر اور ”نظریۂ وحدت الوجود کا تنازعہ“ جیسے موضوعات پر مباحث میں پوری طرح شامل ہو چکے تھے۔ جیکوبی نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس نے انکشاف کیا تھا کہ لیسنگ ’وحدت الوجود‘ کا قائل ہے۔ لہٰذا سپینوسٹ ہے۔ ’

یہ خبر جرمنی کے فکری حلقوں پر ایک بم بن کر گری۔ کیونکہ لیسنگ ایک قابل احترام شخصیت کا مالک تھا۔ مگر سپینوزا کا قصہ مختلف تھا۔ وہ اتنا معتبر نہ تھا۔ سپینوزا کا عام تاثر ایک ایسے فلسفی کا تھا جو عیسائیوں کے شخصی خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ لہٰذا اس پر دہریہ ہونے کا الزام تھا۔ جیکوبی اصل میں لیسنگ کو نیچا دکھانا چاہتا تھا مگر لینے کے دینے پڑ گئے۔ لیسنگ جیسے معتبر فلسفی کا سپینوزا کے ساتھ منسوب ہونا سپینوزا کے فلسفے کو مستند کر گیا۔ اب سپینوزا کے سینکڑوں معترف اور پیروکار جو ابھی تک خاموش تھے، جوق در جوق نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ جہاں سپینوزا کے مخالفین ان کو دہریہ کہتے تھے ان کے معتقدین ان کو ”ہمہ اوست“ کا پرچارک گردانتے تھے۔ وہ کہتے تھے سپینوزا کا خدا کوئی شخصی خدا نہیں تھا۔ یعنی وہ کسی ’انسان نما خدا‘ کو نہیں مانتے۔ بلکہ سپینوزا کا ایک عالمگیر خدا پر یقین تھا۔ وہ سپینوزا کا فلسفہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

”خدا ایک ہے اور اس ایک میں ہی سب کچھ ہے۔“

جب ہیگل کی عمر 20 اور 30 سال کے درمیان تھی وہ سپینوزا، رؤسو اور جدید یونانی روایت سے متاثر تھے اور دنیا کو اپنے تخیل میں ایک آدرش وادی سمجھتے تھے، جس کے اندر الوہیاتی حسن اور انسانی آزادی ایک دوسرے کو گلے لگائے ہوئے تھے۔ ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ نے کانٹ پر سنجیدہ مکالمے کیے اور رفتہ رفتہ ان کے کچھ نظریات اپنے فلسفے میں شامل کر لیے۔ اگرچہ وہ روایتی عیسائیت سے مایوس ہو چکے تھے مگر کانٹ کے عیسائیت کے نظریے کو درست مانتے تھے۔ وہ ایک اخلاقیات کا مذہب تھا جس میں نہ نظر آنے والا چرچ تھا اور جس میں کسی مافوق الفطرت خدا کا تصور نہیں تھا۔ ہیگل کسی حد تک اس فلسفے کی طرف راغب ہو گئے۔ کیونکہ یہ ایک خالص فکری اور تجریدی مذہب تھا۔ ایک وقت تھا جب ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ، تینوں اپنے آپ کو ”ان دیکھے چرچ“ کا ممبر سمجھتے تھے۔

اوگوسٹ وہ پہلی خاتون تھی جس کی محبت میں ہیگل گرفتار ہوئے۔ اوگوسٹ ہیگل کی تیسری محبت تھی۔ اس سے قبل وہ ”انقلاب فرانس“ اور ”وحدت الوجود“ کی محبت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ یہ نوجوان اور جاذب نظر خاتون ایک شراب کی دکان پر کام کرتی تھیں۔ اوگوسٹ، الہیات کے ایک مرحوم پروفیسر کی بیٹی تھی۔ ہیگل اکثر شراب کی دکان کا چکر لگاتے اور اوگوسٹ کے ساتھ عشق بازی کرتے مگر بد قسمتی سے اوگوسٹ، ہیگل کی محبت کو پذیرائی دینے سے گریزاں رہیں۔ کیونکہ وہ ہیگل ہی کے دوست ”جے۔ سی۔ فنگ“ کی محبت میں گرفتار تھیں۔ جب ہیگل کو یہ معلوم ہوا تو وہ دکھی ہو گئے۔ یہ دھچکا ان کی والدہ کے غم کو تازہ کر گیا۔ ان کی محبت کی کہانی شروع ہونے سے قبل ہی ایک المناک اختتام سے دو چار ہو چکی تھی۔ ہیگل کا دل ٹوٹ گیا تھا۔

’ٹیم بورجن یونیورسٹی‘ سے گریجویشن کرنے کے بعد ہیگل کا ارادہ تھا کہ وہ بھی یونیورسٹی کے پروفیسر اور فلسفی بنیں گے۔ مگر ان کو دو بچیوں کا استاد بننا پڑ گیا، جو ”برن“ کے ایک امیر خاندان کی اولاد تھیں۔ جب ہیگل کو حقائق کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے خواب بکھر گئے۔ کیونکہ ہیگل کو اس خاندان کے بزرگ، نوکروں سے ایک درجہ ہی اوپر تصور کرتے تھے۔ ایک دفعہ پھر ان کی انا کو ٹھیس پہنچی اور ان کی تخلیقی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں کیونکہ ان کے پاس پڑھنے، سوچنے اور لکھنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ ان کی خود اعتمادی اور اپنی ذات کے بارے میں رائے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ جب ہولڈرن کو ہیگل کی پژمردگی کا پتہ چلا تو انھوں نے ہیگل کے لیے ایک نوکری ڈھونڈ نکالی۔ یوں ہیگل 1796 ء میں برن سے فرینکفرٹ ہجرت کر گئے۔

اب کے جب ہیگل کو دوبارہ پڑھنے، سوچنے اور لکھنے کا موقع ملا تو انھوں نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا: ”عیسائی مذہب کی اثباتیت“ ۔ اس مضمون میں ہیگل نے عیسائی مذہب کی ایک نئی توجیہہ بیان کی جو حضرت عیسیٰ کی تعلیمات سے متعلق کانٹ کی تشریح پر مبنی تھی۔ ہیگل نے عیسائیت کو دیگر مذاہب سے بہتر بنا کر پیش کیا۔ وہ عیسائیت کو لوگوں کا ایسا مذہب گردانتے تھے جو جدید زندگی کے لیے لازمی عناصر، روحانیت اور عالمگیر انسانی آزادی کا حسین امتزاج تھا۔

1796 ء میں فرینکفرٹ جا نے سے قبل ہیگل، وارٹم برگ میں واقع اپنے آبائی گھر گئے تاکہ اپنی بہن کرسٹین سے مل سکیں۔ والدہ کی وفات کے بعد دونوں بہن بھائی آپس میں بہت قریب آ گئے تھے۔ وارٹم برگ میں وہ بہن کی دوست ’نانت‘ سے ملے اور اس کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ نانت بھی ہیگل کی شخصیت سے متاثر ہوئی۔ دونوں کے دل تو ایک دوسرے کے قریب آ گئے مگر مذہب کی دیوار بیچ میں حائل ہو گئی۔ نانت راسخ العقیدہ کیتھولک تھیں جبکہ ہیگل پروٹسٹنٹ عیسائی تھے۔ بلکہ ایک کیتھولک مخالف عقیدہ رکھتے تھے۔

نانت حس ظرافت بھی رکھتی تھی اور ہیگل کو شرارتاً کہتی کہ وہ ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔ وہ ان کو تنگ کرتی اور مذاق کرتے ہوئے کہتی کہ وہ سینٹ الیکس ہیں (ایک عیسائی بزرگ جو اپنی شادی کے دن بھاگ گیا اور بعد ازاں راہب بن گیا تھا۔) وہ کبھی ان کو سٹرجیکولین بھی کہتی۔ نانت کے غمزہ و عشوہ و ادا نے ہیگل کے مزاج سے یاسیت کو کم کر دیا اور وہ کسی قدر خوش مزاج ہو گئے۔ ہیگل اور نانت کے جذباتی رشتے میں ایک اور رکاوٹ بھی حائل تھی۔ ہیگل کا ماننا تھا کہ مردوں کو خواتین پر برتری حاصل ہے کیونکہ مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور وہ نانت کو اپنے مساوی توقیر دینے پر آمادہ نہیں تھے۔ ہیگل کے سوانح نگار پنکارڈ نے لکھا ہے :

”ہیگل خواتین کو اپنے مساوی نہ سمجھنے کی وجہ سے سنجیدہ نہیں لیتے تھے۔ بظاہر ہیگل، خواتین کو قانونی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے ایک آزاد فرد سمجھنے کے نظریے کے قائل نہ تھے اور وہ اس بات پر مطمئن تھے۔ لہٰذا کچھ حیرت کی بات نہیں کہ وہ اپنے سے کم تعلیم یافتہ، کم عمر اور ایک کیتھولک خاتون کو سنجیدہ نہ لیتے ہوں۔“

ایک وقت تھا جب ہیگل نے نانت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بھی سوچا لیکن شادی جیسے مستقل اور سنجیدہ رشتے کی راہ میں کیتھولزم ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ ہیگل کا فلسفہ، نظریہ اور فکری رویہ ان کی جذباتی اور رومانوی زندگی میں رکاوٹ بن گیا۔ لہٰذا نانت کے ساتھ ان کا رشتہ ایک خوبصورت معاشقے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اگرچہ ہیگل نے نانت سے شادی نہیں کی مگر اس کے ساتھ رشتے نے ہیگل کے مزاج کو قدرے آسودہ اور کم سنجیدہ کرنے میں اچھی خاصی مدد کی۔ اس بات کا اظہار انھوں نے نانت کو لکھے گئے خطوط میں کیا۔ انھوں نے ایک خط میں نانت کو لکھا: ”میرے پاس یہ ماننے کی ہر وجہ موجود ہے کہ تمھارے ساتھ ایک طویل رفاقت مجھے ذہنی طور پر بہت آزاد کر دیتی اور میری خوش رہنے کی صلاحیت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوتا۔“

نانت بلاشبہ اس دیوار کو گرانے میں کامیاب ہو گئی تھی جو انھوں نے اپنے فطری جذبات کے اردگرد کھڑی کر رکھی تھی۔ بالخصوص اپنی والدہ کی وفات اور اوگوسٹ سے رومانوی مایوسی کے بعد ۔ جب ہیگل فرینکفرٹ جا رہے تھے تو وہ اس بات پر خوش تھے کہ ان کو ہولڈرن جیسے شاعر، فلسفی اور دوست کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ جس میں وہ طویل اور دانشورانہ طور پر حوصلہ افزا مکالموں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

مگر وہاں پہنچ کر ان کو مایوسی ہوئی کیونکہ یونیورسٹی کی بجائے ہیگل کو چھوٹے بچوں کو ان کے گھروں میں جاکر پڑھانا تھا۔ جب ہیگل فرینکفرٹ میں تھے تو انھوں نے ”عیسائیت کی روح اور اس کا مستقبل“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے خدا، روحانیت اور مذہب کے رشتے کو ممیز کیا۔ ایک لکھاری بننا ان کا خواب تھا مگر وہ فکری، نظریاتی اور فلسفیانہ طور پر مغالطوں کا شکار تھے۔ وہ ایک تخلیقی تضاد میں مبتلا تھے۔ وہ لوگوں کے لیے ایک معلم بننا چاہتے تھے مگر یہاں بھی ایک مسئلہ تھا وہ سادہ، مضبوط اور عام فہم زبان میں لکھنے سے قاصر تھے۔ اس مشکل کا اظہار انھوں نے نانت کو لکھے گئے ایک خط میں یوں کیا:

”مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں عامیانہ سوچ بچار میں کیوں پڑ جاتا ہوں۔“ بالآخر ہیگل اس نتیجے پر پہنچے کہ فرینکفرٹ جیسا شہر وہ کچھ اپنے اندر نہیں رکھتا جس کی ان کو زندگی میں ضرورت ہے۔ چانچہ انھوں نے شیلنگ کو لکھا کہ وہ پیشہ ورانہ اور علمی مستقبل کے حوالے سے ان کی مدد کریں۔ بطور ایک رفیق دیرینہ شیلنگ نے ہیگل کو لکھا کہ وہ ”جینہ“ چلے آئیں۔ ہیگل نے شیلنگ کی نصیحت مان لی اور وہ ”جینہ“ جا کر شیلنگ کے ساتھ رہنے لگے۔

ہیگل جب جینہ پہنچے تو ان کو ایک بلا معاوضہ لیکچرر کی پیش کش ہوئی جہاں ان کی واحد مالی معاونت طلبا کی فیس تھی۔ اگرچہ وہ یونیورسٹی کے پروفیسر تو نہ تھے مگر ان کو مختلف پروفیسروں کے ساتھ عملی و فکری مکالمے اور مباحث میں شامل ہونے کا موقع ضرور میسر آ گیا۔ انھوں نے فلسفیوں اور پروفیسروں کے ساتھ علیک سلیک شروع کر دی جس سے ان کو اپنے نظریات وضع کرنے کی تحریک ملی۔ ان کا ’نظام فلسفہ‘ کا حامی پروفیسر بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا تھا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ’فلسفہ ٔ نظام‘ کسی جدید جامعہ کے مختلف شعبوں کو مجتمع کرنے کا نہ صرف ذریعہ تھا بلکہ ہر شے کا کسی نظام کے تحت کام کرنا جدید زندگی کی ایک مرکزی سرگرمی تھی۔

ہیگل کو اپنے فلسفے کے پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ وہ اپنے مسودوں کو درجنوں مرتبہ نئے سرے سے لکھتے تھے۔ 24 جون 1802 ء کو ہیگل نے اعلان کیا کہ وہ منطق اور مابعد الطبیعات پر ایک کتاب شائع کرنے جا رہے ہیں مگر ان کے مداحوں، شاگردوں، ساتھیوں اور ناقدین نے ان کی کتاب کا اس قدر انتظار کیا کہ تھکنے لگے۔ ہیگل اپنی نگارشات کو جس قدر بار بار لکھتے وہ اسی قدر پیچیدہ، دشوار اور نا قابل فہم بن جاتیں۔ بالآخر وہ نا امید ہو گئے کہ وہ کبھی کتاب کے مسؤدے کو حتمی شکل بھی دے پائیں گے۔

پنکارڈ نے لکھا: ”1804 ء میں ہیگل نے ’منطق، مابعد الطبیعات اور فطرت کا فلسفہ‘ کے عنوان سے مسؤدے کی ایک صاف نقل تحریر کی۔ یہ یقیناً اس کتاب کی بنیاد تھی جس کا وعدہ 1802 ء سے کیا جا رہا تھا۔ ساری کوشش کے باوجود وہ متعلقہ قارئین کو اس موضوع پر کتاب دینے میں ناکام ہو چکے تھے۔ انھوں نے مایوس ہو کر کتاب پر کام کرنا بند کر دیا۔ مگر فوراً ہی ایک اور مسؤدے پر غور کرنے لگ گئے۔ یونیورسٹی میں ہیگل جیسے جیسے مشہور ہوتے گئے ویسے ویسے اتنے ہی متنازعہ بھی ہوتے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک افسانوی کردار بننے لگے تھے۔ ان کی شخصیت اور فلسفہ دونوں متنازعہ بن گئے۔“

جو لوگ ان سے جینہ میں ملے ان کو ہیگل کے حوالے سے دو قسم کے تاثرات ملے : ’وہ کہیں پر تو بہت زیادہ سراہے گئے حتیٰ کہ ایک مثالی کردار بن گئے اور کہیں پر بہت زیادہ بے توقیر ہوئے۔ ‘

یونیورسٹی میں پڑھانا ہیگل کا خواب تھا اور جب یہ خواب پورا ہو گیا تو ان کو اپنی شہرت اور کامیابی کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ان کی کامیابی بھی دو جہتی تھی جہاں اس نے ہیگل کو بہت زیادہ پر جوش کیا وہاں کسی قدر مفلوج بھی کیا۔

آسکر وائلڈ نے کہا تھا: ”زندگی میں دو قسم کے المیے ہوتے ہیں، ایک المیہ یہ ہے کہ آپ کو زندگی میں وہ کچھ نہ مل سکے جس کی آپ خواہش کرتے ہیں اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ آپ کو وہ سب کچھ مل جائے جس کو حاصل کرنے کی آپ کو شدید خواہش رہی ہو۔“ ۔ (جاری ہے )

بحوالہ کتاب :CREATIVE MINORITY۔ DREAMS AND DILEMMAS
مصنف : ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments HS